ناری شکتی سَمان ہی راشٹر کا سَمان ہے / وائس چانسلر جامعہ ہمدرد
ٹویٹ اور جامعہ ہمدرد کے اشتراک سے خواتین این جی او کی نیشنل کانکلیو "لیڈ ہرشپ 2025" کا آغاز
تکنیکی اجلاس بعنوان “سول سوسائٹی آرگنائزیشنز کا دائرۂ کار، شرکاء نے مباحثے میں اپنے تجربات، نظریات اور تجاویز پیش کیں
نئی دہلی (پریس ریلیز) ویمن ایجوکیشن اینڈ ایمپاورمنٹ ٹرسٹ اور جامعہ ہمدرد، نئی دہلی کے اشتراک سے خواتین این جی او کی نیشنل کانکلیو " لیڈ ہرشپ 2025: تبدیلی کی سمت، اثر انگیز قیادت" کا افتتاح جامعہ ہمدرد کنونشن سینٹر میں ہوا۔ اس دو روزہ کانکلیو میں خواتین قائدین، سماجی کارکنان، ماہرینِ تعلیم، پالیسی سازوں اور سول سوسائٹی کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں ۔
کانکلیو کے پہلے دن افتتاحی اجلاس میں پروفیسرڈاکٹر ریشما نسرین نے خیرمقدمی خطاب میں کہا کہ حکومت پالیسیاں بناتی ہے، مگر این جی اوز ہی انہیں عوام تک پہنچاتی ہیں ۔
رحمت النساء چیئرپرسن TWEET نے کانکلیو کا تعارف کراتے ہوئے کہا خواتین کو صرف بااختیار بنانے کی ضرورت نہیں بلکہ ان کو مواقع اورحصہ داری دینے کی ضرورت ہے۔
پراچی کول ڈائریکٹر، شاستری انڈو- کینیڈین انسٹی ٹیوٹ نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ خواتین کو ترقیاتی ایجنڈوں کے مرکز میں ہونا چاہیے، حاشیے پر نہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر ایم. افشار عالم، وائس چانسلر، جامعہ ہمدرد نے صدارتی خطاب میں خواتین کی زیر قیادت این جی اوز کو روایتی حدود سے آگے بڑھ کر پائیدار حل تلاش کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا ہمیں ایک نئے ہندوستان کی تعمیر کرنی ہے جہاں ہر عورت خود مختار ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ دراصل " ناری شکتی سَمان ہی راشٹر کا سَمان ہے " ۔
تکنیکی اجلاس بعنوان “سول سوسائٹی آرگنائزیشنز کا دائرۂ کار” کی صدارت معروف مصنف، موٹیویشنل اسپیکر اور کئی رضاکار اداروں کے مشیر ڈاکٹر اندو پرکاش سنگھ نے کی۔ ڈاکٹر سنگھ نے سول سوسائٹی آرگنائزیشنز کے بڑھتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالی، جو سماجی مسائل کے حل، حکمرانی کے خلا کو پُر کرنے اور پسماندہ طبقات کو بااختیار بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا مرد ابھی عورت سے پیچھے ہیں، اور جب مرد مکمل طور پر ارتقاء پاتا ہے تو وہ عورت بن جاتا ہے۔” ان کے اس دلچسپ اور معنی خیز تبصرے نے اجلاس کو فکرانگیز رخ دیا۔
پروفیسر اَروِندر انصاری، شعبۂ سوشیالوجی، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے حکومت کی اسکیموں اور عوامی ضروریات کے درمیان ربط پیدا کرنے میں گراس روٹ تنظیموں کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو ہر سطح پر چیلنجوں کا سامنا ہے اور این جی اوز ان رکاوٹوں کو توڑنے میں سرگرم ہیں۔
فرح شیروز، بانی و سی ای او نرچر لائف اتر پردیشنے این جی اوز کو درپیش مالی مشکلات، بیوروکریٹک رکاوٹوں اور فیصلہ سازی میں محدود شمولیت جیسے چیلنجوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے تعاون پر مبنی نیٹ ورکس، سماجی کاروباری ماڈلز، ممبرشپ سسٹمز اور پائیدار مالی حکمت عملیوں کو ضروری قرار دیا۔
انہوں نے کہا ، سول سوسائٹی آرگنائزیشنز صرف اہم نہیں بلکہ ناگزیر ہیں ، ان کا وجود مسائل نہیں بلکہ حل پیش کرنے کے لیے ہے۔
افتتاحی اجلاس کا اختتام پروفیسر ڈاکٹر سید النساء، آنریری ڈائریکٹر، سینٹر فار ٹریننگ اینڈ ڈیولپمنٹ، جامعہ ہمدرد کے شکریہ کے کلمات سے ہوا۔ اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے کھلے مباحثے میں اپنے تجربات، نظریات اور تجاویز پیش کیے۔

0 comments