آئیڈیل ریلیف ٹرسٹ کا بہار میں ائمہ و مؤذنین کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام

آئیڈیل ریلیف ٹرسٹ کا بہار میں ائمہ و مؤذنین کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام

ارریہ : (پریس ریلیز) بہار کے ضلع ارریہ کے بسمتیہ علاقے میں 24 نومبر بروز پیر آئیڈیل ریلیف ٹرسٹ کے زیر اہتمام ائمہ و مؤذنین کا ایک اہم تربیتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مقامی مساجد کے تقریباً 80 ائمہ و مؤذنین نے شرکت کی۔ ٹرسٹ کی جانب سے یہ پروگرام دینی رہنماؤں کی علمی و سماجی صلاحیتوں میں اضافہ اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

اجتماع کا آغاز تذکیر بالقرآن سے ہوا جسے مولانا عارف مظہری، نائب مہتمم درسگاہ اسلامیہ بسمتیہ نے پیش کیا۔ اس کے بعد جناب فردوس ندوی نے شرکاء کا خیرمقدم کیا۔

پروگرام کا مرکزی عنوان "اسلامی معاشرے میں علماء و ائمہ کا کردار" رہا، جس پر تفصیلی مذاکرہ منعقد ہوا۔ علماء نے دوٹوک انداز میں کہا کہ


مطالعہ اور تحقیق کا دروازہ کبھی بند نہ ہونے دیا جائے۔

جدید علوم اور حالات کے ادراک کے بغیر معاشرہ کی صحیح رہنمائی ممکن نہیں۔

نئے مسائل کے حل کے لیے علماء کی علمی صلاحیتیں مضبوط ہونا ضروری ہے۔

شادیوں کو آسان بنانے، معاشرتی اصلاح، اور دعوتِ دین کو وسعت دینے میں ائمہ کلیدی کردار ادا کریں۔

برادرانِ وطن سے مضبوط تعلقات استوار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

میڈیا اور سوشل میڈیا پر خیر کو فروغ دینا علماء کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

اس مذاکرہ کی صدارت محترم محمد فاروق ندوی نے کی۔

پروگرام میں آئیڈیل ریلیف ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد عارف ندوی نے خطاب کرتے ہوئے 'ویژن 2026' کے تحت جاری فلاحی و سماجی سرگرمیوں کا جامع تعارف پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرسٹ ائمہ و مؤذنین کے لیے سہ ماہی فری کمپیوٹر و ٹیکنالوجی کورس کا آغاز کر رہا ہے، تاکہ وہ جدید تعلیمی طریقوں، روزگار کے مواقع اور ڈیجیٹل دنیا سے بہتر طور پر واقف ہوسکیں۔ اس کے علاوہ:

میڈیکل کیمپس

چھوٹے کاروبار کی رہنمائی

سرکاری اسکیموں سے آگاہی

جیسے منصوبوں کے ذریعے ائمہ و مؤذنین کی فلاح میں مدد فراہم کی جائے گی۔

پروگرام میں امام جلال نے نعتِ رسولؐ پیش کی جبکہ فیصل جمال نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ اختتام پر ائمہ و مؤذنین میں ڈائریاں، وژن بیگز، مختلف کتب اور اسلامک پبلشنگ ہاؤس کی جانب سے خوبصورت طباعت کے ساتھ قرآن پاک تحفے میں تقسیم کیے گئے۔

شرکاء نے اس طرح کے تربیتی پروگراموں کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے مساجد کے انتظام و انصرام اور ائمہ کی علمی استعداد میں اضافے کے لیے ایسے اجتماعات کے تسلسل پر زور دیا۔

 

 

0 comments

Leave a Reply