این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹرنے 5 ماہ 10 دن کے طویل انتظار کے بعد اردو صحافیوں سے غیر رسمی ملاقات کی

سبھی کو سنا، اردو کے فروغ کی اپنی کاوشوں ، بے چینیوں سے اردو میڈیا کو آگاہ کیا اور مشورے طلب کیے

 نئی دہلی : ( ایشیا ٹائمز/ اشرف علی بستوی ) پورے 5 ماہ 10 دن کے طویل انتظار کے بعد آج 29 اگست کو 'قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان'  کے ڈائریکٹرڈاکٹر شمس اقبال اپنے دفتر میں اردومیڈیا سے روبرو ہوئے، 19 مارچ 2024 کو انہوں نے این سی پی یوایل کو جوائن کیا تھا ۔ میٹنگ ہال میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے انہوں نے اس تاخیر کے لیے اظہارمعذرت کی ان کے بقول یہ کوئی رسمی پریس کانفرنس نہیں ہے بلکہ دہلی میں مقیم اردو کے چنندہ سینئر صحافیوں سے ایک غیر رسمی ملاقات ہے ، جس کا مقصد این سی پی یو ایل کی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں عملی تجاویز اورمشورہ کرنا ہے ۔ آج کی اس غیر رسمی میٹنگ میں اردو کے گیارہ سینئرصحافیوں کو ٹییلیفونک کال کے ذریعے مدعو کیا گیا تھا ۔


آئیے پہلے پس منظر جان لیتے ہیں پھر آگے بڑھتے ہیں

اس معاملے میں ڈاکٹرشمس اقبال نےسابق ڈائریکٹرس کی روایت سے ہٹ کر پریس کانفرنس نہ کرنے کا فیصلہ کیا، پہلے یہ روایت رہی ہے کہ جب بھی کوئی نیا ڈائریکٹرمقرر ہوتا ایک میگا پریس کانفرنس ضرورکرتا لیکن آج کی یہ میٹنگ غیررسمی رکھی گئی تھی ۔ بتادیں کہ این ایس پی یو ایل آج بھی وائس چیئر مین اور ایگزیکیٹیو کمیٹی کے انتظار میں ہے ، یہی وجہ ہے کہ گرانٹ ان ایڈ کی سبھی اسکیمیں لگ بھگ تین برس سے معطل ہیں ۔ ڈاکٹر شمس اقبال سے قبل ڈاکٹر شیخ عقیل این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹرتھے انہیں حکمراں حلقے کی قربت حاصل تھی جس کا وہ اکثر اپنی محفلوں میں اظہار بھی کیا کرتے تھے لیکن وہ بھی ایگزیکیٹیو کمیٹی پانے سے محروم رہے جس کے نتیجے میں این سی پی یو ایل کی متعدداسکیمیں ایک ایک کرکے بند ہوتی گئیں ۔ یہ تو رہا پورا بیک گراونڈ ۔


ایگزیکیٹیو کمیٹی نہ ہونے سے کیا نقصان ہو رہا ؟

ایگزیکیٹیو کمیٹی نہ ہونے سے این سی پی یو ایل کی اردو کے فروغ  کے نئے منصوبوں پر کام اورگرانٹ ان ایڈ کے تحت جاری ، ریسرچ پروجیکٹس، مخطوطات کی پبلشنگ، کتابوں، مجلوں اور پرچوں کی خرید ،سیمینار ،کانفرنس ،ورک شاپ اور مشاعرے ، عربی اور فارسی کی ترویج کے لیے مالی امداد سبھی ٹھپ پڑ چکے ہیں ۔  

ڈاکٹر شمس اقبال سے آج کیا بات ہوئی ؟

این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹرڈاکٹر شمس اقبال نے آج کی اپنی گفتگو گزشتہ ہفتے اختتام پذیر ہوئے سری نگر چنارکتاب میلے سے شروع کی وہ کافی پرجوش نظرآئے ، میلے میں امڈی بھیڑ کا بار بارذکرکرتے دیکھے گئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال مجھے جو اختیارحاصل ہے اس میں کام کرنے کی کوشش کر رہا ہوں ، لوگوں کو کتابوں سے جوڑنے کی کوشش ہو رہی ہے ، لیکن گفتگو کے دوران میٹنگ میں موجود صحافیوں نے یہ بات بہت شدو مد سے اٹھائی کہ اردو قارئین کی مسلسل گرتی تعداد کو کیسے بڑھایا جائے این سی پی یو ایل اس کی فکر کرے، نئی نسل اردو پڑھے گی تبھی تو اردو کا یہ کارواں آگے بڑھے گا اس پرانہوں نےاسکولوں میں اردو کہانیاں سنانے کی پہل کرنے کی تدابیر تلاش کرنے کی بات کی تاکہ بچوں میں شوق پیدا کیا جائے ۔ یوں تو یہ تدبیر  اچھی لگی لیکن اس کی عملی شکل کیا ہوگی یہ امر بھی قابل غور ہے ۔

بات اردو صحافت اور صحافیوں کی بھی ہوئی

بات اردو صحافت اور صحافیوں کی بھی ہوئی ڈاکٹر شمس اقبال نے یہ تسلیم کیا کہ " اردو صحافت اور صحافیوں کو جوڑنے میں این سی پی یو ایل سے کوتاہی ہوئی ہے لیکن اب ایسا نہیں ہوگا ، بہت جلد دہلی میں نئی نسل کے اردو صحافیوں کی صلاحیت سازی کے لیے ورک شاپ منعقد کی جائے گی " ۔ یاد رہے اس طرح کی پہلی ورک شاپ کی شروعات  دہلی سے 2011 میں سابق ڈائریکٹر حمید اللہ بھٹ نے کی تھی، جس میں 30 سے زائد صحافی شریک ہوئے تھے  ۔

بات اردو کے فروغ میں سرگرم آن لائن نیوزپورٹلس اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کی بھی ہوئی ، اس پرانہوں نے یقین دلایا کہ ہم اس پر ضرور کوئی منصوبہ لائیں گے ۔ ہم مثبت امید رکھتے ہیں ۔ سب سے پہلے یہ معاملہ  سابق ڈائریکٹرپروفیسرارتضٰی کریم کے سامنے ایشیا ٹائمز نے اٹھایا تھا ،اس کے بعد ڈاکٹر شیخ عقیل کے چارج سنبھالنے کے بعد ان کے سامنے یہ مطالبہ رکھا گیا اورآج ڈاکٹر شمس اقبال کے سامنے ایشیا ٹائمز نے یہ مطالبہ رکھا ہے ، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کو عملی جامہ پہنانے میں موجودہ ڈائریکٹر کیا رول ادا کرپاتے ہیں ؟

این سی پی یو ایل کی ایگزیکیٹیو کمیٹی کی تشکیل کا دارومدار وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی ایما پر ہے

چونکہ یہ ایک غیر رسمی ملاقات تھی اس لیے زیادہ تر گفتگو مشاورتی نوعیت کی رہی ، فی الحال ڈائریکٹرصاحب کے ارادے اور حوصلے کی داد دیجیے کہ انہوں نے جوائننگ کے 163 دن کے بعد غیر رسمی ہی سی ملاقات کی اورسبھی کو سنا اور اردو کے فروغ کی اپنی کاوشوں اوربے چینیوں سے اردو میڈیا کو آگاہ کیا۔ ظاہر ہے این سی پی یو ایل کی ایگزیکیٹیو کمیٹی کی تشکیل کا دارومدار وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی ایما پر ہے کہ وہ اس ادارے کے چیئرمین ہیں ڈائریکٹرکاکام وزارت تعلیم اور این سی پی یو ایل کے درمیان رابطہ کار کا ہے اور این سی پی یو ایل کی اسکیموں کے نفاذ اور اس کی نگرانی کا ہے ، اس بارے میں این سی پی یو ایل کے ممبران بھی اہم رول ادا کرسکتے ہیں کیونکہ وہ سبھی نام وزارت تعلیم نے ہی طے کیا ہے، سبھی ممبران کسی نہ کسی درجے میں حکمراں حلقے میں قبولیت رکھتے ہیں انہیں بھی سوچنا چاہیے کہ جتنی جلد ایگزیکٹیو کمیٹی تشکیل پا جائے گی این سی پی یو ایل کی سرگرمیاں پٹری پر لوٹ آئیں گیں     ۔

محترم قارئین کرام آپ مندرجہ ذیل تصویر پر کلک کرکے ہمارے یوٹیوب چینل ایشیا ٹائمز ٹی وی کو سبسکرائب کر سکتے ہیں  


0 comments

Leave a Reply