آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے دہلی صدر کلیم الحفیظ کے نام

کلیم صاحب یہ سیاسی پتنگ ہے ، اڑاتے وقت بس یہ خیال رہے کہ آپ کے پاوں ہمیشہ زمیں پر ہوں اپنا مانجھا مضبوط رکھیں

 

اشرف علی بستوی

ممبر آف پارلیامنٹ اسدالدین اویسی نے دارالحکومت دہلی میں آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے پتنگ کی ڈور معروف تاجر ، سیاسی وسماجی کارکن کالم نگار کلیم الحفیظ کے ہاتھوں میں سونپ کر کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے لیے بڑی مشکل کھڑی کر دی ہے . بیرسٹر اسدالدین اویسی نے 18 مارچ کی شام توئیٹ کے ذریعہ  یہ اطلاع دی۔ سوشل میڈیا پر یہ خبر عام ہوتے ہی چہار جانب سے مبارکباد پیغامات کا سلسلہ شروع ہوگیا  ۔

اسدالدین اویسی ، کلیم الحفیظ کو دہلی صدر کے طور پر اعلان کرنے کے بعد  انہیں گلدستہ پیش کرتے ہوئے 

 اس اعلان کے فورا بعد میری کئی اہم سماجی  و سیاسی کارکنوں ، بیدار ذہن شہریوں اور نوجوانوں سے بات ہوئی ان کا پہلا تبصرہ یہ تھا کہ اسدالدین صاحب کا یہ فیصلہ دہلی میں آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کو مضبوط کرنے والا ہے ، انہوں نے ایک فعال سرگرم باحیثیت اورمعروف چہرہ دہلی کو صدر کے طور پر ہیش کیا ہے ۔ اب یہ کلیم الحفیظ اور ان کی اعلیٰ لیڈرشپ کی بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ دہلی کے لوگوں کی  توقعات  پر کیسے کھرا اتریں گے  ؟

 کلیم الحفیظ اور ان کی پارٹی کے لیے یہ بڑا موقع  ہے کیونکہ دہلی کے سیاسی اثرات ملک کے کونے کونے تک پہونچتے ہیں اگر یہاں کچھ اچھا کرپانے میں کامیاب ہوئے تو شمالی ہند میں پارٹی کو وسعت ملے گی ۔

 لیکن اس وقت  آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین پارٹی کو جو سب سے بڑا سوال پیچھا کر رہا ہے وہ یہ کہ اس پارٹی کا ہر عمل  بی جے پی کو فائدہ پہونچانے والا ہوتا ہے اور یہ سوال خود کو سیکولر کہنے والی سبھی سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدت سے ہر پلیٹ فارم پر اٹھایا جا رہا ہے ، کلیم صاحب  آپ کو پارٹی کے ساتھ  ملکر  اس کا مدلل جواب تلاش کرنا ہوگا ۔

کون ہیں کلیم الحفیظ ؟

کلیم الحفیظ ایک کامیاب تاجر ہیں ایک عرصے سے ملک کے سیاسی و سماجی حالات پر اپنے ہفتہ وارکالم میں اپنا موقف رکھتے  رہے ہیں ،دہلی کی سیاسی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں ۔ خاص طور سے تعلیمی بیداری ان کا موضوع رہا ہے ۔ 2010 میں  اپنے آبائی وطن بدایوں ، سہسوان میں ایک بڑا تعلیمی کیمپس شروع کیا کلیم الحفیظ اکیڈمی کی بنیاد ڈالی اسے بارھویں تک سی ابی ایس ای بوڑد سے منظوری حاصل کی ، 2019 میں  دہلی کے اوکھلا میں شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوٹس بیدر سے ملکر ابو الفضل میں شاہین اکیڈمی دہلی شروع کیا  ۔  یہاں میڈیکل اور انجینئرنگ کی تیاری کرائی جاتی ہے ، کلم الحفیظ دہلی کے مسلمانوں کے تعلیمی و سماجی ترقی کے ایشوز پر مسلسل لکھتے ، بولتے اور اپنے حصے کا عملی کام کرتے دیکھے جا سکتے ہیں  ۔

عام آدمی پارٹی کے منفی رویہ سے نالاں تھے کلیم الحفیظ 

یہی وجہ رہی کہ ایک وقت میں کلیم الحفیظ ، وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال ،نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا ،مقامی ایم ایل اے امانت اللہ خان  کی مسلمانوں کے تعلیمی ایشوزکو حل کرنے میں دلچسپی دیکھ کر کیجری وال حکومت سے قریب ہوگئے تھے کئی اہم میٹنگیں کیں ۔

 وقف بورڈ کے 250 اسکولوں کے قیام کا اعلان نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا نے  اپنے ایم ایل اے امانت اللہ خان کے ساتھ  کلیم الحفیظ کے ہوٹل ریور ویو میں سیکڑوں مسلم دانشوروں کی موجودگی میں کیا تھا ، جس کی کافی چرچا رہی،  لیکن یہ پروجیکٹ وقف بورڈ اور دہلی سیکریٹریٹ کے گلیاروں میں کہاں بھٹک گیا اس کی کوئی آفیشیل اطلاع ابھی تک دہلی کے لوگوں کو نہیں دی گئی ہے ۔   

 وقف اسکول کا خاکہ بنانے میں  بھی کلیم الحفیظ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کافی پیش پیش رہے ،جسے دیکھ کر لوگ یہ گمان کرنے لگتے تھے کہ کلیم الحفیظ بہت جلد عام آدمی پارٹی میں باقاعدہ شمولیت اختیار کر لیں گے ۔

لیکن وقت کے ساتھ  حالات یکسر تبدیل ہوگئے عام آدمی پارٹی کو اپنا وعدہ یاد نہ رہا 2020 کے الیکشن کے بعد مسلم ووٹرس کو عاپ نے مزید مایوسی کیا شاید یہی کچھ باتیں تھیں جسکی وجہ سے  کلیم الحفیظ عام آدمی پارٹی سے دور ہوتے چلے گئے۔

اب  ایسے حالات میں انہیں فیصلہ کرنا تھا کہ وہ 'جھاڑو' اٹھائیں ، کسی کا ' ہاتھ ' تھا میں یا 'پتنگ' کی ڈورہاتھ میں لیں انہوں نے اپنے لیے پتنگ کی ڈور تھامنا مناسب سمجھا۔

کلیم صاحب  یہ سیاسی پتنگ ہے ، اڑاتے وقت بس یہ خیال رہے کہ آپ کے پاوں ہمیشہ زمین پر ہوں اپنا مانجھا مضبوط رکھیں اپنی خوبیوں اور خامیوں کا ہر روز جائزہ لیں  اور ہر طرح کے مخالفین کو درگزرکرتے ہوئے آگے بڑھیں ، سیاست کی اس خاردار وادی سے  صحیح سلامت گزرجانے کا یہی بہتر طریقہ ہو سکتا ہے ۔

علامہ اقبال  نے کامیابی کا جو نسخہ بتایا ہے وہ دیکھیں

یقیں محکم عمل پیہم ، محبت فاتح عالم

جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں  

علامہ اقبال

0 comments

Leave a Reply