مسلم مجلس مشاورت ایک مرتبہ پھر انتشار کا شکار،ملت میں تشویش کی لہر
گھمسان کے بعد جنرل سکریٹری نے دیا استعفیٰ، نوید حامد نائب صدر مقرر، چہ می گوئیاں جاری

نئی دہلی : ( ایشیا ٹائمز نیوز ڈیسک ) گذشتہ کئی برسوں سے تنازع کا شکار ہندوستانی مسلمانوں کی موقرمشاورتی تنظیم آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ایک بار پھر افراتفری کا شکارہوگئی ہے، حالیہ تنازع میں تنظیم کے سیکریٹری جنرل سیدتحسین احمد نے 11 نومبر کو اچانک اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا ، ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکریٹری جنرل صدرمشاورت ایڈوکیٹ فیروزانصاری کے ایک فیصلے سے دل برداشتہ ہوکرسیکریٹری جنرل کی ذمے داری سے مستعفیٰ ہوگئے ہیں۔
کس بات پر ہوا تنازعہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر مشاورت نے بغیر کسی میٹنگ یا دیگر ذمہ داران سے مشورہ کیے بغیر ہی سابق صدر مشاورت کو نائب صدر بنا دیا۔
بتا دیں کہ حالیہ تنازع 29 ستمبر کی مجلس عاملہ کی اس میٹنگ میں شروع ہوا تھا جس میں نومنتخب کمیٹی نے اپنی کارگزاری رپورٹ پیش کی تھی، سابق صدرنوید حامد کی خواہش تھی کہ رپورٹ میں الیکشن سے قبل ریفرنڈم کے دوران ہوئے معاملات کا بھی تفصیلی ذکر شامل ہو اور پہلے اسے شامل بھی کیا گیا تھا، لیکن جس دن رپورٹ پیش کی گئی تو اس میں وہ صفحات غائب تھے اسے دیکھ کر سابق صدر نوید حامد قدرے ناراض ہوگئے اور بات بحث و مباحثے تک جا پہنچی۔

نوید حامد کیوں ہوئے تھے ناراض
نو منتخب کمیٹی کا کہنا تھا کہ ہم اپنے دور میں ہوئے کاموں کی رپورٹ پیش کریں گے، ماضی میں ہوئے تنازعات کا ذکر یہاں مناسب نہیں، نیز شام ہوتے ہوتے معاملہ اور بڑھتا گیا۔ بالآخر نوید حامد نارض ہوکر چلے گئے اور اگلے کچھ دنوں میں اپنا کمپیوٹر اور دیگر ساز وسامان بھی دفتر سے منگوالیا۔ اس واقعے کے بعد نوید حامد نے مشاورت کے دفتر آنا بھی بند کر دیا تھا۔ گویا ایک طرح سے تمام سرگرمیوں سے مکمل علیحدگی اختیار کر لی تھی، انھی سب وجوہات کے سبب وہ کولکاتہ اور آسام کے مشاورت کے پروگراموں میں بھی نہیں پہونچے ۔
اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ بنی سید تحسین کے استعفے کی اصل وجہ
ایشا ٹائمز کو ملی اطلاعات کے مطابق اس درمیان سیکریٹری جنرل نے صدر مشاورت ایڈوکیٹ فیروز انصاری کی اجازت سے ایک اور میٹنگ اسٹینڈنگ کمیٹی کی بلائی جس میں کئی نئے چہرے جو عام طور پرحالیہ میٹنگوں میں کبھی نظر نہیں آئے دکھائی دیے تھے، گویا یہ غیر فعال ممبران کو مشاورت سے قریب
لانے کی کوشش تھی۔ اس میں کئی ایسے چہرے تھے جو نوید حامد کو قطعی پسند نہیں تھے ۔
لیکن ناراضگی کے باوجود سابق صدر نوید حامد سے مستقل رابطے میں رہے اور مناتے رہے بالاخر انہیں نائب صدر بننے کے لیے راضی کر لیا ،جب یہ بات سیکریٹری جنرل کو پتہ چلی تو انہوں نے اعتراض کیا اور ان کے تقرر کے تعلق سے باہم مشاورت نہ کرنے پر ناراضگی ظاہر کی ۔

اس سلسلے میں مشاورت کے صدر ایڈوکیٹ فیروز انصاری سے بات کی تو انھوں نے کہا
"
میں اس وقت دہلی سے باہر حیدرآباد میں ہوں، مجھے ابھی استعفیٰ موصول نہیں ہوا ہے. ان کی پوسٹ سے پتہ چلا ہے کہ وہ نوید صاحب کو نائب صدر بنائے جانے سے ناراض ہیں. جبکہ یہی تحسین صاحب الیکشن کے بعد نوید صاحب کو ورکنگ پریسیڈنٹ بنانے کی بات کر رہے تھے،دیکھیے جب نئی عمارت بنتی ہے تو ایسی ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے لیکن کام نہی رکتا، میرا ان سے کوئی جھگڑا نہیں ہے، میں تو سب کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کر رہا ہوں اور ان سے بھی بات کروں گا
ایک بات اور جب کوئی تنظیم کام کرتی ہے آگے بڑھتی ہے تو اس میں صدر کا اہم رول ہوتا ہے، جن جن ریاستوں میں مشاورت کی تنظیم سازی ہوئی ہے اس میں میں پورے طور پر شامل رہا ہوں اس لیے کسی کا یہ سمجھنا کہ یہ ایک فرد کی وجہ سے ایسا نہیں ہے
"۔دلی پہونچ کر اس پر تفصیلی گفتگو ہوگی
ادھر دوسری جانب مستعفی سیکریٹری جنرل سید تحسین احمد کا کہنا تھا کہ
"
میرا نوید صاحب سے کوئی ذاتی اختلاف نہی ہے، نوید صاحب نے مجھے اپنے دور اقتدار میں متعدد بار سیکریٹری جنرل کا عہدہ آفر کیا لیکن میں نے قبول" نہیں کیا. اب ان کے ساتھ کام کرنا آسان نہیں ہے. وہ اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں شامل تمام ممبران کو اپنے ووٹر اور مخالف میں تقسیم کرکے دیکھ. رہے ہیں ، ان سے نہ جانے کس طرح کا خطرہ انہیں لاحق ہوگیا، جبکہ میرا مقصد ہے کہ سبھی لوگ ساتھ آئیں اور مل کر کام کریں
مجلس عاملہ کی میٹنگ جو 29 ستمبر کو ہوئی تھی اس میں پیش کی گئی رپورٹ پر نوید صاحب سخت ناراض ہو گئے تھے، وہ چاہتے تھے کہ اس میں ریفرنڈم کے دوران پیش آنے والے معاملات کا بھی ذکر آئے ہم نے صدر مشاورت کے مشورے سے طے کیا کہ ہم صرف اپنے میقات سے متعلق کارکردگی رپورٹ پیش کریں گے. اس پر انہوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور یہ کہتے ہوئے اٹھ کر چلے گئے کہ 'میں مشاورت کی بلڈنگ میں آگ لگا دوں گا
حیرت کی بات یہ ہے کہ نوید صاحب کو نائب صدر بنانے جانے کا کوئی مشورہ صدر مشاورت نے نہیں کیا
دس نومبرکو صدر مشاورت ایڈوکیٹ فیروز انصاری صاحب کا فون آیا کہ میں نوید صاحب کو دفتر لا رہا ہوں، میں نے کہا میں اب ان کے ساتھ کام کرنے میں کمفرٹ نہیں ہوں، لہذا میں مستتعفی ہو رہا ہوں "۔
بے حد افسوس کا مقام ہے
بے حد افسوس کا مقام ہے کہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت گزشتہ چند برس سے اپنے کاموں سے نہیں بلکہ تنازعات کی وجہ سے چرچا میں رہی ہے ، نوید حامد کا دستور میں ترمیم کا ریفرنڈم والے قدم نے جماعت اسلامی ہند کو مشاورت سے کوسوں دور کردیا ، انہوں نے ایک جھٹکے میں کئی اہم لوگوں ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں، مفتی عطا الرحمان قاسمی ،کمال فاروقی ،معصوم مرادآبادی اور ایسے ہی امت کی بیشترمعتبر اور نامور شخصیات کو مشاورت سے نکال دیا تھا جس پر بہت ہنگامہ ہوا ۔ جبکہ ایک وقت ایسا بھی تھا نوید حامد اپنی گفتگو میں اکثر یہ بات کہتے دیکھے جاتے تھے کہ 'جماعت اسلامی ہند مشاورت کی ریڑھ کی ہڈی ہے '۔ لیکن بعد کے دنوں میں یہ کہتے دیکھے گئے کہ 'ہم نے 'مشاورت' کو' جماعت اسلامی ہند' کے اثر سے آزاد کرا لیا ہے' ۔
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت
واضح رہے کہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (اے آئی ایم ایم ایم یا ایم ایم ایم) ہندوستان میں مختلف مسلم تنظیموں کا ایک فیڈریشن ہے۔ مجلس مشاورت کا باقاعدہ آغاز 1964ء میں اسلامی مدرسہ دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں دو روزہ (8-9 اگست) کے اجلاس میں ہوا۔ جس میں ہندوستان کی متعدد معروف مسلم علما اور دانشوروں نے شرکت کی تھی۔ جس میں بطور خاص مفتی عتیق الرحمن عثمانی، مولانا ابو اللیث اصلاحی، مولانا محمد طیب قاسمی، مولانا کلب عابد، مولانا منت اللہ رحمانی، مولانا محمد مسلم، جان محمد اور ابراہیم سلیمان سیٹھ شامل تھے۔ جس میں مجاہدِ آزادی اور جواہر لال نہرو کی کابینہ کے رکن ڈاکٹر سید محمود کو پہلے صدر کے طور پر منتخب ہوئے تھے۔ یہ 1960ء کی دہائی کے اوائل میں فرقہ وارانہ فسادات کے تناظر میں ایک وکالت گروپ کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔
آئی ایم ایم ایم کی مساوی انصاف کے حصول کی جدوجہد میں ہندو مسلم اتحاد کے لیے اپنے مذہبی اور قانونی حقوق کا دفاع کرنے اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام کی ایک طویل تاریخ ہے۔ 1967ء میں اپنے اقلیتی کردار کی بحالی کے لیے "اے ایم یو ایکشن کمیٹی" بابری مسجد کے لیے جدوجہد میں "بابری مسجد رابطہ کمیٹی" تشکیل دینے اور فرقہ وارانہ تنازعات والے علاقوں تک پہنچنے اور اپنے محدود وسائل کے ساتھ متاثرین کی مدد کرنے میں اس مجلس کی اپنی ایک تاریخ ہے۔

A H Khan
افسوسناک صورتحال ہے ۔ مشاورت کو مزید انتشار سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ نوید حامد سے مشاورت کو نجات دلائی ہے ۔ کچھ ملت مخالف عناصر کا یہ آلہ کار جب سے اس تنظیم میں گھسا ہے ، یہ تنظیم خلفشار کا ہی شکار رہی ہے ۔ آپ نے اس خبر میں جن اہم شخصیات کے مشاورت سے بے دخل کیے جانے کا ذکر کیا ہے، انُکے رہتے ہوئے اس بونےکو اپنی فتنہ گری میں دشواری ہو رہی تھی ۔ جو لوگ اس وقت اس کے ساتھ لگے ہوئے ہیں انھیں سوچنا چاہیے کہ وہ ایک ملی تنظیم کی بیخ کنی میں میں کسی کا ساتھ فے کر اپنا ہی نامہ اعمال سیاہ کر ہے ہیں ۔ .