اسلام آباد کا تہران کو رابطے بڑھانے اور بات چیت نہ روکنے کا پیغام
پاکستان: العربیہ/الحدث کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی وفد نے اسرائیل کے لبنان پرحملوں کے باعث مذاکرات سے دستبردار ہونے کی دھمکی دی ہے۔ذرائع کے مطابق ایرانی وفد نے واضح کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں خطے میں جاری کشیدگی مذاکراتی عمل پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے آغاز کے وقت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کے درمیان، پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد پہنچ گئے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ محسن نقوی کے دورے کے دوران ان کی ملاقات ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے طے ہے۔
بقائی نے مزید کہا کہ یہ دورہ ان مسلسل کوششوں کا حصہ ہے جو اسلام آباد ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کے حوالے سے کر رہا ہے، جیسا کہ ایرانی خبر رساں ایجنسی ''اسنا ''نے رپورٹ کیا ہے۔
قائل کرنے والے پیغامات
ذرائع کے مطابق پاکستان کے وزیر داخلہ ایران کو قائل کرنے کے لیے پیغامات لے کر گئے ہیں، جن کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی مذاکرات کا آغاز ممکن بنانا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ محسن نقوی کی کوشش ہے کہ ایرانی وفد کو مذاکرات میں شرکت کے لیے قائل کیا جائے اور ان کی جانب سے کسی قسم کی تاخیر کو روکا جائے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ اگر ایران بغیر تاخیر کے مذاکرات میں شرکت پر رضامند ہو جاتا ہے تو پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی سوئٹزرلینڈ روانہ کیا جائے گا۔
لبنان کا مسئلہ
ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سب سے اہم اور پیچیدہ مسئلہ لبنان ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی وفد نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں اپنے حملے جاری رکھے تو وہ مذاکرات سے دستبردار ہو سکتا ہے۔
اطمینان کا پیغام
اسی دوران العربیہ/الحدث کی نمائندہ نے سوئٹزرلینڈ سے رپورٹ کیا ہے کہ محسن نقوی ایرانی فریق کو کچھ ضمانتیں دینے کے لیے پیغام لے کر گئے ہو سکتے ہیں، جس کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا آغاز ممکن بنانا ہے، جو پہلے سوئٹزرلینڈ میں شروع ہونے والے تھے مگر بعد میں مؤخر کر دیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق ایک اعلیٰ امریکی وفد پہلے ہی سوئٹزرلینڈ پہنچ چکا ہے، جہاں توقع تھی کہ امریکا اور ایران کے درمیان ملاقاتیں لوسرن کے علاقے میں واقع بورگن اسٹاک ریزورٹ میں منعقد ہوں گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے، جب ایک امریکی اہلکار نے بتایا ہے کہ امریکی صدر کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف بھی سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر جیرڈ کشنر پہلے ہی وہاں موجود ہیں، جیسا کہ ''اکسیوس'' ویب سائٹ نے رپورٹ کیا ہے۔
دوسری جانب ایک باخبر ذریعے کے مطابق بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی بھی سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں تاکہ جوہری مذاکرات کے تکنیکی پہلوؤں میں مدد فراہم کر سکیں۔
بتایا گیا ہے کہ انہوں نے وہاں امریکی تکنیکی ٹیموں سے ملاقات بھی کی ہے۔اسی دوران ایک اور ذریعے نے توقع ظاہر کی ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی آج شام جنیوا پہنچ سکتے ہیں۔
سوئس وزارت خارجہ نے گزشتہ روز امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ملتوی ہونے کی تصدیق کی تھی، جو اس وقت سامنے آئی جب وائٹ ہاؤس نے بھی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ لاجسٹک وجوہات کی بنا پر منسوخ کر دیا تھا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تمام زیر التوا مسائل 60 دن کے اندر حل ہونے کی امید ظاہر کی ہے اور ساتھ ہی معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دوبارہ دی ہے۔

0 comments