پاکستانی پروفیسر سلیم منصورخالد سے 'ایشیا ٹائمز' کی خاص بات چیت

 

پاکستانی پروفیسر سلیم منصورخالد  سے 'ایشیا ٹائمز' کی خاص بات چیت

پاکستانی پروفیسر سلیم  منصورخالد  نے 'ایشیا ٹائمز' سے خاص بات چیت  میں ہندوستان کے تعلیمی اداروں کےنظام اور ریسرچ کی تعریف کی، کہا ؛ ہندوستان اس پورے خطے میں  قائدانہ رول کا درجہ رکھتا ہے

 پروفیسر سلیم منصورخالد  پاکستان کے اسلامی اسکالر و معروف تجزیہ نگار ہیں، ملکی و بین الاقوامی امور و مسائل کے حل میں اپنی مدلل رائے رکھتے ہیں ، تحریکات اسلامی پر ان کی گہری نظر ہے ، پاکستان کے معروف اشاعتی ادارے 'منشورات لاھور' کی انتظامیہ سے وابستہ ہیں ،گزشتہ دنوں دہلی میں منعقد عالمی کتاب ملیے میں شرکت کے لیے اپنی ٹیم کے ساتھ دہلی تشریف لائے تھے ۔ ان کے دہلی قیام کے دوران "اشرف علی بستوی"  نے "ایشیا ٹائمز" کے لیے ان سے  یہ خصوصی گفتگو کی ، بحیثیت تجزیہ نگار یہ جاننے کی کوشش کی  کہ ہندو پاک کے مابین تعلقات میں بہتری کے امکانات  کی راہیں کیا ہیں ؟ دونوں پڑوسیوں کے درمیان عدم اعتماد کا تدارک کیسے ممکن ہے ؟ آخر کیا وجہ ہے کہ دونوں ملک اپنے دیرینہ تنازعات حل کر نے میں ناکام ہیں؟ ہندوستان کی معاشی سماجی اور تعلیمی  ترقی کے بارے میں ان کے احساسات کیا ہیں؟  بحیثیت اسلامی اسکالر  ان سے یہ جاننے کی کوشش کی  کہ موجودہ دور میں تحریک اسلامی کوکن کن چیلنجوں سامنا ہے ، مولانا مودودی کے تصور دین کو کس قدر قبولیت حاصل ہو سکی ہے ؟

سوال : سر زمین ہند پر آپ  کا دلی خیر مقدم ہے ، آپ کا مکمل تعارف اور آپ کے پسندیدہ موضوعات کیا ہیں ، کس غرض سے ہندوستان آنا ہوا ؟

جواب : میں پنجاب یو نیورسٹی میں پنجا بی زبان کا پروفیسر رہا ہوں  اس سے قبل دس برس تک گورنمنٹ کا لیج  میں تدریسی خدمات انجام دی ہیں ،میرا پسندیدہ موضوع تعلیم ،معاشرہ ،تاریخ، اسلامی تحریکات ، مشرق وسطیٰ  رہا ہے بین الاقوامی مسائل کو حل کر نے کی راہیں تلاش کر نا  ہے۔ یہ میرا ہندوستان کا تیسرا سفر ہے پہلا 2006 میں دوسرا 2015 میں اور ان 2016 میں میرا یہاں آنا 'نیشنل بک ٹرسٹ آف انڈیا ' کی دعوت پرعالمی کتاب میلے میں منشورات پبلکیشن لاہور کے نمائندے کی حیثیت سے آنا ہوا ہے ،البتہ  ویزا دیر سے ملنے کی وجہ سے اس بار پہونچنے میں ذرا تاخیر ہوئی کیونکہ ہم تک دعوت نامہ ہی دیر سے پہونچا ۔

سوال: تجارتی لحاظ سے میلہ کیسا رہا ، موضوعات کے اعتبار سے یہاں کس طرخ کی کتب کی زیادہ ڈیمانڈ رہی ، میلے میں شرکت کے علاوہ آپ نے یہاں کی اور کن کن چیزوں سے استفادہ  کیا ؟

جواب : تجارتی لحاط سے تو ہمیں میلے میں شرکت سے بہت زیادہ فائدہ نہیں ملتا البتہ یہاں کے علم دوست لوگوں کو ہمارا انتظار ہوتا ہے،  ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ان تک پہونچیں ۔ یہاں خاص طور سے دینی، تحریکی ،سماجی  اور تدریسی کتابیں زیادہ فروخت ہوتی ہیں اس کے علاوہ مجلاتی یا موضوعاتی  انسائیکلو پیڈیا اور سوانحی کتب کی بھی زیادہ ڈیمانڈ ہوتی ہے۔   میلے میں شرکت کے بہانے ہندوستانی سوسائٹی کو قریب سے دیکھنے سمجھنے اور یہاں کے تعلیم یافتہ لوگوں سے ملنے اور ان کی تحقیقات سے استفادہ کا موقع ملتا ہے ،یہ چیزیں ہمیں وہاں بیٹھے بٹھائے نہیں مل سکتیں ، ہندوستان کے تعلیمی اور تحقیقی ادارے  کئی حوالوں سے ہمارے اداروں سے زیادہ بہتر انداز میں کام کر رہے ہیں ، کچھ چیزوں میں وہاں کے کچھ ادارے اچھا کام کر رہے ہیں ،لیکن یہاں کے تعلیمی اداروں کا نظام  ،ریسرچ اور پروڈکشن  اس پورے خطے میں  قائدانہ رول رکھتے ہیں۔

سوال: آپ عالمی امورو مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں ان کے حل میں دلچسپی رکھتے ہیں آپ کے نزدیک  ہند وستان اور پاکستان کے درمیان جاری تنازعات کا حل کیا ہے ؟

جواب : یقینا ہندوستان  اور پاکستان کے درمیان تعلقات  کی کشیدگی  بڑا مسئلہ ہے ، اس سے دونوں جانب کے لوگ متاثر ہو رہے ہیں ، دونوں ملکوں کی ترقی پر بھی ضرب پڑتی ہے ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اگست 1947 میں تقسیم کے وقت دونوں ملکوں کے بانیان کے وعدوں اور خوابوں کے مطابق تو صورت حال ایسی ہونی چاہیے تھی کہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ اور برادرانہ ماحول میں رہتے ۔ باہم لین دین کا سلسلہ بھی چلتا رہتا۔  لیکن جب تقسیم کے بنیادی  دستاویزات کی روح کے مطابق عمل نہیں ہوا تو اس سے مسائل پیدا ہوئے ۔  جب یہ مسائل عالمی فورم تک گئے تو وہاں بھی وعدے پورے نہیں ہوئے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ انگریزوں سے ہمیں  آزادی کسی لڑائی یا دنگے فساد سے نہیں ملی تھی  بلکہ قانونی انداز سے افہام تفہیم کے بعد بات چیت کی میز پر بیٹھ کر ہوئی ،اسی لیے ہمارا ماننا ہے کہ اس میں جو پیچدگیاں پیدا ہو گئی ہیں انہیں بھی لڑائی جھگڑے سے نہیں بلکہ مکالمے سے ہی حل کیا جانا چاہئے۔

سوال: دونوں ملکوں کے درمیان مسائل کے حل میں کیا باتیں روکاوٹ بن کر کھڑی ہوجاتی ہیں ؟

جواب : جب کسی بھی جانب سے مکالمہ صرف وقت گذارنے کے لیے ہوگا تو مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا بلکہ اس کی قیمت دونوں ملکوں کے کروڑوں انسانوں کو دینی پڑے گی اور یہاں بھی یہی ہو رہا ہے  ، دیکھیں ابتک یہی ہوا ہے عوام کے لیے فلاحی کاموں پر پیسے نہ لگ کرسارے پیسے امریکہ اور یوروپ کی اسلحہ فیکٹریوں کے خاطے میں گئے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ یہاں کے حالات  ٹھیک نہیں ہو سکے ہیں ۔ مسئلے کا حل تو بس یہی ہے کہ جس طرح انگرزوں سے آزادی ملی ہے  اور جن بنیادوں پر تقسیم کے فیصلے ہوئے تھے ان کی روح کے مطابق نافذ  کیا جائے۔  اور ہم نے عالمی سطح پر ایک دوسرے سے جو وعدے کیے ہیں ان پر عمل کریں  ۔ دونو ں جانب  کی لیڈرشپ اپنے اندر وفائے عہد کی ہمت پیدا کریں جب تک  ایسا نہیں ہوگا معاملہ یوں ہی تعطل کا شکار رہے گا اور دونوں ملکوں کے عوام کی گاڑہی کمائی پیسے سے مغرب کے اسلحے خانے آباد رہیں گے ۔

سوال: تحریکات اسلا می کا مطالعہ بھی آپ کا پسندیدہ موضوع ہے دنیا بھر کی تحریکات پر گہری نظر رکھتے ہیں  آپ کے نزدیک مولانا مودودی علیہ الرحمہ  کی تحریک  اس وقت کس  مرحلے میں ہے ، کامیابی کا فیصد کیا  ہے؟ 

 جواب : جہاں تک مولا نا مودودی کی فکر کا تعلق ہے جو لوگ تاریخ کا رخ موڑتے ہیں ان کے سامنے بہت ساری چیزیں ہوتی ہیں ، بہت سے چیزیں پیش کرتے ہیں تاریخ میں کبھی کبھی بھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ ان کے تمام  تصورات اور ان کی رہنمائی پر پچاس فیصد بھی عمل ہوا ہو ،  لیکن ہاں وہ ایک ایسا راستہ ضرور دیکھا دیتے ہیں جس سے نئی راہیں کھل جاتی ہیں اور ان پر لوگ چل پڑتے ہیں ۔ مولانا مودودی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے مولانا مودودی سے قبل دین کو مسجد کی چہار دیواری میں محصور کر دیا گیا تھا دین کا تصور بہت محدود تھا ، اس وقت  جب تحریک ، اسلامی ریاست  ،اسلامی نظام ، حکومت الہیہ جیسی باتیں کہی جاتی تھیں تو اس وقت کے علما یہ کہتے تھے کہ ان باتوں میں کوئی ربط نہیں ہے اب وہی ساری باتیں تمام حلقوں نے اپنایا ہے اس وقت اس طرح کی باتیں نقار خانے میں طوطی کی آواز تھی ۔ جماعت اسلامی کی فکر کی قبولیت بڑہی ہے دوسرےحلقوں نے بھی اس فکر کو اپنے طریقے سے اختیار کیا ہے ۔ لیکن ظاہر ہے تمام لوگ اگر اسی صورت میں تسلیم کر لیں جماعت کا حصہ بن جائیں گے، اس لیے  ہر ایک نے اپنے تحفظات اور ضرورتوں کے پیش نظر مولانا مودودی  کی فکر کو اپنا یا ہے، مولانا مودودی کی فکر نے پوری دنیا پر اپنا اثر ڈالا ہے۔

سوال: مولانا مودودی کا تصور دین کیا ہے ، ان کے  نزدیک تحریک سے وابستگی کے لیے کیا ایک فرد کا جماعت کی رکنیت اختیار ضروری ہے ؟

جواب : مولانا کے پیش نظر رکن بننا اس لیے ضروری تھا کہ ایک ایسا ںطام موجود ہو جو سبھی کو ساتھ لیکر چل سکے ،لیکن رکن بننے کے لیے انہوں نے کبھی کسی پر زور نہیں دیا ، ان کے  نزدیک ایسا نہیں تھا کہ رکن کوئی خاص مسلمان ہیں اور جو رکن نہیں ہیں وہ عام مسلمان ہیں ۔ مولانا مودودی کے یہاں زور اس بات پر ہے کہ ہر شخص کو مقصد زندگی معلوم ہو نی چاہیے  وہ دین کے مطابق زندگی گذارے  ۔ مولانا کہتے ہیں کہ اپنی روز مرہ کی زندگی میں دین اختیار کرو وہ کہتے ہیں کہ اگرآپ  کاروبار بھی کرتے ہیں تو وہ بھی دین کا ہی کام ہے ۔ ان کے نزدیک آخرت میں  جوابدہی کے احساس کے ساتھ اگر آپ سڑک بھی تعمیر کر رہے ہیں تو یہ بھی دین ہے ۔  دین ایک خاص وضع قطع کے ساتھ گوشہ نشینی اختیار کرنے کا نام نہیں ہے۔ مولانا مودودی سے قبل تک دین کا یہ تصور نہیں تھا  ۔ مولانا نے یہ بھی کہا تھا کہ ہمارے درمیان کوئی مقدس نہیں کسی شخص کے معاملات ، مالیات اور اس کے کردار پر سوال اٹھا سکتے ہیں کوئی اس سے مستثنی نہیں ہے  ۔ جو آج بھی  بہت سے دینی حلقوں میں نہیں ہے ۔

سوال: تحریک اسلامی  ابتک اپنے اصل مقصد کے حصول میں کتنا کامیاب رہی ؟ جماعت اسلامی  ہند ، جماعت اسلامی پاکستان اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش میں باہم کیا تعلق ہے؟

جواب : اگر کوئی اس اعتبار سے دیکھے کہ مولانا نے اسلامی ریاست قائم کرکے اس کے خلیفہ نہیں بنے تو ناکام ہو گئے ایسا نہیں ہے ۔ انہیں روز اول سے پتہ تھا کہ ہم جو کام کر رہے ہیں یہ کھجور کا درخت لگانے کے مانند ہے ۔ پتہ نہیں کون سی نسل کو کھجور نصیب ہوگی لیکن ہم درخت  تو لگائیں انہیں اسلامی حکومت کے قیام کی کوئی جلدی نہیں تھی ، ان کی فکر دھیرے دھیرے پروان چڑھ رہی ہے ۔  تینوں ملک میں جماعت کا تنظیمی ،دستور ی اور مالی اعتبار سے اور فیصلہ سازی کے اعتبار سے کوئی تعلق نہیں ہے ، تینوں جگہوں کے حالات مختلف ہیں ،چیلنج مختلف ہے تینوں جگہوں پر وہاں کے حالات و  مسائل کے اعتبار سے راستہ بنا کر اپنا اپنا کام کر رہی ہیں ، پاکستان مین مسلم اکثریت ہے لیکن وہاں اور طرح کے حالات ہیں ،ہندوستان میں مسلمان دوسری اکثریت ہیں ،اسیطرح بنگلہ دیش میں اور صورت حال ہے ۔

نوٹ :- قارئین , آپ کو یہ انٹر ویو کیسا لگا ہم تک اپنی آرا پہونچائیں ، ہمیں آپ کے قیمتی مشوروں کا ہمیشہ انتظار رہے گا 

 

0 comments

Leave a Reply