کچھ اس طرح یاد کیے گئے علامہ یوسف القرضاوی

رضوان رفیقی – نئی دہلی


وہ ، جسے علم وعمل ، فکر و آگہی میں امامت کا درجہ حاصل تھا 
وہ  ، جو وسطیت کا علم بردار تھا اور راہ اعتدال کا راہ رو 
وہ ، جس کے سامنے امت کی کم ازکم تین  نسلوں نے زانوئے تلمذ تہ کیا  
وہ ، جس کی کتابوں نے مغربی اذہان کو معمور کیا اور مشرقی اذہان کو مسحور  
وہ ، جس نےقرآن و حدیث  فکر وفلسفہ ، فقہ و فتاوی ، سیر وتاریخ کے میدان  میں بیش بہا خزانہ چھوڑا 
وہ ، جو طاغوت کے سامنے سینہ سپر ہو کر کھڑا رہا ، اور زندگی بھر  باطل کی آنکھوں کا کانٹا بنا رہا 
وہ  ، جس نے موجودہ دور میں امام احمد بن حنبل ، غزالی  و ابن تیمیہ کی یادتازہ کردی  
وہ ، جس نے زمانے کے سرد و گرم سہے ، اور اس نے اس کی صلابت میں اضافہ ہی کیا  
وہ ، جو فتن و آزمائش کے زمانے میں بیاباں کی شب تاریک  میں مثل قندیل رہبانی رہنمائی کرتا رہا  
وہ ، جس نے ترغیب و ترہیب کے ہر ہتھ کھنڈے کو اپنی جوتی کی نوک پررکھا 
وہ ، جس نے  اجتہاد کیا ، خوب اجتہاد کیا، اپنے اجتہادات میں صحیح نتیجے تک پہونچا ، مگر وہ معصوم عن الخطا  نہیں تھا ، اس لیے اپنی لغزشوں پر  اپنی اصلاح بھی کی اور معذرت بھی پیش کی 

اے مرد حر!  اللہ تجھ سے راضی ہو ! تجھے اپنی جنتوں کا مکین بنائے 

0 comments

Leave a Reply