سیکولر پارٹیوں کا فکری انتشار سنگھ کے لیے راہ ہموار
خاندانی اور موروثی سیاست بادشاہت میں تو چل سکتی ہے
خاندانی اور موروثی سیاست بادشاہت میں تو چل سکتی ہے، جمہوری نظام میں زیادہ دیر نہیں ٹک سکتیپارٹیاں،تنظیمیں اور جماعتیں اس وقت تک زندہ رہتی ہیں جب تک وہ اپنے نظریات،مقاصد اور اصولوں پر کاربند رہتی ہیں۔زندگی میں بے اصولا پن فرد کے لیے بھی نقصان دہ ہوتا ہے اور جماعتوں کے لیے توزہر قاتل ہے۔ہندوستانی سیاست میں گزشتہ تین دہائیوں سے فکری انتشار کی کیفیت ہے۔جس نے ملک کی سیاست کا ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ایک طرف ملک معاشی سطح پر دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔دوسری طرف اس کی سالمیت خطرے میں ہے۔ایک طرف سرحدیں غیر محفوظ ہیں تو دوسری طرف باشندگان ملک میں مذہب کے نام پر عداوت کے بیج بوئے جارہے ہیں۔یہ صورت حال ملک کو عالمی طاقتوں کے سامنے سرنگوں کردے گی اور ملک جس نے حقیقی آزادی کا مزہ تک نہیں چکھا ایک بار پھر غلام ہوجائے گا۔ہندوستانی سیاست میں کانگریس قدیم پارٹی بھی ہے
اور بڑی پارٹی بھی۔جدو جہد آزادی میں اس کا اہم رول ہے۔غلام ہندوستان میں اس کا واحدمقصدآزادی تھا۔آزادی کے بعد اہل ملک کی ترقی و خوش حالی،ملک کا تحفظ،فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بقا،جمہوری اقدار کا استحکام وغیرہ اس کے ایجنڈے میں شامل تھے۔تقریباً پچیس سال یایوں کہئے 1975تک کانگریس ان نظریات اور مقاصد پر کاربند رہی،اس کا پھریرا پورے ملک پر لہراتا رہا۔مسز اندرا گاندھی گاؤں سے لے کر مرکز تک حکومت کرتی رہیں۔اس کے بعد آہستہ آہستہ کانگریس کا مقصد مخالفین کی سرکوبی ہوگیا۔اسی ضمن میں آپریشن بلیو اسٹار جو خالصتانی تحریک کو کچلنے کے لیے کیا گیا جس نے انجام کار مسز اندرا گاندھی کی جان لے لی۔یہیں سے کانگریس اور ہندوستانی سیاست اپنے ٹریک سے ہٹ گئی۔سکھ کانگریس سے
ناراض ہوگئے،جس کا فائدہ آگے چل کر سنگھ نے اٹھایا۔اندراگاندھی کے قتل پر سکھ مخالف فسادات نے سکھوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کردیا۔ہندو مسلم فسادات گاہے گاہے ہوتے ہی رہتے تھے،جس نے مسلمانوں کو ہر سطح پر کمزور کردیا تھا۔راجیوگاندھی ناتجربہ کار سیاست داں تھے۔انھیں ان کے مشیروں نے کٹھ پتلی بنادیا ایسے ایسے فیصلے کرائے جس نے پارٹی کو بھی کمزور کیا اور ملک کو بھی۔بابری مسجد کے تالے کھلوادئے،مندر کا شلا نیاس کرادیا،اس فیصلے نے پورے ملک میں کانگریس مخالف لہر پیدا کردی جس کے نتیجے میں علاقائی پارٹیاں پیدا ہوئیں اور کانگریس ایک ایک کرکے ریاستیں ہارتی رہی۔یہی وہ دور تھا جب سیاست میں علاقائی،لسانی اور مذہبی عصبیت نے پاؤں پسارے،اور جاتی واد کے نام پر الیکشن
میں ووٹ بٹورے گئے۔اتر پردیش میں لوہیا نظریات کے نام پر سماج وادی پارٹی،امیبیڈ کر کے نام پر بہوجن سماج پارٹی،چودھری چرن سنگھ کے نام پرلوک دل نے سیاسی اکھاڑے میں لنگوٹ کسی،بہار میں لالو کی بہار آگئی،تمل ناڈومیں کرونا ندھی اور جے للتا آندھرا پردیش میں این ٹی راما رائو،مہاراشٹر میں این سی پی،کرناٹک میں جے ڈی ایس نے سیکولرزم کا علم بلند کیاآسام،منی پوروغیرہ میں وہاں کی علاقائی پارٹیاں سامنے آئیں۔بیشتر پارٹیاں کانگریس سے ٹوٹ کر بنی تھیں۔کانگریس ٹوٹنے کی اصل وجہ داخلی طور پر جموریت کا فقدان تھا۔امن،انصاف،سماج واد کے نام پر تشکیل پانے والی پارٹیاں بھی رفتہ رفتہ سماج کے کسی ایک طبقے کی نمائندہ بن کر رہ گئیں،اپنے نظریات کو بالائے طاق رکھ کر حکومتیں بنانااور گرانا ان کا مقصد ہوگیا۔وہ کہاوت جو کبھی یوں تھی کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے بدل کر اس طرح ہوگئی کہ محبت اور سیاست میں سب جائز ہے۔راتوں رات پارٹیاں ٹوٹتیں اور حکومتیں گرجاتیں،رات کو ہی راج بھون کھلتا اور نئی حکومت کی حلف برداری ہوتی اور تو اور عدالتوں کے دروازے بھی امن و انصاف کی خاطر رات کو ہی کھل جاتے۔الغرض ہندوستانی سیاست کوٹھے کی طوائف بن کر رہ گئی۔کہیں سماج واد کا علم اٹھانے والے ملائم سنگھ نے بابری مسجد گرانے کے مجرم کلیان سنگھ سے ہاتھ ملالیا ،کہیں تلک ترازو اور تلوار،ان کو مارو جوتے چار کا نعرہ لگانے والی بی ایس پی بی جے پی کی گود میں بیٹھ گئی۔کہییں بغض معاویہ اور کہیں حب علی نے گٹھ بندھن کی سیاست کو فروغ دیا۔اس فکری انتشار اور مفاد پرستی کی سیاست کا بھر پور فائدہ سنگھ نے اٹھایا۔بی جے پی جو کبھی دو سیٹوں پر سمٹ چکی مرکز میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی۔پہلے تہرہ دن،پھر تہرہ مہینے،پھر پانچ سال سرکار
میں رہ کر اس نے اپنے نظریات کو وسعت دی،اس کے ممبران اسمبلی اور ممبران پالیمنٹ نے اپنے اپنے علاقوں میں سنگھی اقتدار اور نظریات کو فروغ دیا۔سنگھ نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے سمجھوتے کیے۔سماج میں اس کے تعلیمی اداروں کا جال پہلے سے موجود تھا۔اب طاقت اور اقتدار کے بعد اس نے تمام پالیسی ساز اداروں پر قبضہ کرلیا جس کا نتیجہ ہے کہ آج پوررا ملک زعفرانی ہوگیا ہے۔اب بی جے پی کا دیو ریاستی اور علاقائی پارٹیوں کو نگلنے والا ہے۔ملک پر ساٹھ سال راج کرنے والی کانگریس سیاست کا حاشیہ بن کر رہ گئی ہے۔موجودہ پارلیمنٹ میں اس کی اتنی سیٹیں بھی نہیں ہیں کہ حزب اختلاف کا موثر رول ادا کرسکے۔بہار اسمبلی میں اس کی ناقص کارکردگی نے اس کے وجود کو پھر موضوع بحث بنا دیا ہے۔کانگریس اور دیگر علاقائی پارٹیوں کی سب سے بڑی کمزور ی یہ ہے کہ ان کے یہاں داخلی طو رپر جمہوریت نہیں ہے۔خاندانی اور موروثی سیاست بادشاہت میں تو چل سکتی ہے، جمہوری نظام میں زیادہ دیرتک نہیں ٹک سکتی۔کیوں کہ پارٹی کی سینئر لیڈر شپ جب یہ دیکھتی ہے کہ باپ کے بعد بیٹا پارٹی کا مکھیا بن گیا ہے تو وہی حشر ہوتا ہے جو سماج وادی کا ہوا ہے۔پارٹی کی سینئر لیڈر شپ خودکو ٹھگا ہوا بھی محسوس کرتی ہے اور اپنی توہین بھی۔دوسری طرف سنگھ
اور بی جے پی نے نہ اپنے نظریات سے سمجھوتہ کیا،نہ اپنے مقصد کو فراموش کیا۔اس لیے وہ ہر دن آگے بڑھتے رہے۔سنگھ اوربی جے پی سیکولرزم پر یقین نہیں رکھتی تھیں اور جمہوریت کو اپنی راہ کی رکاوٹ سمجھتی تھیں۔اس کے باوجود انھوں نے اپنے داخلی نظام میں جمہوریت کو فروغ دیا۔اس کی دلیل یہ ہے کہ سنگھ کے سرسنگھ چالک کے انتخابات وقت کے ساتھ ہوتے رہے اور وہ بدلتے رہے،ہیڈگیوار،گوالوالکر،راجندرسنگھ یک بعد دیگرے سنچالک بنے ان سب میں آپس میں کوئی رشتے داری نہیں تھی۔اسی طرح بھارتیہ جنتا پارٹی کے منصب صدارت پر مختلف لوگ آئے۔ان میں کسی میں بھی کوئی خون یا دودھ کا رشتہ نہیں تھا۔بل کہ ان کے درمیان فکر،نظریہ،مقصد اورنصب العین مشترک تھا۔ان سب کی منزل ایک ہی تھی اس لیے جو بھی آپا اس نے تنظیم اور پارٹی کی گاڑی کو منزل کی سمت ہی چلایا۔کیا ہیڈ گیوار کے پریوار میں کوئی اس قابل نہیں تھا کہ سنچالک بن سکتا۔کیا اٹل,اڈوانی،،راج ناتھ اور امت شاہ کے خاندان میں کوئی ایسا فرد نہیں تھا کہ صدارت سنبھال سکتا۔نہرو پریوار میں ہی سارے باکمال لوگ پیدا ہوئے ہیں۔سماج وادی میں اکھلیش سے زیادہ عقل مند کوئی نہیں،راجد میں تیجسوی سے ہنرمند کوئی نہیں،چودھری چرن سنگھ کو بھی اوپر والے نے بیٹا اور پوتا باکمال دیے۔خیر مایا وتی جی نے تو شادی ہی نہیں کی ورنہ ان کے یہاں بھی کوئی باکمال فرد پیدا ہوتا۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان پارٹیوں نے سیاست کو بھی ورثے کی طرح خاندان میں تقسیم کیا۔جس کے سبب
ان کو زوال کا منھ دیکھنا پڑا۔ ہندوستانی سیاست میں اگر کسی پارٹی کو زندہ رہنا ہے اور کسی مقام پر پہنچنا ہے تو اسے دوکام لازمی کرنے ہوں گے۔ایک تو اسے اپنے نظریات،اپنی پالیسی،اپنے اصول اور اپنے مقصد کو واضح کرنا ہوگا۔ ۔ان پر ہر حال میں قائم رہنا ہوگا۔دوسرا کام یہ ہے کہ داخلی اور تنظیمی سطح پر جمہوری اقدار کی پاسداری کرنا ہوگی۔ان پارٹیوں کو سیکولرزم اور فرقہ پرستی و فسطائیت میں سے کسی ایک کو چننا ہوگا ۔گرم ہندتو اور نرم ہندتو کے درمیان ہچکولے کھانے والی کشتی کبھی ساحل پر نہیں پہنچ سکتی ہے ۔انٹر نیٹ اور ڈیجٹل انڈیا کے زمانے میں بے سمتی کا شکار سیاست زیادہ دن نہیں چلنے والی۔

0 comments