کوثر اعظمی کے نعتیہ و حمدیہ مجموعے ’’ذکرِ محمدؐ‘‘ کی پُروقار رسمِ رونمائی

 نئی دہلی : (ایشیا ٹائمز نیوز ڈیسک ) ادارۂ ادبِ اسلامی ہند کے مرکزی دفتر میں گزشتہ شام تحریکِ اسلامی کے دورِ اوّل کے ممتاز قائد، شاعر و ادیب مرحوم کوثر اعظمی کے نعتیہ و حمدیہ کلام پر مشتمل مجموعے ’’ذکرِ محمدؐ‘‘ کی پُروقار رسمِ رونمائی منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت ادارۂ ادبِ اسلامی ہند کے سابق صدر اور معروف ناقد ڈاکٹر حسن رضا نے کی۔

واضح رہے کہ یہ مجموعہ مرحوم کوثر اعظمی کے انتقال کے سات برس بعد شائع ہوا ہے، جس کی ترتیب ان کے شاگرد ڈاکٹر محمد اسماعیل اصلاحی نے دی، جبکہ اشاعت اسوہ اکیڈمی، علی گڑھ کے زیرِاہتمام عمل میں آئی۔

تقریب کا آغاز علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طالب علم اور مرحوم کے نواسے حافظ محمد حامد کی پُرسوز تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا۔ اس کے بعد ڈاکٹر حسن رضا نے کتاب کی باضابطہ رونمائی انجام دی۔

مہمانِ خصوصی، جماعتِ اسلامی ہند کے مرکزی سکریٹری ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی نے کہا کہ ادبِ اسلامی کے فروغ میں جماعتِ اسلامی کے ابتدائی دور کے جن شعرا و ادبا کی خدمات نمایاں رہیں، ان میں کوثر اعظمی کا نام نہایت اہم ہے۔ انہوں نے منتشر کلام کو یکجا کرنے پر مرتبِ کتاب کو مبارکباد دی اور بتایا کہ اسی مقصد کے تحت علی گڑھ میں اسوہ اکیڈمی قائم کی گئی، جس کے اشاعتی منصوبے کے تحت یہ پہلا نعتیہ مجموعہ شائع ہوا، جبکہ وسائل کی کمی کے باعث مرحوم کے دیگر شعری مجموعے تاحال اشاعت کے منتظر ہیں۔

ادارۂ ادبِ اسلامی ہند کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر خالد مبشر نے کوثر اعظمی کی نعتیہ شاعری کی فکری، فنی اور اسلوبی جہات پر روشنی ڈالی۔
مرتبِ کتاب ڈاکٹر محمد اسماعیل اصلاحی نے مرحوم سے اپنے علمی و روحانی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ باقی ماندہ کلام کی اشاعت کی کوششیں جاری ہیں اور آئندہ برسوں میں دہلی میں ان کی ادبی خدمات پر ایک باوقار سمینار منعقد کرنے کا ارادہ ہے۔

صدارتی خطاب میں ڈاکٹر حسن رضا نے ادبِ اسلامی کے جمالیاتی پہلوؤں اور نعتیہ شاعری کی معنویت پر تفصیلی گفتگو کی، نیز تاثراتی تنقید کے نقائص اور ممکنہ نقصانات کی نشاندہی بھی کی۔

تقریب کے محرک و منتظم دلشاد حسین اصلاحی نے شرکا کا شکریہ ادا کیا، جبکہ نظامت کے فرائض اسوہ اکیڈمی، علی گڑھ کے سکریٹری ڈاکٹر سیف اللہ اصلاحی نے انجام دیے۔

اس ادبی مجلس میں نوجوان ادبا و شعرا اور صحافیوں کی بڑی تعداد شریک رہی، جن میں ایشیا ٹائمز کے بانی اشرف علی بستوی، ڈاکٹر نور اللہ خان فلاحی، ایڈوکیٹ شیر افگن اصلاحی، ڈاکٹر فیصل اصلاحی اور ڈاکٹر کاشف اصلاحی قابلِ ذکر ہیں۔

0 comments

Leave a Reply