لال قلعہ کے قریب کار دھماکہ: دہلی دہل اٹھی، 13 ہلاکتوں کی تصدیق، تفتیش جاری

نئی دہلی  (ایشیا ٹائمز ( دہلی کے تاریخی لال قلعہ کے قریب پیر کی شام ایک خوفناک کار دھماکے نے پوری راجدھانی کو ہلا کر رکھ دیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں 13 افراد جاں بحق اور 25 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس نے واقعہ کو ممکنہ دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

دھماکے کی تفصیلات 

پولیس کے مطابق شام 6 بجکر 52 منٹ پر لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر 1 کے قریب ایک سفید Hyundai i20 کار میں زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکے سے قریبی تین گاڑیوں اور دو آٹو رکشوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ موقع پر موجود لوگوں نے بتایا کہ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا اور چند لمحوں میں علاقہ دھوئیں اور چیخ و پکار سے گونج اٹھا۔

ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر زخمیوں کو لوک نائک اسپتال اور جے پی نارائن اسپتال منتقل کیا، جہاں کئی کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

تفتیش کا رخ: فدائین حملے کا امکان 

پولیس نے جائے وقوعہ کو مکمل طور پر سیل کر کے فرانزک ٹیموں کو طلب کیا۔ ابتدائی جانچ میں پتہ چلا ہے کہ کار میں Ammonium Nitrate Fuel Oil (ANFO) نامی دھماکہ خیز مادہ استعمال کیا گیا — جو عام طور پر فدائین حملوں یا بڑے پیمانے کے دھماکوں میں استعمال ہوتا ہے۔

ذرائع کے مطابق گاڑی دوپہر 3:19 بجے کے قریب لال قلعہ کے پارکنگ ایریا میں داخل ہوئی تھی۔ شام تک وہیں کھڑی رہی اور دھماکے سے کچھ دیر قبل باہر نکلی۔ اس کے مالک یا ڈرائیور کا سراغ ابھی تک نہیں مل سکا۔

دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے فرید آباد اور غازی آباد میں چھاپے مار کر کچھ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ 

 دہلی میں ہائی الرٹ 

واقعے کے بعد دہلی میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔ لال قلعہ کو تین دن کے لیے سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے جبکہ میٹرو اسٹیشن اور چاندنی چوک، جامع مسجد کے علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

دہلی پولیس کمشنر سنجے ارورا نے بتایا کہ "ہم تمام زاویوں سے تفتیش کر رہے ہیں، فی الحال کسی تنظیم کی ذمہ داری سامنے نہیں آئی، مگر شواہد دہشت گرد کارروائی کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔" مرکزی وزارتِ داخلہ نے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کو بھی تحقیقات میں شامل کر لیا ہے۔

بین الاقوامی ردعمل

امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا نے اپنے شہریوں کے لیے دہلی کے سفر سے متعلق ٹریول ایڈوائزری جاری کی ہے اور مقامی سفارت خانوں نے اپنے عملے کو احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ "ہم دہلی میں ہونے والے اس افسوسناک واقعے کی مذمت کرتے ہیں اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔"

تاریخی تناظر

لال قلعہ دہلی کا تاریخی قلعہ ہے جہاں سے ہر سال یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِاعظم قوم سے خطاب کرتے ہیں۔
اس علاقے میں اس نوعیت کا واقعہ دہلی کی سکیورٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج تصور کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف قومی ورثے کی حفاظت بلکہ شہری سلامتی کے نظام پر بھی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔

واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم اب تک کے شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ کوئی عام حادثہ نہیں تھا۔ دہلی پولیس اور مرکزی ایجنسیاں آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید تفصیلات جاری کرنے والی ہیں۔

0 comments

Leave a Reply