جذباتی نعرے حوصلہ بڑھاتے ہیں مگر مسائل حل نہیں کرتے

آزادی کے بعد سے کوئی مسئلہ نعروں سے حل نہیں ہوا بلکہ مزید مسائل پیدا ہوئے ہیں

 
 
 
عبدالغفار صدیقی

نعرے میدان جنگ میں بہت کارگر ہوتے ہیں۔سپاہیوں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔انھیں مقابل سے لڑنے کی قوت فراہم ہوتی ہے۔جب کوئی مشکل مرحلہ درپیش ہوتا ہے اور ساتھی ذرا سست ہوتے ہیں تو یہی نعرے انھیں جوش دلاکر فعال کردیتے ہیں۔اک طرح سے یہ فوجیوں اور سپاہیوں کی غذا ہوتی ہے۔محاذ جنگ اور میدان جنگ ہی نعروں کا محل ہے۔یہ اسی وقت مفید ہوتے ہیں جب نعرہ لگانے والے اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں اور اپنی جان کا نذرانہ لے کر میدان میں آجاتے ہیں۔لیکن بے محل  اور بے وقت نعرے بازی نقصان دیتی ہے۔ بلکہ اس صورت میں اور ضرر رساں ہوتی ہے جب کہ نعرے عمل سے خالی ہوں۔اس وقت ہمارے ملک میں امت مسلمہ کے تعلق سے یہی صورت حال ہے۔مجھے یاد نہیں کہ آزاد بھارت میںمحض نعروں سے کوئی مسئلہ حل ہوگیا ہو۔میں اس سلسلے میں آپ کو چند مثالیں دوں گا جس سے کی میری بات واضح ہوجائے۔

آزادی کے بعد امت مسلمہ کوبہت سے مسائل  درپیش تھے۔تقسیم ملک کے نتیجے میں ان کے اپنے رشتے ناطے تقسیم ہوچکے تھے۔قتل خون اور لوٹ مار کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصان ہوچکا تھا۔اسی ضمن میں ملک میں اردو زبان کو لے کر مسئلہ پیدا ہوا۔پاکستان میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہوا تو بھارت میں اس کو مٹانے اور ختم کرنے کا سلسلہ چلا۔دوسری طرف محبان اردو نے اردو کی بازیابی کے لیے تحریکیں چلائیں۔سڑکوں پر احتجاج ہوئے۔پولس کی زیادتیاں برداشت کیں،سمپوزیم اور سیمنار ہوئے۔ہم اردو کی بربادی کا تماشہ نہیں دیکھ سکتے اور سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے کے نعرے لگے۔بعض ریاستی حکومتوں نے دبائو میں آکر اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ بھی دیا۔اردو اکیڈمیز قائم ہوئیں،کئی ریاستوں میں اردو کے مترجم بھی  رکھے گئے جن  سے دوسرے کام لیے گئے۔ان سب کے باوجو اردو تادم تحریروینٹی لیٹر پر ہے۔نعروں،سڑکوں پر احتجاج اور شورو غل مچانے سے اردو اور اردو والوں کا بھلا تو نہیں ہوا البتہ اردو جو سب کی زبان تھی وہ مسلمانوں اور دشمن ملک کی زبان بن گئی اور اس کی مخالفت میں شدت آگئی۔اب تو یہ حال ہوگیا ہے کہ اردو نام والے شہر اور گائوں نیز ریلوے اسٹیشنوں کے نام بھی بدلے جارہے ہیں۔اردو کی تحریک چلانے والے اسٹیج کی زینت تو بنے لیکن انھوں نے اردو کو اپنے گھر کی زینت نہیں بنایا۔ایسا نہیں ہے کہ اردو پڑھانے والے نہیں رہے یا اردو پڑھنے کے ذرائع ختم ہوگئے بلکہ اردو کو خود مسلمانوں کے نام نہاد مہذب طبقے نے نظر انداز کردیا۔بڑا افسوس ہوتا ہے جب لوگ یہ رائے دیتے ہیں کہ اپنے مضامین ہندی میں لکھا کیجیے کیوں کہ اب اردو پڑھنے والے کہاں ہیں؟اور پڑھ لیں تو سمجھنے والے نہیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اردو اخبارات و رسائل بستر مرگ پر ہیں۔

اس کے بجائے اگر مسلمان اردو کو خود پڑھتے،اپنی نسلوں کو پڑھاتے،اردو کے مصنفین،ادباء اور شعرا پیدا کرتے،اردو رسائل و اخبارات کی نشرو اشاعت میں اپنا کلیدی رول ادا کرتے تو اردو کی صحت شاید زیادہ اچھی رہتی۔جہاں دوسری زبان کا درجہ حاصل ہے وہاں سرکاری دفاتر میںاردو میں درخواستیں دی جائیں،بھلے ہی اس کا ہندی ترجمہ منسلک کردیا جائے۔اپنے شادی اور تجارتی کارڈ اور دوکانوں کے سائن بورڈ پر کچھ اردو کے الفاظ بھی لکھوائے جائیں تاکہ اپنی تہذیبی شناخت قائم رہے۔
دوسرا حشر ہم نے مسلم عائلی قوانی کا دیکھاجس کے تحفظ کے لئے مسلم پرسنل لاء بورڈ قائم ہواتھا۔جس کا اصل مقصد عائلی قوانین میں سرکار کی مداخلت سے روکنا تھا۔قیام بورڈ سے لے کر آج تک کانفرنسیں،عوامی اجتماعات،مہمات تو بہت چلیں۔شعلہ بیاں مقررین نے دھواں دھارتقریرں سے وہ جوش پیدا کیا کہ سامعین نے نعرہ ٔ تکبیر اور نعرہ ٔ رسالت کے فلک شگاف نعرے لگائے۔دارالقضا ء اور شرعی عدالتوں کے قیام کے کاغذی منصوبے بنائے گئے،اصلاح معاشرہ،تحفظ اوقاف،تفہیم شریعت،دینی تعلیم کا فروغ،رابطہ ٔ مدارس اور اتحاد بین المسلمین کے لیے کمیٹیاں وجود میں لائی گئیں،لیکن سب کچھ نششتن،خوردن اور برخواستن سے آگے نہ بڑھ سکا۔البتہ برادران وطن یہ سمجھنے لگے کہ مسلمان اپنی الگ عدالتیں قائم کرنا چاہتے ہیں اور انھیں ملک کے قانون پر یقین نہیںہے۔موجودہ وقت میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کا وجود ہی بے معنی ٰ ہو کر رہ گیا ہے۔طلاق بل سے مداخلت کا دروازہ کھل چکا ہے۔اس کے بجائے اگر مسلمان شریعت پر عمل پیرا ہوجائیں اور علماء،حفاظ اور ائمہ ٔ مساجدو ارباب مدارس کے گھرانے اسلامی معاشرے کا نمونہ پیش کریں تو کسی قسم کے ہنگامے کی ضرورت نہیں ہے۔ہنگامہ آرائی سے مخالفین تو چوکنے ہوجاتے ہیں جبکہ متعلقین نعرے لگاکر مطمئن ہو جاتے ہیں۔

یہی حال بابری مسجد کا ہوا اور وہی نعرے بازی گیان واپی کے لیے ہورہی ہے۔کہا جارہا ہے کہ ہم دوسری بابری مسجد نہیں بننے دیںگے،کسی کی ہمت نہیں کہ گیان واپی کو ہاتھ لگائے،جان دے کر بھی ہم اپنی مسجد کی حفاظت کریں گے،ٹی وی چی چینلس پر خوب شور مچایا جارہا ہے،وغیرہ وغیرہ لیکن آپ کیا کریں گے جب عوام کی ایک بھیڑ کسی دن اسے گرادے گی اور کیا کریں گے جب مسلمانوں کے رہنما اپیلیں جاری کریں گے کہ عدالت کا فیصلہ ہر حال میں تسلیم کیا جائے گا؟کیا کریں گے جب عدالت اقرار کرے گی کہ گیان واپی ایک مسجد ہی ہے اور کسی عبادت گاہ کو توڑ کر نہیں بنائی گئی ہے لیکن اکثریت کی آستھا کا سوال ہے اس لیے یہ زمین اکثریت کو دی جارہی ہے۔اس کے بجائے مضبوط لیگل ٹیم کے ساتھ قانونی کارروائی کی جائے کسی ڈبیٹ میں شرکت نہ کی جائے،کوئی عوامی بیان نہ دیا جائے اور ٹھیک ہے جو فیصلہ ہو تسلیم کیا جائے،باقی فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیا جائے۔

یہی کچھ صورت حال ناموس رسالت کو لے کر ہے۔سڑکوں پر احتجاج ہے۔خوب نعرے بازی ہے ’’گستاخ نبی کی کیا ہے سزا۔۔۔سر تن سے جدا سر تن سے جدا‘‘یہ نعرہ کسی طرح بھی مناسب نہیں۔اس سے اسلام اور مسلمانوں کی تصویر قاتل و غارت گرکی بن رہی ہے۔ہونا یہ چاہئے کہ اگر کوئی ایسا واقعہ ہوا ہے تو اس کی تحقیق کی جائے،جس نے جرم کیا ہے اس سے اہل علم کا کوئی وفد ملاقات کرے،اس کی غلط فہمیاں دور کرے،اس کو پیارے نبی کی سیرت سے واقف کرائے اوراگر ضرورت پڑے تو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے۔نعرے بازی کا نقصان یہ ہوا کہ مجرم کو اس کی قوم کی ہمدردیاں حاصل ہوگئیں۔حکومت نے تحفظ فراہم کردیا،نعرہ لگانے والے جیل بھیج دیے گئے۔ان کے مکانات اور کاروبار کو نقصان پہنچایا گیا نیز نبی اکرم ﷺ کے بارے میں برادران وطن نے اپنے ذہنوں میں الٹے سیدھے خیالات پیدا کرلیے۔ 

ہم جس چیز کے مکلف ہیں وہ یہ ہے کہ ہم اپنے قول و عمل سے خود کو مسلمان ثابت کریں،اپنے اخلاق سے یہ ثابت کریں کہ ہم رحمۃ اللعٰلمین کی امت ہیں،ہم کہتے تو یہ ہیں کہ حضور ؐ نے اپنے دشمنوں سے بھی حسن سلوک کیا اور ہم نعرہ کچھ اور لگاتے ہیں۔ہم صرف اس بات کیمکلف ہیں کہ اگر کوئی شخص ہمارے عقائد،ہماری کتاب،اور ہمارے شعائر کی بے حرمتی کرتا ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔اس تک صحیح بات پہنچائیں۔ذرائع ابلاغ سے دنیا کے سامنے اپنا موقف دلائل کے ساتھ  پیش کریں۔میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں بھارتی مسلمانوں سے جو سوالات ہوں گے ان میں پہلا سوال ان کے اپنے عمل کے بارے میں پوچھا جائے گا،ناموس رسالت کے ضمن میں بھی پہلے انھیں خود اپنے نبی سے محبت اور اطاعت ثابت کرنی ہوگی،جب ان سے کہا جائے گا کہ تم نے گستاخوں کے لیے کیا کیا؟تو وہ کہہ دیں گے کہ پروردگار ہم ایک ایسے ملک میں رہتے تھیجہاں کا نظام ہمارے ہاتھ میں نہیں تھا کیوں کہ نظام چلانے کے ہم اہل ہی نہیں تھے۔اس لیے ہم نے اس ملک کے آئین کے مطابق قانونی کارہ جوئی کی۔
مضمون نگار آزاد صحافی اور راشدہ ایجوکیشنل اینڈ سوشل ٹرسٹ  کے چیرمین ہیں۔
9897565066


 

0 comments

Leave a Reply