اردو صحافت، مسلم شناخت کی سیاست اور نیشنلزم

سیمینار کے اس ذیلی موضوع پر احقر کو حکم ہوا کہ چند جملے بک دوں۔

 

از محمد سجاد
اردو یونی ورسٹی، حیدرآباد کے سہ روزہ سمینار (اردو صحافت کی دو صد سالہ تقریبات) میں عموما فاضل مقالہ نگاروں میں سے بیش تر یا تو ناصح بن جارہے تھے (یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح)، یا بے جا دفاعی رویہ اختیار کیا جا رہا تھا، اور بار بار دہرائ جا رہی تھی کہ حب الوطنی تو اردو صحافت کا طرہء امتیاز ہے۔
ناصح بن جانے والے حضرات (چند خواتین بھی) کا، خطیبانہ انداز میں، اعتراض، محض ہجے اور تلفظ تک محدود تھا۔ ایسے چند لوگوں کو ایسا لگ رہا تھا کہ ہجے اور تلفظ کے علاوہ اردو صحافت کے دیگر اہم مسائل ہیں ہی نہیں!
May be an image of 7 people, people standing, flower and indoor
ایسے میں خاک سار کچھ provoke سا ہو چلا تھا۔ اور خاک سار کو یہ عرض کرنا پڑا کہ ہجے اور تلفظ کا سوال تمام زبانوں کے لئے اہم ہے، گرچہ، اردو جاننے والی، ایک جرمن مؤرخ نے یہ بھی رائے دی ہے کہ اردو کے زوال کا ایک سبب شاید یہ بھی ہے کہ اہل اردو، ہجے اور تلفظ کے سوال پر نہایت ہی unforgiving ہیں۔
لہذا اس مختصر جملہء معترضہ کے بعد مخصوص ذیلی موضوع پر سامعین کی سمع خراشی شروع کی گئ۔

برطانوی عہد میں برطانوی حکومت کی مخالفت ہی راشٹرواد (نیشنلزم) تھا۔ راشٹرواد در اصل انہیں لوگوں کے لئے ہے جن کا راشٹر کی ستا(اقتدار) اور سمپتی(وسائل) میں مناسب حصہ داری ہے۔ وہ لوگ کون ہیں؟ کیا وہی ہیں، جن کی مذہبی یا لسانی شناخت ہے؟ کیا ان لوگوں کی دیگر شناختیں بھی ہو سکتی ہیں؟ کیا وہ کسان، صنعتی و زرعی مزدور، اور صنعت و حرفت کے ہنر مند دست کار بھی ہو سکتے ہیں؟ کیا ہمارے ملک میں، اردو آبادی کی شناخت صرف مسلمان ہونا ہے، یا وہ کسان، مزدور، چھوٹی تجارت، طالب علم، وغیرہ جیسی شناخت بھی رکھتی ہے؟ اگر اہل اردو کی شناخت مذہب کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے، تو، پھر اس پیشہ یا پہچان سے متعلق مسائل، اور آرزوؤں کو بھی articulate کیا جانا چاہئے، یا نہیں؟ کیا آزادی سے عین قبل اور آزادی کے بعد مخصوص اہم مسائل و مباحث پر اردو صحافت نے اپنی خاطر خواہ مداخلت کی ہے یا نہیں؟

اگر، آزادی کے بعد، اردو آبادی پر تقسیم کروانے کا الزام مقبول کروا دیا گیا، تو، مسلمانوں کی مسلم لیگ مخالفت والی تحریکوں کی جانکاریاں، اردو صحافت کے معرفت مقبول کیوں نہیں کروائیں گئیں۔ اس ضمن میں اردو تحریریں تو دستیاب تھیں۔ مثلا، طفیل احمد منگلوری کی کتاب، مسلمانوں کا روشن مستقبل، مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی کی کتاب، تحریک پاکستان پر ایک نظر، مولانا سجاد کی تحریریں، مولانا مدنی کی تحریریں، وغیرہ۔
اس کے بعد خاک سار نے دیگر باتیں بھی شئیر کیں۔ مثلا، آزادی سے فورا قبل امبیدکر کی کتاب، پاکستان یا تقسیم ہند، میں مسلمانوں (اردو آبادی) سے متعلق کئ provocative باتیں لکھی گئیں۔ اس پر اردو اخبارات کا رد عمل کیا تھا؟ آزادی کے فورا بعد، ہندو پرسنل لا اصلاحات پر 1946 سے 1961 کے درمیان طویل اور مفصل بحثیں چلیں۔ ان پر اردو اخبارات میں کیا لکھا جا رہا تھا۔

اور لوہیا کے سوالوں پر اردو صحافت کیا رد عمل دے رہی تھی؟

ایک مثال سے یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ 1960 کی دہائی میں جہاں ایک طرف پٹنہ کے ہندی اور انگریزی اخبارات، جہاں سیلاب، زرعی غربت اور تشدد، بھوک اور افلاس، اور ان سے متعلق فسادات، طلبا کی تحریکوں، وغیرہ، کو ترجیح دے رہے تھے، اور مسلم مخالف فرقہ وارانہ فسادات، حکومت کی سرد مہری، کریمینل جسٹس سسٹم کی مکمل ناکامی، وغیرہ، سے کوئ خاص سروکار نہیں تھا۔ وہیں دوسری طرف، پٹنہ کا مقبول ترین اردو اخبار، سنگم، مسلمانوں کے خلاف ہونے والے ظلم و تشدد اور حکومت کے مظالم اور سرد مہری کی تفصیلات تو پیش کر رہا تھا، لیکن متذکرہ دیگر مسائل کے تئیں، سنگم، کا سروکار، بہت کم تھا۔ ایسا کیوں؟

کیا کوسی اور باگھ متی ندیوں کے سیلاب سے متاثر ہونے والوں میں مسلمان یا اہل اردو نہیں تھے، جو، سنگم، بے اعتنائ برت رہا تھا؟ کیا فسادات کے مظلومین، مساوی حقوق و اختیارات رکھنے والے ملک کے شہری نہیں تھے، جو انگریزی اور ہندی اخبارات ان مسائل سے بے اعتنائ برت رہے تھے؟

اردو اخبارات صرف مذہبی شناخت کی باتیں کر کے، اردو آبادی کے دیگر (تعلیمی، اقتصادی) مسائل کی ترجمانی کرنے کے تقاضے سے بری الذمہ قرار دے دئیے جا سکتے ہیں؟
دیگر panelists نے ایک جواز یہ بھی دیا کہ اردو آبادی کو مسلک اور مذہب کا مواد ہی چاہئے، اس لئے اردو اخبارات وہی دیتے ہیں۔ اس پر خاک سار کا سوال یہ تھا کہ پھر تو بھگوائ نفرت کی مانگ پوری کرنے والی صحافت کو بھی یہی جواز مل جائے گا۔ کیا نفرت اور تشدد کے خلاف امن پسندی کی صحافت کا تریاق نہیں دیا جانا چاہئے؟ شناخت پرستی کی صحافت کو اپنی ترجیحات کے تعین پر نظر ثانی نہیں کرنی چاہئے؟

پھر خاک سار نے یہ یاد کرنے کی کوشش کی کہ جس طرح بنکم چندر چٹرجی کے ناول اور ان کی تحریریں بھارتی نیشنلزم کی ترقی میں معاون تھیں، اسی طرح حالی اور شبلی بھی مسلمانوں کے متوسط طبقہ کو حب الوطنی اور سماجی اصلاح پسندی کی تلقین کر رہے تھے۔ سرسید زراعتی مسائل پر بھی خوب لکھ رہے تھے، اور یہ کام، ٹیگور کی شری نیکیتن کے دیہی ترقی کے منصوبوں سے کافی قبل کر رہے تھے۔ کیا ان سرگرمیوں سے بھارتی نیشنلزم کو توانائ نہیں مل رہی تھی؟ کیا، مدینہ، بجنور، آزادی کے بعد، صرف شناخت کی سیاست کو توانائ فراہم کرنے والی صحافت کر رہی تھی؟

لب لباب یہ تھا کہ محض شناخت کی سیاست والی صحافت سے نہ تو ملک کا اور نہ ہی قوم کا بھلا ہو سکتا ہے۔ سیکولر جمہوریت کی توانائ، اور اکثریت پرستی کی سیاست کے غلبہ کی مزاحمت کے خلاف صف آراء ہونے کے لئے، اردو صحافت کو اقلیتوں کی شناخت کی سیاست کے obsession سے باہر آنا پڑے گا، اور ترجیحات کا ایک توازن قائم کرنا پڑے گا۔
ایسے چند سوالوں پر خاک سار نے اپنی باتیں رکھیں۔ سامعین میں سے کن کو کتنا اتفاق و اختلاف تھا، اس کے اظہار کا وقت نہیں تھا۔ ایسا (وقت ک تنگی و قلت)، اب، اکثر سیمیناروں میں ہوا کرتا ہے۔

بہ یک وقت چار چار سیشن چل رہے تھے، لہذا بڑی تعداد میں شرکت کے باوجود، سامعین، مختلف سیشن میں تقسیم ہو کر، سبھی سیشن میں، ان کی موجودگی نہایت خفیف تعداد ہی میں ہو پا رہی تھی۔

بہ حیثیت مجموعی یہ سیمینار بہت کامیاب تھا۔ اس کے لئے منتظمین مبارک باد کے مستحق ہیں۔

[نوٹ: مفصل تحریری مضمون، بہ زبان انگریزی، تقریبا مکمل ہو چکا ہے، جو عنقریب شائع ہوگا؛
اس کا کچھ حصہ فیس بک پر شئیر کیا تھا، 8 نومبر کو دو پوسٹ، ایک انگریزی اور ایک اردو میں، اور 4 نومبر کو ایک پوسٹ، اردو میں]
15 نومبر، 2022۔

 

0 comments

Leave a Reply