پروفیسر سنجے دیویدی کی صحافت کے تین عشرے: تخلیق، تشکیل اور جدوجہد سے بنی شخصیت
ان کی تحریروں میں وقار، الفاظ میں شرافت اور اسلوب میں حیرت انگیز ضبط ہے
پروفیسر سنجے دیویدی کی تحریر کو کسی ایک دائرے میں مقید کرنا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے 1994 میں بھوپال کے دینک بھاسکر سے اپنی فعال صحافت کا آغاز کیا اور اب تک اس میدان میں تین دہائیاں مکمل کرچکے ہیں۔
اس دوران اُن کے حصے میں 35 سے زیادہ کتابیں آئیں، وافر تحریری سرمایہ وجود میں آیا اور میڈیا ایجوکیشن و صحافت کے میدان میں اُن کی قائدانہ ذمہ داریاں نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
زندگی کو دیکھنے اور برتنے کا اُن کا انداز منفرد ہے۔
ایک صحافت کے استاد کے دل کی حساسیت عام آدمی سے لازماً مختلف ہوتی ہے۔
ان کی تحریروں میں وقار، الفاظ میں شرافت اور اسلوب میں حیرت انگیز ضبط ہے۔
پروفیسر دیویدی کے مضامین پڑھ کر اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے تجرید کا راستہ اختیار کیا ہے۔
انہوں نے حقائق کے ساتھ جذبات کو بھی برابر اہمیت دی ہے۔ حسن اُن کی تحریروں کا بنیادی وصف ہے جس کے ذریعے وہ زندگی کے ہر پہلو کو غیرجانبداری سے پیش کرتے ہیں۔

Sanjay Dwivedi
یقیناً ان کی قلم سے ابھرنے والی تجریدی تصویریں سماجی ڈھانچے کے نہایت اہم پہلوؤں کو بھی واضح کرتی ہیں۔
میں ان کی پوسٹس پڑھتا ہوں، لیکن کبھی کبھار انہیں لائک نہیں کرپاتا۔
مجھے لگتا ہے کہ اگر لائک کر دیا تو اس پر ردعمل دینے کی ذمہ داری آ جائے گی۔ اور سچ یہ ہے کہ اُن کے مضمون پر صرف ایک دو جملے کی رائے دینا مجھے مصنف کی توہین سا لگتا ہے۔
بہتر یہی ہے کہ اُن کی ہر تحریر کو محفوظ کر لیا جائے تاکہ جب زندگی کے شور و ہنگامے سے دل اُکتا جائے تو تنہائی میں بیٹھ کر انہیں پڑھا جائے۔
اُن کے مضامین میں ایک غیر متوقع خوبصورتی اور گہرائی ہے، ہر پیراگراف ایک نئے موڑ کی طرف لے جاتا ہے۔
اُن کی پوسٹس طویل ہوتی ہیں مگر انہیں اس کی پرواہ نہیں ہوتی۔ اُن کا دھیان ہمیشہ تحریر کو صحیح شکل دینے اور اسے اُس جذباتی لباس میں پیش کرنے پر رہتا ہے جس کا وہ ارادہ رکھتے ہیں۔
پڑھنے کی عادت اور جنون کی وجہ سے میں نے ان کے کئی مضامین پڑھے ہیں۔
کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ اُن کی تمام فیس بک پوسٹس کا پرنٹ نکال کر چھٹی کے دن سارے کام چھوڑ کر پورا دن سکون سے پڑھتا رہوں۔

Magician OP Sharma’s show
سچ کہوں تو ان کے قلم میں وہ کشش ہے جو براہِ راست دل تک پہنچتی ہے۔
ایسے مصنف بہت کم ملتے ہیں اور سنجے دیویدی جی اُن میں سے ایک ہیں۔
اُن کی تحریر میں حقیقت نگاری سے لے کر عصری فکر تک سب موجود ہے، جو قاری کو بڑی نرمی کے ساتھ تحریر میں چھپے لطیف جذبات کو محسوس کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
مصنف کی اصل پہچان الفاظ کی شرافت میں ہے۔ کم سے کم الفاظ میں بڑی انسانی کیفیت بیان کرنا ہی اُن کا اسلوب ہے۔
چند روز پہلے ان سے گفتگو ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ میرے ہی ضلع فیض آباد (موجودہ ایودھیا) کے رہنے والے ہیں۔
یہ جانتے ہی وہ بالکل ٹھیٹھ اودھی انداز میں بات کرنے لگے۔
فون پر کہنے لگے: “جاو بھائی! تُو تو ہمریا ہُوا... اب کی دہلی آبو تو ضرور ملبو، بتیاں ک کے جی خوش ہوا ”
اُن کے اس انداز نے دل کو خوشی سے بھر دیا۔

انہوں نے جو ای-کتاب بھیجی، پورا دن اُسے پڑھنے میں لطف آتا رہا۔
لوک زندگی، ملک اور سماج کو سمجھنے کے لیے ’یایاوَری‘ (سیاحت و آوارہ گردی) ضروری ہے، یہی کسی مصنف کی اصل کامیابی ہے۔
دیویدی جی کی یایاوَری ان کی تحریر کے حسن کو اور نکھارتی ہے۔
ملکی الفاظ میں نئی جان ڈالنے کی قوت اُن کی اسی یایاوَری سے پیدا ہوتی ہے۔
کبھی کبھی لگتا ہے دنیا واقعی بہت چھوٹی ہے، سب کسی نہ کسی طرح سے جُڑے رہتے ہیں۔ یہی جُڑاؤ ہماری اصل پونجی ہے۔
ہندی صحافت میں اپنے تین عشرے مکمل کرچکے پروفیسر دیویدی سے اُمید ہے کہ وہ اپنی تخلیقی قوت سے ہندی سماج کو مسلسل مالا مال کرتے رہیں گے۔

منی کانت شکلا (مصنف سینئر صحافی ہیں اور دہلی میں مقیم ہیں)
ہندی سے ترجمہ اشرف علی بستوی

0 comments