اشتعال انگیزی سے گریز،وقت کا تقاضہ
سنجیدگی و معاملہ فہمی کے بغیر کوئی مثبت وتعمیری کام انجام نہیں دیا جاسکتا ہے، اشتعال انگیزی سے سماج کو بہت نقصان پہنچاہے
عمیرکوٹی ندوی
کرناٹک کے ضلع شموگامیں ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے صدر دروازے کے سامنے ایک مسلم نوجوان کے اذان دینے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ موقع بی جے پی لیڈر اور ریاست کے سابق وزیرکے ایس ایشورپا کی اذان کو لاؤڈ اسپیکر پر دینے پر حالیہ تنقید کے خلاف احتجاج درج کرانے کا تھا۔ احتجاج جمہوریت کا اہم ترین رکن اور جمہوری ملک کے شہریوں کے بنیادی حقوق میں سے ایک ہے۔ کسی بھی مسئلہ میں ، کسی بھی فیصلہ پر، کسی بھی اقدام پراس سے عدم اتفاق یا متاثر ہونے کی صورت میں سبھی لوگ احتجاج کرنے کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اس میں کوئی بری بات نہیں ، آئین اور دستور اس کا حق دیتے ہیں۔ اسی حق کے مطابق لوگ اپنا احتجاج درج کرانے وہاں پہنچے تھے۔ پر کیا ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے سامنے اذان دینا بھی احتجاج کا حصہ تھا اور پہلے سے طے شدہ تھا۔ احوال وکوائف سے توپتا چلتا ہے کہ ایسا نہیں تھا لیکن پھر بھی ایسا ہوا پر کیوں؟۔ اصل سوال یہی ہے۔ اس لئے کہ اس کے بعد احتجاج احتجاج نہیں رہتا بلکہ یہاں سے نکل کر وہ اشتعال کی دہلیز میں داخل ہوجاتا ہے۔ احتجاج اور اشتعال کے درمیان ایک بہت باریک لکیر ہے جس کو پار کرتے ہی بات کہیں سے کہیں نکل جاتی ہے۔
اس معاملہ میں بھی یہی ہوا، اشتعال انگیزی کی دہلیز کو چھوتے ہی ریاست کے سابق وزیرکے ایس ایشورپا نے سپریم کورٹ کے رہنما اصولوں کی خلاف ورزی کئے جانے کی بات کہہ دی۔ بات سے بات بڑھانے اور کہیں اورپہنچانے کی بھی کوشش کرڈالی۔ انہوں نے اس عمل کو ملک سے غداری’دیش دروہ‘ قرارد یدیا۔ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزیر داخلہ کو خط لکھنے کی بھی بات کہہ دی۔ اس پہلو کو بھی نمایاں کرنے کی کوشش کی کہ اذان دینے والا نوجوان سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) سے وابستہ ہے۔ یہ بھی کہہ دیاکہ اس نے اعلان کیا ہے کہ وہ ودھان سبھا کے احاطے میں اذان دے گا۔ یہ بھی کہہ دیا کہ ’یہ لوگ اللہ کی توہین کر رہے ہیں‘۔ یہ تو بیانات، الزامات اور باتیں ہیں۔ عمل نے بھی اپنا کام شروع کردیا۔ اذان دینے والے نوجوان کے خلاف انتظامیہ حرکت میں آگئی۔ پولیس نے اذان دینے پراعتراض کیا۔ پولیس نے نوجوان کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ۱۰۷ کے تحت معاملہ درج کیا، یہ بات الگ ہے کہ اسے وارننگ دے کر ضمانت دے دی گئی۔ اس معاملہ میں مقامی سطح پر معاشرہ کے سنجیدہ اور معاملہ فہم لوگ سامنے آئے، انہوں نے حالات کو پرسکون کیا۔
معاشرہ میں کچھ ہی لوگ سنجیدہ اور معاملہ فہم نہ ہوں بلکہ پورا معاشرہ ان صفات اور خوبیوں کا حامل ہو یہ وقت کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر نہ تو کوئی کردار بن سکتا ہے اور نہ ہی کوئی مثبت وتعمیری کام انجام دیا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس اشتعال انگیزی کو اپنے دامن میں چھپائے رکھنے کے نتیجہ میں سماج نے بڑا نقصان اٹھایا ہے۔ سرسری طور پر ملک کی آزادی کی تحریک کے دوران اور اس کے بعد سے لے کر اب تک کی روش پر محض نظر ڈال لینے سے ہی اس حقیقت کو آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔ معاملہ کوئی بھی ہو،کہیں بھی ہو اور کبھی بھی ہو، چند باتیں اور چیزیں ہیں جو بڑے سے بڑے کام اور مشن کو تباہ و برباد کرتی آئی ہیں اور آج بھی کر رہی ہیں۔ لمحوں کی خطا صدیوں کی سزا کا پیش خیمہ بنتی ہے اورکسی ایک کی خطا ایک بڑی تعداد اور بسا اوقات پوری قوم کو آزمائش سے دوچار کردیتی ہے۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ اشتعال انگیزی کے ظہورکی خطا ایک بار نہیں بار بار ہوتی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ انسانوں کو پیدا کرنے والے کی طرف بلانے اور اس کے لئے نماز جیسے اہم فریضہ کی ادائیگی کی دعوت دینے کا اذان ایک بہت ہی عمدہ اور پیارا طریقہ ہے۔
دنیا اذان کا بدل پیش کرنے سے چودہ سو برس بعد بھی عاجز ہے۔ لیکن کیا صرف اس لئے کہ کسی نے اپنی زبان سے کچھ کہہ دیا اس پر مشتعل ہو کر کلمۂ حق کو غلط موقع اور غلط جگہ پر ادا کرنا کسی بھی اعتبار سے درست قرار دیا جاسکتا ہے؟۔ اور کیا یہ عمل اس زمرے میں نہیں آئے گا کہ کلمۂ حق سے کوئی باطل غرض وابستہ ہوجائے یا کرلی جائے۔ پھر ایسا کر کے کون سا کردار پیش کیا جائے گا یا کس طرح کا کردار بنے گا، اور پھراس کے ذریعہ کیا کوئی مثبت وتعمیری کام انجام دیا جاسکے گا؟۔ یا پھر وہی ہوگا جس کا مشاہدہ ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے کہ نکلتے ہیں ایک اچھے کام کے لئے اور راستہ میں کوئی اکسا دیتا ہے، مشتعل کردیتا ہے تو بات پہنچ جاتی ہے اشتعال انگیزی تک۔ اس وقت پورے ملک کی سیاست جس انداز سے آگے بڑھ رہی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ کئی برس ہوئے انتخابی سیاست کی جو دیغ چولھے پر چڑھی تھی وہ آج تک چڑھی ہوئی ہے۔اس کے لئےمطلوب ایندھن بھی ایک ہی طرح کا استعمال ہو رہا ہے۔
اس وقت پھر کرناٹک میں انتخابی سیاست کی دیغ چولہے پر چڑھ چکی ہے۔ اسے پکانے کے لئے کوشش کی جارہی ہے کہ آگ کی لو تیز سے تیز کی جائے، لیکن یہ کوشش کامیاب ہوتی ہوئی نظر نہیں رہی ہے۔ میڈیا رپورٹ اور سیاسی تجزیہ میں جو بات سامنے آرہی ہے وہ یہ کہ اس بار لوگوں کی سانسیں پھولی ہوئی ہیں۔ انہیں اپنی کامیابی کے تعلق سے بہت زیادہ اندیشے ہیں۔ ایک بار پھر انہیں اسی ایندھن کی شدید ضرورت محسوس ہورہی ہے جسے ایک عرصہ سے جلا کر وہ اپنی سیاسی ڈش پکاتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تقریبا ایک برس سے کرناٹک میں نفرت کی آگ کو ہوا دی جارہی ہے۔ ادھر کے چند دنوں میں تو اس نے اور بھی شدت اختیار کرلی ہے۔ مدارس کو نشانہ بنانے، ان کی ایک تعداد کو بند کردینے اور تمام مدارس کو بند کردینے کے عزائم کا برملا اظہار کردینے کے پیچھے یہی کوشش ہے۔ شادی کی مقررہ عمر سے مبینہ طور پر پہلے کی گئی شادیوں میں خاص طور پر مسلم معاشرہ کو نشانہ بنانے اور نوعمر بچوں اور افراد کو سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کی کڑیاں بھی اسی سے ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ اذان کے مسئلہ کو شدومد اور نئے رنگ وآہن کے ساتھ اٹھانا بھی اسی کوشش کا حصہ ہے۔
پوری انتخابی سیاست کے مسلمانوں کے ارد گرد گھومنے،مسلمانوں کو ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کی روش مسلمانوں کی طرف ان کی توجہ کو تو بتا ہی رہی ہے۔ اسی کے ساتھ مسلمانوں کے ارد گرد گھومتی انتخابی سیاست خود مسلمانوں کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنے اور اپنا احتساب کرنے کا بہت عمدہ موقع فراہم کر رہی ہے۔ بتا رہی ہے کہ مسلمان بار بار ایندھن بنائے جانے اور اشتعال انگیزی میں آکر ایندھن بن جانے کی روش کو بدل دیں۔ موجودہ صورت حال تعمیری اور مثبت کردار سازی کی طرف توجہ دینے اور اپنے اس کردار کو ملک کے مفاد میں پیش کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
اس لئے کہ سماج کو ایمانداری، سچائی، ہمدردی، ایک دوسرے کی مدد، ایک دوسرے سے محبت کی ضرورت ہے۔ ضرورت ایک ایسے کردار کی ہے جو لوگوں کے کام آئے۔ ان کے کندھوں سے بوجھ کو ہلکا کرے۔ ایک ایسا کردار جو نفع اور نقصان نہ دیکھے بلکہ نقصان ہونے پر بھی سچ بولے۔ اس پر نظر پڑے تو لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ آجائے۔ یہ کردار نہ کسی خوف کا شکار ہو اور نہ مخالف حالات میں اس پر مایوسی طاری ہو، نہ یہ حالات کو اپنا مخالف پاکر خود بھڑکے اور نہ ہی کوئی اور اسے کسی بھی طرح سے بھڑکا سکے۔ یہ کردار ہر حال میں اور ہر وقت لوگوں کے لئے فائدہ مند ہو۔
(umairkoti@gmail.com)
نوٹ : یہ مضمون پہلے روزنامہ انقلاب میں شائع ہوچکا ہے

0 comments