اسرائیل پاگل کتا ہے : اسماعیل هَنِيَّه کی شہادت کے تناظر میں (یہ وہ انٹرویو ہے جسے یو ٹیوب نے ڈیلیٹ کر دیاہے )

ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کا چشم کشا انٹرویو؛ انٹرویو نگار اشرف علی بستو ی، چیف ایڈیٹر ایشیا ٹائمز

 

ڈاکٹر ظفر الاسلام خان  جہاں دیدہ شخصیت ہیں جن کی مشرق و مغرب پر گہری نگاہ ہے۔ان کی   شرق اوسط اور عالم اسلام پر عمیق نظر ہے۔ وہ  یورپ و امریکہ ، ایران و عرب سے خوب واقف ہیں۔ حال ہی میں ڈاکٹر صاحب کا چشم کشا انٹرویوشائع ہوا ہے۔ اس میں  اسماعیل هنيّه کی شہادت کے حوالے سے حماس ، اسرائیل اور مشرق وسطیٰ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس میں اسرائیلی دسیسہ کاریوں ، شر انگیزیوں ، دجالی سازشوں اور ظالمانہ و سفاکانہ کردار کو دو دو چار کی طرح واضح لفظوں میں بیان کیا گیا ہے۔  اسرائیل کی سفاکانہ تاریخ سے پردہ اٹھایا گیا ہے، ساتھ ہی ساتھ حماس و ایران کے تعلقات پر صاف و شفاف گفتگو کی گئی ہے جس کے لئے ڈاکٹر صاحب جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ 

 افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کا بھرم رکھنے والے تمام میڈیا پلیٹ فارم اس قسم کے بیانات اور تحریروں کو محو کرنے پر مامور ہیں۔ لہٰذا یوٹیوب نے اس انٹرویو کو نہ صرف ہٹا دیا ہے  بلکہ انٹرویو نگار اشرف علی بستوی  کے چینل ایشیا ٹائمز کی ممبر شپ اور مونیٹائزیشن کو بھی معطل  کر دیا ہے۔

May be an image of slow loris and text

لہٰذا موقع کی نزاکت اور عنوان کی حساسیت کے پیش نظر اس  انٹرویو کو عناوین کے ذریعے تحریری شکل دی گئی ہے ، اس امید کے ساتھ کہ ہم صحیح کردار کو پہچان سکیں اور الزام تراشیوں سے بچ پائیں۔ اللہ تعالیٰ قائد الاحرار  اسماعیل هنيّه شہید کے درجات بلند فرمائیں۔  یہ انٹرویو ایشیا ٹائمز کے اشرف علی  بستوی نے یکم؍ اگست ۲۰۲۴ کی صبح کو لیا۔ یہ وائرل ہوگیا لیکن  جلد ہی یوٹیوب نے اس کو حذف کردیا اور ایشیا ٹائمز کو سزا بھی دے دی۔ یہ انٹرویو  اب بھی  فیس بوک  پر دیکھا جاسکتا ہے: https://www.facebook.com/share/v/k4SW517BWPCzTR4T/?mibextid=oFDknk

May be an image of television and text

عالم اسلام کے عظیم لیڈر ، فلسطین کے سابق وزیر اعظم اور تحریکِ مزاحمت حماس کے سربراہ  اسماعیل هنيّه ۳۰۔۳۱  جولائی کی درمیانی شب ایران کے دارالحکومت تہران میں شہید کر دئے گئے۔ آپ  نو منتخب ایرانی صدر مسعود پزکشیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت  کرنے کے لئے ایران  گئے تھے۔ ۱۹۶۲ء میں غزہ پٹی کے الشاطی پناہ گزین کیمپ میں آپ کی ولادت ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اقوام متحدہ کی تنظیم برائے فلسطینی  پناہ گزیں  UNRWA کے تحت چلنے والے اسکولوں میں حاصل کی۔ ۱۹۸۷ء میں غزہ کی اسلامی یونیورسٹی سے عربی ادب میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی اور اسی یونیورسٹی میں استاد مقرر ہو گئے۔ بعدا زاں سنہ ۱۹۹۳ء میں اسی یونیورسٹی میں ڈین کا عہدہ سنبھالا اور سنہ ۲۰۰۹  میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری حاصل کی۔ شہید هنيّه اسی یونیورسٹی میں طلبہ کی سیاسی سرگرمیوں میں شریک ہوئے جہاں سے حماس تحریک ابھری۔ سنہ ۱۹۸۹ء میں  انہیں حماس سے تعلق کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی ۔ سنہ ۱۹۹۲ء میں رہائی کے بعد جنوبی لبنان کےعلاقہ مرج الزہور میں تحریک کے کئی رہنماؤں کے ساتھ آپ  ایک سال کے لیے جلاوطن رہے۔ سنہ ۱۹۹۷ء میں حماس کے بانی   شیخ احمد یاسین کے دفتر کے سربراہ ہوئے۔ سنہ ۲۰۰۳ء میں  شیخ احمد یاسین ایک اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے۔ اسی حملے میں  هنيّه  بھی   زخمی ہوئے۔ سنہ ۲۰۰۶ء میں حماس کے الیکشن  جیتنے کے بعد آپ فلسطین کے وزیرِ اعظم بنے۔ سنہ ۲۰۰۷ء میں فتح اور حماس گروپ کے درمیان محاذ آرائی کے بعد  فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے انہیں برطرف کر دیا لیکن  ووغزہ میں فلسطینی حکومت کے سربراہ کے طور پر کام کرتے رہے۔ سنہ ۲۰۱۳ء میں آپ حماس کے نائب سربراہ مقرر ہوئے اور ۲۰۱۷ء میں خالد مشعل کے بعد آپ تحریک کے سربراہ منتخب ہوئے۔  اسی سال امریکہ نے ان کے ’’دہشت گرد ‘‘ ہونے  کا اعلان کیا اور ان پر کئی پابندیاں عائد کر دیں۔ اکتوبر۲۰۲۳ء  میں معرکہ طوفان الاقصی کے بعد اسرائیل نے ان کے  خاندان کے افراد کو  نشانہ بنایا۔  اسی ماہ ان کے بڑے پوتے بمباری میں شہید کئے گئے۔ سنہ ۲۰۲۴ء عید  کے دن ان کے تین بیٹوں  اور کئی پوتوں نے اسرائیلی حملے میں جان جان آفریں کے سپرد کر دیں۔ ۲۰۲۴ء جون میں  ان کے گیارہ افراد خانہ شہید ہو گئےباور الآخر ۳۱؍جولائی ۲۰۲۴ء عزیمت و استقلال کی عظیم کی داستان رقم کرتے ہوئے اسماعیل هنيّه  خود بھی  تہران میں جام شہادت نوش فرما گئے۔ آپ نے عزیمت و استقلال کی جو عظیم داستان رقم کی ہے وہ آئندہ نسلوں کے لئے مشعلِ راہ ثابت ہوں گی اور آپ تاریخ کے اوراق پر جلی حروف میں زندہ و پائندہ رہیں گے (اشتیاق ظہیر ندوی)

 

انٹرویو

سوال ایرانی صدر ابراہیم رئیسی  کی حادثے  میں موت، لبنان میں حماس اور حزب اللہ کے لیڈران  کی شہادت اور آج  اسماعیل هنيّه کی تہران میں  شہادت کو آپ کس نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں؟ 

جواب: کسی بھی قوم کے لیڈر کو قتل کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی ہے۔  اس سے جنگیں شروع ہو جاتی ہیں۔ پہلی جنگ عظیم کی ابتدا بھی اسی طرح ہوئی تھی  یعنی صرف ایک لیڈر کے قتل سے جنگ شروع ہوئی اور سات آٹھ سال تک چلتی رہی اور دنیا بالکل اتھل پتھل ہو گئی۔  اس طرح کا واقعہ جب بھی کہیں ہوتا ہے تو اس کا رد عمل ضرور آتا ہے۔  البتہ اس کا رد عمل کس صورت میں آئے گا،  یہ واقعے سے پہلے معلوم نہیں ہوتا  ہے۔

اسرائیل اس قسم کے قتل میں ماہر ہے

 اسرائیل کا معاملہ یہ ہے کہ وہ جب سے ۱۹۴۸ء میں وجود میں آیا ہے تب سے وہ ایسے جرائم کا ماہر ہے بلکہ اس کے وجود میں آنے سے پہلے ہی یہودی دہشت گرد تنظیمیں یہ کام مہارت سے کرتی تھیں۔ برطانیہ نے ۱۹۱۸ء  ہی سے وہاں ایسے حالات پیدا کر دئے تھے کہ نام کو نہ سہی لیکن عملاً اسرائیل وجود میں آ چکا تھا۔ سنہ  ۱۹۴۸ سے پہلے فلسطین میں  ان کے پاس فوج تھی جس کا نام ہاگانا  (Haganah)  تھا۔  ان کے اپنے سیکڑوں گاؤں اور قصبے تھے جن میں کسی بھی عرب کے داخلے پر پابندی تھی، رہنا تو بہت دور کی بات تھی۔ وہاں عرب کوئی کام بھی نہیں کر سکتے تھے۔  یہودیوں نے اپنے آپ کو اس طرح  بالکل محفوظ کر رکھا تھا۔  فلسطین کے متعدد علاقوں میں  عملا ان کی حکومت قائم ہو چکی تھی اور ان کی فوج کے پاس ٹینک کے علاوہ ہوائی جہاز تک موجود تھے۔ اس فوج کو  برطانیہ تسلیم کرتا  تھا۔ اس کے علاوہ وہاں کئی  دہشت گردوں کے گینگ تھے جن میں سر فہرست ارگون  (Irgun) ، لیہی (Lohamei Herut Israel) Lehi اور اسٹرن (Stern) گینگ وغیرہ تھے جو دہشت گرد کارروائیوں میں مصروف رہتے تھے۔ بعد میں جب اسرائیل قائم ہوا تو یہ سارے دہشت گرد گینگ اسرائیلی کی فوج میں داخل ہو گئے۔  ان  دہشت گرد تنظیموں کے دو لیڈران اسرائیل کے وزیرِ اعظم  بھی بنے یعنی  مناحیم بیگین اور اسحاق شامیر۔ ان معاملات میں اسرائیل کی بہت پرانی تاریخ ہے اور وہ اس قسم کے قتل میں  ماہر ہے۔  دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں کرتا ہے جو اسرائیل کرتا ہے ۔

سویڈن کی رائل فیملی ممبر کا قتل

اقوامِ متحدہ نے جب نومبر ۱۹۴۷  میں فلسطین کو تقسیم کیا  تو ۴۴؍فیصد عربوں کو دے دیا  اور بقیہ ۵۶؍اسرائیل کو دیا حالانکہ یہودی اس وقت  فلسطین میں اقلیت میں تھے۔ لیکن اسرائیل اس دئے گئے حصے پر قانع نہیں تھا۔ خانہ جنگی کا فائدہ اٹھاتےہوئے   اس نے فلسطین کے ۷۸؍فیصد حصے  پر قبضہ کر لیا۔ اسی قبضہ اور خانہ جنگی کو ختم کرنے کے لئے اقوام متحدہ نے سویڈن کی رائل فیملی کے ایک ممبر کاؤ نٹ برنا ڈوٹ کو صلح صفائی کی غرض سے بھیجا ، تاکہ حالات  ٹھیک ہو سکیں اور اسرائیل فلسطینی علاقے پرسے  قبضہ چھوڑ دے ،لیکن نتیجے میں بیت المقدس میں ہی یہودی دہشت گرد وں نے  دن دھاڑے اس ثالث کا قتل کر ڈالا کیونکہ وہ کسی بھی حال میں یہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ  ۵۶؍ فیصد سے زیادہ رقبہ چھوڑ دیں جن پر خانہ جنگی کی حالت میں اسرائیل نے قبضہ کرلیا تھا۔  اس کے بعد سے واقعات رکے نہیں بلکہ انہوں نے دیگر ملکوں میں بیسیوں لیڈران کا قتل کیا۔  غزہ میں شیخ احمد یاسین کو قتل کیا۔ بیروت  میں کمال عدوان کو قتل کیا۔  تونس میں خلیل الوزیر کو قتل کیا۔  آسٹریلیا میں قتل کیا،  مبحوح کو دبی میں قتل کیا۔ اس سے قبل ایران کے جرنیل کو دمشق میں قتل کیا۔  ہنیہ کی شہادت سے ایک روز قبل حزب اللہ کے لیڈر کوبیروت میں  قتل کیا ۔ ایک پالیسی کے تحت    اسرائیل ان معاملات پر خاموش رہتا ہے  لیکن اس کا یہ مکر  دنیا کے لوگ سمجھتے ہیں ۔

دنیا بدل رہی ہے، اور اسرائیل کے لئے زمین تنگ ہوتی جا رہی ہے

ابھی واقعہ پیش آیا ہے کہ ایک بڑی سرکاری تقریب کے بعد  اسماعیل هنيّه کا اس علاقہ میں قتل ہوا جو ہائی سیکورٹی زون میں شامل ہے۔ ممکن ہےکہ اس حادثے میں  کئی اور لوگ مارے گئے ہوں گے لیکن سرکاری طور سے اعلان آنا باقی ہے۔ وہاں کی سخت  سکیورٹی کا مجھے (ڈاکٹر ظفر الاسلام خان) خود ذاتی مشاہدہ ہے۔  اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ اس کے اوپر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا۔  آپ کو اسرائیل کے اس کانے وزیر دفاع موشے دایان  (Moshe Dayan) کی بات یاد رکھنی چاہیے جس میں اس نے کہا تھا کہ اسرائیل کو اس علاقے میں’’ پاگل کتے ‘‘کی طرح رہنا چاہیے۔ ایسے کتے کی کوئی حد نہیں ہوتی  ہے۔ وہ  اس طرح رہتا ہے  کہ جب جس کو چاہا  کاٹ لیا۔ لیکن اسرائیل اس بات کو ابھی بھی سمجھ نہیں پا رہا ہے کہ دنیا بدل  چکی ہے۔   کئی ممالک اس کے خلاف انٹرنیشنل کورٹ جا چکے ہیں ۔ کورٹ نے اس کے قبضے کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ سفارتی تعلقات ختم کر لئے گئے ہیں۔ کئی ملکوں نے اپنے سفراءتل ابیب سے  واپس بلا لئے  ہیں۔  اسرائیل تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ امریکہ میں اس کے خلاف ایسے مظاہرے ہوں گے ۔ آج اس کے خلاف چوالیس امریکی جامعات میں مظاہرے ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے امریکی حکومت بھی پریشان ہے۔  اس سب کے باوجود اسرائیل  اب بھی اس طرح کی حرکتیں لگاتار کس بنیاد پر کر رہا ہے ؟

در اصل معاملہ یہ ہے کہ اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ اس طرح کی حرکتوں کے باوجود امریکہ اس کو بچا لے گا۔  اس وقت اور کوئی نہیں بچا ہے جو براہ راست اس کی مدد کرے۔  پہلے فرانس  اس کی مدد کرتا تھا۔  روس  نے بھی ایک زمانے میں اس کی مدد کی تھی ۔  برطانیہ نے اب ہاتھ کھڑے کر دئے ہیں۔ نتن یاہو اور اس کے وزیرِ دفاع  گیلنٹ کے خلاف انٹرنیشنل کورٹ کا  گرفتاری وارنٹ جاری ہونے کے خلاف برطانیہ نے اعتراض جتایا تھا لیکن ا ب نئی  حکومت نے اعتراض کو واپس لے لیا ہے۔ پچھلے سالوں میں آپ غور کیجیے کہ امریکہ اسرائیل کے لئے بار بار ویٹو پاور کا استعمال کرتا رہا ہے ، حتی کہ وہ خود اپنے ملک کے لئے بھی اتنا ویٹو پاور کا استعمال نہیں کرتا۔   یہ کب تک چلے گا؟  وہ بچے جو ہزاروں کی تعداد میں یونیورسٹیوں میں مظاہرے کر رہے ہیں ، لڑنے مرنے کو تیار ہیں  بلکہ وہ اپنی تعلیم  تک چھوڑنے کو تیار ہیں۔  یہی بچے کل صدر، وزیر  خارجہ اور کانگریس و سینیٹ کے ممبر بنیں گے۔  یہی کل حکومت کریں گے۔ لیکن اسرائیل کو ابھی اندازہ نہیں ہو رہا ہے کہ  دنیا بدل گئی ہے۔ اسرائیلی لابی کے خلاف بہت شدت سے امریکا میں آواز اٹھ رہی ہے۔  یاد رکھیے کہ دنیا بدل رہی ہے ۔ اسرائیل کو یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ اس پر لبنان ، عراق ، یمن اور حزب اللہ جیسی طاقتیں مل کر حملہ کریں گی۔ فلسطین کے اندر جن طاقتوں کو اسرائیل گھاس پھوس سمجھتا تھا  وہ اب بھی  نو ماہ  بعد اس سے لڑ رہی ہیں۔

غیر مکتوب قانون

 اسرائیل جب بنا تھا تو اسی  وقت مغربی قوموں نے ایک غیر مکتوب قانون (unwritten law)  بنایا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں تمام ملکوں کی مل کر اتنی طاقت نہیں ہونی چاہیے جتنی اسرائیل کے پاس اکیلے ہو۔  اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل جب چاہے ان سب سے  بیک وقت لڑ سکے۔ یہ مغربی ممالک  کا  مشرق وسطی کے لئے ایک غیر مکتوب ایجنڈا (unwritten agenda) ہے۔ یاد کیجیے جب  مصری صدر جمال عبد الناصر نے روس سے اسلحہ خریدا تو امریکہ سے تعلقات خراب ہوگئے۔ بلکہ صدام حسین ، قذافی وغیرہم نے جب  ایٹمی طاقت حاصل کرنے کی کوشش کی تو وہ دوست سے دشمن ہوگئے۔  شام اور عراق دونوں کے ایٹمی ری ایکٹر کو اسرائیل نے حملہ  کرکے تباہ کر دیا تاکہ ان  ممالک میں اس  سے مقابلے کی طاقت ہی پنپ نہ سکے۔ لیکن پھر بھی آج دنیا بدل چکی ہے۔

اسرائیل ہار رہا ہے، بوکھلاہٹ کا شکار ہے

آج  چھوٹا سا غزہ ، جو بہت چھوٹی سی جگہ ہے،  نو ماہ سے  بے تحاشا بمباری کے باوجود اسرائیل کا مقابلہ کر رہا ہے ،  مستقل لڑ رہا ہے۔ دنیا یہ دیکھے گی کہ اسرائیل جو خود کو سب سے بڑی طاقت سمجھتا تھا وہ اس چھوٹے سے غزہ  سے   ہار چکا ہے۔  وہاں صرف دو  مزاحمتی تنظیمیں ہیں :ایک حماس ،دوسری جہاد اسلامی۔  حماس کے  پاس تیس، چالیس ہزار لڑاکے ہیں اور جہاد اسلامی کے پاس دس ہزار  ۔ یہ لوگ کھل کر نہیں لڑ رہے ہیں بلکہ سرنگوں کے اندر سےمقابلہ کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ جنوبی لبنان،  عراق و ایران ویمن ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔  ترکی بھی  جنگ میں داخلے کے لئے تیار ہے۔  اس کا مطلب  یہ ہے کہ اسرائیل کے ارد گرد دنیا بدل  چکی ہے، بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ ایک دو ماہ کے بعد اسرائیل کی  مکمل  ہزیمت ہو جائے گی۔  اسرائیل پوری طرح سے ہار جائے گا اور ایک نئی دنیا وجود میں آئے گی۔

 

کیا اسماعیل هنيّه کی شہادت کے بعد حماس پر کوئی دباؤ بن سکتا ہے ؟

اسماعیل هنيّه ایک فرد تھے۔ وہ ان سیکڑوں افراد میں سے ایک تھے جو کہ اسی سطح کے ہیں۔  میری اسماعیل هنيّه سے ملاقات نہیں ہوئی البتہ فون پر ایک دفعہ ان سے بات ہوئی ہے۔  لیکن حماس کے دوسرے بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی ہے جو انہیں کے قد اور مرتبے کی شخصیات ہیں۔ سب کے سب بین الاقوامی معیار کے لیڈر ہیں۔ لہٰذا ان سیکڑوں میں سے کوئی بھی ان کی جگہ لے سکتا ہے۔  آپ دیکھیے گا کہ جلد ہی اعلان ہوگا کہ فلاں کو سربراہی سونپ دی گئی ہے۔  وہاں  لیڈر بنانے کی فیکٹری ہے۔ گزشتہ تیس پینتیس سالوں بلکہ اس سے قبل سے ہی محنت کرکے ایک پوری چین بنا دی گئی ہے جس میں لیڈران کا جم غفیر ہے۔  اس سے قبل  شیخ احمد یاسین کو اسرائیل نے ایسے ہی مارا تھا۔ وہ فجر کی نماز پڑھ کر وہیل چیئر پر مسجد سے نکل رہے تھے جب  اسرائیلی راکٹ نے ان کو ٹارگٹ کیا اور شہید کردیا۔  لیکن  شیخ  یاسین کی موت سے کوئی فرق نہیں پڑا۔  سچائی یہ ہے کہ تنظیم مزید ترقی کرتی گئی یہاں تک آج اس نے وہ کردکھایا جو کسی کی سوچ میں بھی نہیں تھا۔  اس سے پہلے بھی اسرائیل حماس کی جنگ ہوئی لیکن وہ کبھی  چودہ پندرہ دن ،  کبھی بائیس دن اور کبھی   باون‌ دن میں ختم ہو جاتی تھی ، اب تو نو ماہ ہوچکے ہیں۔ نو ماہ معمولی بات نہیں ہوتی ہے۔ نو مہینے میں تو عالمی  جنگ  ہو جایا کرتی ہے۔  ہندوستان پاکستان بلکہ ساری دنیا کی جنگیں سات آٹھ دن کی ہوتی ہیں ،اس کے آگے نہیں ہوتی  ہیں۔ فورا ہی  بیچ بچاؤ شروع  ہوجاتا ہے اور جنگیں ختم ہو جاتی ہیں۔

مغربی ممالک اور بدلتی صورتِ حال

 آج دیکھیے یورپ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ وہاں  دسیوں  ممالک ہیں جو اسرائیل کے خلاف ہو گئے ہیں اور فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں۔  اسپین کو دیکھ لیجیے، اٹلی اور آئرلینڈ  کو آپ دیکھیے۔ برطانیہ  نے اپنی پالیسی بدل دی ہے اور وہ جلد  فلسطین کو تسلیم کرلے گا ( ابھی نہیں کیا ہے)۔ آپ کبھی سوچ سکتے تھے کہ ساؤتھ افریقہ جیسا ملک اسرائیل کے خلاف انٹرنیشنل کورٹ میں کمر بستہ ہوگا اور اس پر مقدمہ دائر کرے گا جس کیس میں اسرائیل بری طرح سے ہارا ہے۔  ابھی  اسرائیل ہار تسلیم نہیں رہا ہے لیکن دیر ہی سے سہی  اسے اپنے اعمال کا خمیازہ بھگتنا  پڑے  گا۔

ایران اپنے مہمان کی حفاظت نہیں کر سکا یا اس قتل میں ایران کا ہاتھ ہے؟

نہیں نہیں۔ یہ جلد بازی اور ناسمجھی کی بات ہے۔  ایسا کچھ نہیں ہے۔ ہونے کو کہیں بھی کوئی چیز ہو سکتی ہے اور ہوتی رہتی ہے۔  کوئی ایسی انہونی بات نہیں  ۔ کتنے مہمان باہر جاتے ہیں اور ان کی لاش واپس آتی ہے۔   یہ سمجھنا غلط ہے کہ اس میں ایران کی کوئی کمی ہے۔ اگر راکٹ آتا ہے تو راکٹ کو روکنا اتنا آسان کام نہیں ہے۔ راکٹ کس طرح سے آیا ہے یا کس قسم کا آیا ہے، اس کا  بھی کچھ پتا نہیں ہے۔  اندر گھس کر نہیں مارا گیا ہے بلکہ ایران کے باہر سے وہ راکٹ آیا ہے۔ یہ   ایران کے لئے بڑی بے عزتی کی بات ہے۔  اگر ایسا ہو جائے تو کسی بھی ملک کے لئے بڑی بے عزتی کی بات ہوتی ہے۔  یہ سمجھنا کہ ایران نے یہ حادثہ کیا یا کروایا  بالکل بے وقوفی کی بات ہے۔  خود فلسطینی قائد اور رہنما علانیہ اس بات کا اعتراف کرتے رہے ہیں کہ ایران ہمارا حامی ہے ، اور مستقل ہمارے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔  میں یہ بتا دوں کہ ایران اگر کسی کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے تو ایسے ہی کھڑا نہیں ہوتا ہے۔  حزب اللہ کو دیکھیے: کس طرح سے ایران اس کے ساتھ کھڑا ہے، یعنی پیسے سے،ٹیکنالوجی سے، اسلحے سے ، ہر طرح سے اس کو سپورٹ کرتا ہے۔ ایسے ہی ایران حماس کے  لئے کرتا ہے۔ بہت زیادہ  نہ سہی ،اس لیے کہ حماس بھی  بہت زیادہ قربت نہیں چاہتا ہے۔ لیکن پیسے سے ،ٹیکنالوجی سے ،اسلحے سے ایران حماس کی مدد کرتا ہے۔ آج حماس جہاں پہنچا ہے اس میں ایران کا بڑا دخل ہے  جبکہ خود فلسطینیوں کا بھی  اس میں بہت بڑا حصہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ ان کا جذبہ اور اپنے کام کے تئیں کمٹمنٹ غیر معمولی ہے۔  یہ سب اپنی جگہ لیکن اگر آپ کو باہر کی مدد نہ ملتی تو آپ اپنی جگہ پر بند ہیں۔ ۱۹۶۷ سے اسرائیلی قبضہ   ہے اور   سنہ۲۰۰۷ سے مکمل اسرائیلی محاصرہ ہے ۔ اس کے باوجود  اسلحوں کی اسمگلنگ ہوتی ہے، سامان کس طرح سے آتا ہے؟  یہ کام  پہلے سرنگوں سے ہوتا تھا  جو اب توڑ دی گئی ہیں۔ صحرائے سینا  میں  بدو آباد ہیں ۔ان کے ذریعے سے اسمگلنگ ہوتی ہے۔ یوں چیزیں بہت مہنگی ہوجاتی ہیں۔ جو چیز سو کی ہوتی ہے وہ پانچ  چھ سو کی ہو جاتی ہے۔ اس کے باوجود ایران، جو خود مصیبت میں ہے، یہ کام کر رہا ہے۔  حماس کےلئے  کر رہا ہے اور حزب اللہ کے لئے بھی، حوثیوں کے لئے اور عراق کے لئے  بھی کر رہا ہے۔ اس طرح کے بہت لوگوں کو ایران کی مدد ملتی ہے۔  ایسی صورتحال میں ہمیں  ایران کو سلیوٹ کرنا چاہیے کہ ایران مستقل اس کام  میں لگا ہوا ہے جب کہ خود  اس کے اپنے اوپر جو بوجھ اور پریشر ہے وہ بہت ہی زیادہ ہے۔ ایران کو امریکہ نے کاٹ کر رکھ دیا ہے۔وہ ایک  ڈالر بھی  باہر نہیں بھیج سکتا ہے۔ وہ  سسٹم سے باہر نکال دیا گیا ہے۔ امریکہ و برطانیہ نے ایسا سسٹم بنا دیا ہے کہ آپ دنیا میں کہیں بھی پیسہ بھیجیں گے تو لندن و نیو یارک سے گھوم کر آتا ہے۔ ایک ڈالر آپ سیدھے کہیں نہیں بھیج سکتے ہیں۔  اس سسٹم سے کاٹ دئے جانے کے بعد آپ نہ پیسہ لے سکتے ہیں اور نہ دے سکتے ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے طرح طرح کے طریقے نکالے ہیں۔ وہ روس و چین سے بلکہ ہندوستان سے بھی براہ راست تجارت کر رہے ہیں جب کہ ممالک یہ چاہتے ہیں کہ ڈالر و پاؤنڈ میں تجارت کریں جس سے وہ دنیا میں کچھ بھی اور کہیں سے بھی  خرید سکتے ہیں، لیکن اگر وہ روپے میں خریدتے ہیں تو روپئے کوتو  کوئی لے گا ہی نہیں۔ اس کا ہندوستان کے علاوہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔  یہ کام ایران ،روس و چین کے ساتھ کر رہا ہے۔  بلکہ وہ وینیز و بلا کی  بھی مدد کر رہا ہے اور اس سب کے باوجود ایران ترقی کر رہا ہے۔  ان سب حالات کے باوجود وہاں کی سڑکیں، انفراسٹرکچر اور  یونیورسٹیاں کتنی شاندار ہیں آپ اس کا  اندازہ نہیں لگا سکتے ہیں ۔ وہاں جو پڑھائی اور ریسرچ ہو رہی ہے اس کی وجہ سے دنیا میں ان کا قد بہت بلند ہے۔ الیکٹریکل انجینئرنگ کی پڑھائی کا  بہترین لیول وہاں پر ہے۔  اتنی پابندیوں اور سختیوں کے باوجود ایران  دوسروں کے لئے بہت کچھ کر رہا ہے۔ اگر وہاں کوئی حادثہ ہوتا ہے تو  اس کی بڑی  بے عزتی ہوگی۔  میں تو سمجھتا ہوں کہ ایران اس معاملے کو ایسے نہیں چھوڑے گا بلکہ بدلہ لے گا۔  ابھی وہ تحقیق کر رہے ہیں کہ یہ سب کیسے ہوا آج شام یا کل تک یا پھر بعد میں وہ جواب دیں گے ۔اس سے قبل جو کارروائی اسرائیل کے خلاف ایران نے کی تھی  وہ بہت بڑی نہیں تھی ۔ انہوں نے جو راکٹ اور ڈرون بھیجے تھے اس کی اطلاع پہلے سے ہی مغربی ممالک کو دے دی گئی تھی تاکہ جنگ بڑی نہ ہو۔ لیکن ایسا کرکے ایران نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ ہم ایسی کارروائی کرنے کی طاقت رکھتے ہیں ۔

’’ہد ہد‘‘ نامی ٹیکنالوجی

ابھی آپ نے اگر حزب اللہ کے ویڈیوز دیکھے ہیں جس میں ”ہد ہد“  نام کے ڈرون سے انہوں نے اسرائیل کے بہت ہی خاص مقامات کی ویڈیو گرافی کرائی ہے اور اس کو عام کر دیا ہے۔ وہ ہد ہد ایرانی ٹیکنالوجی ہے،  وہ ایرانی ڈرونز ہیں۔ وہ اسرائیل  کو بتا رہے ہیں کہ دیکھو ہماری نظر سب پہ ہے۔  گائیڈڈ میزائل ہمارے پاس موجود ہیں۔ تو ایران کے لئے کوئی جگہ بہت دور نہیں ہے ۔

آخر میں پاگل کتے کو شوٹ کر دیا جاتا ہے

یاد رکھیں جہاں میں نے بات شروع کی تھی کہ آج مشرق وسطی بدل چکا ہے۔ اسرائیل کو چاہیے تھا کہ بہت جلدی اپنے پڑوسیوں  کے ساتھ صلح صفائی کرکے اپنے آپ کو ایک عام ملک کی طرح سے رکھتا لیکن اس کے دماغ میں آج بھی وہی خرافات ہے جو موشے دیان نے کہا تھا کہ اسرائیل کو اس علاقے میں پاگل کتے کی طرح رہنا چاہیے۔ تو وہ زمانہ اب چلا گیا ہے ۔پاگل کتے کے لئے آخری سزا یہ ہوتی ہے کہ اس کو شوٹ کر دیا جاتا ہے۔

(انٹرویو نگار اشرف علی بستوی اور ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کے شکریہ کے ساتھ)

...

0 comments

Leave a Reply