مسلمانوں کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش سمیت یوپی میں بھاجپا کی شکست کی اور کئی وجہہیں آئیں سامنے

ضرغام خان ۔۔ پی این ایس نیوز

لکھنو:۔یوپی لوک سبھا انتخابات کے حوالے سے پی این ایس نیوز نے بی جے پی کی شکست کی وجوہات پر تجزیہ کیاتوبی جے پی کی شکست کی پرتیں کھل کر سامنے آگئیں۔بھاجپا کی طرف سے ،خاص کر وزیرعظم نریندر مودی کی زبان سے الیکشن کے دوران جس طرح کا ماحول بنایا گیا،مسلمانوں کو ٹارگیٹ بناتے ہوئے ،کئی طرح کے بیانات دئے گئے مگریہ کمیونٹی خاموش رہی اور کسی طرح کاکوئی ردعمل نہیں دیابلکہ اس نے پوری ہوشمندی کے ساتھ گھروں سے نکل کر یکطرفہ ووٹ کیا ۔

ہند وووٹروں نے بھی اندر خانے محسوس کیا کہ وزیراعظم کے منہ سے اسطرح کی بیان بازی جمہویت کے لئے انتہائی خطرناک ہے تو اس نے بھی خاموشی سے اپناکام کیا۔یہی نہیں جب ہم دیگرباتوں کا تجزیہ کرتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہےکہ اس کے پیچھے کوئی ایک وجہ نہیں ہے کئی وجہیں اور بھی ہیں ۔


 دوسری سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بی ایس پی کے ووٹروں کاانڈیا اتحاد کی طرف رخ کرنا ہے۔ جہاں کانگریس تھی، وہ اس کی طرف گیا، جہاں سماج وادی پارٹی کا امیدوار تھا، اس کی جھولی میں ووٹ ڈالا۔


اس دوران مایاوتی کا کردار بھی مشکوک رہا ہے۔ جس طرح انہوں نے الیکشن کے دوران آکاش آنند کو پارٹی سے نکالا وہ بی جے پی کے خلاف بہت زیادہ بول رہے تھے، انہیں ہٹا کر یہ پیغام دیا گیا کہ بی ایس پی سپریمو مایاوتی کو یہ باتیں پسند نہیں آئیں گی کیونکہ وہ اندر خانہ بی جے پی کے ساتھ ہیں۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ دلت ووٹروں کا جھکاو ¿ انڈیا الائنس کی طرف بڑھ گیا۔


اس کے علاوہ نوجوان ووٹروں میں ناراضگی اور بے چینی بھی دیکھی گئی۔ان کاکہنا تھا مہنگائی بڑھ رہی ہے، بار بار پرچے آوٹ ہو رہے ہیں۔افسروں کی تاناشاہی اورناجائز وصولی، امتحانات کینسل ہو رہے ہیں اورروزگار کا معاملہ کافی اہم رہا ہے۔کل ملاکرجو بڑے پیمانے پر پھیربدل ہو رہے ہیں اس کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے، ہر طبقے میں ناراضگی ہے، بہت سے مسائل منہ بائے کھڑے ہیں اور حکومت خاموش تماشائی تھی۔


دوسرا بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنے مودی برانڈ نام پر اتنا بھروسہ ہوگیا تھاکہ اگر ہم کسی کو بھی میدان میں اتاریں گے تو وہ جیت جائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔


 اگر آپ لکھنو ¿ کے آس پاس کی سیٹوں کو دیکھ لیں۔ ہم موہن لال گنج کی ہی بات کرلیں تو وہاں لوگ اپنے ایم پی کو لے کر ناراض تھے لیکن ٹکٹ نہیں بدلا گیا۔ اگر ہم مشرقی اتر پردیش کی کئی سیٹوں پر جائیں تو لوگ اپنے امیدوار سے خوش نہیں تھے۔ لیکن لگا کہ اوور کانفیڈینس یابہت زیادہ بھروسہ ہوگیا۔کسانوں کی کوئی بات نہیں سنی گئی ،ان کے ساتھ زیادتی معاملہ بھی ناراضگی کاسبب بنا۔پانچ کلوراشن دے کر اسے باربار جتانااور نہیںبلاکرتصویریں شوٹ کرانابھیان کے دل کوکہیں نہ کہیں ٹھیس پہنچانے جیسا رہا۔


اس کے علاوہ بی جے پی کارکن کہیں نہ کہیں اگنور تھے۔ انہوں نے اپنے کوکنارے رکھا۔بہت سے لیڈروں اور کارکنوں کوکوئی کام دیناتودور انہیںپوچھا

تک نہیں گیا ، کھشتریوں کوحاشئے پرلاکھڑاکردیاحالانکہ وہ ہمیشہ طاقتور رہے ہیں اور ماحول بنا سکتے تھے۔ مجموعی طور پر شروع سے ہی ماحول اس نوعیت کا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اس کا ادراک نہیں کر سکی۔ 400پار کا نعرہ یقیناً کئی ریاستوں میں کارآمد ثابت توہو لیکن اتر پردیش میں ایسا لگتا ہے کہ پارٹی کارکنوں اور تنظیم نے اسے اوورکانفیڈیس کے طور پر لیا اور مجھے لگتا ہے کہ انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔


دراصل راہل گاندھی نے جس طرح خود کو عام آدمی سے جوڑا۔ انہوں نے پورے ملک کی یاتراکی۔ انہوں نے جنوب سے شمال، مشرق سے مغرب تک کی یاتراکی۔ وہ کبھی بڑھئی کے ساتھ بیٹھے اور کبھی ٹرک پر سفر کرتے نظرآئے ۔ یہ چیزیں دھیرے دھیرے لوگوں کے دلوں میں گھرکرنے لگی تھیں۔ اورلوگوں کوراہل کہ یہ باتیں پسند آنے لگیں تھےں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے یہ گراونڈ تک پہنچ رہا تھا۔ دوسراجو ان کے وعدے ہیں پیسہ دینا، ریزرویشن کامسئلہ ، آئین بدلنے کی بات نیچے تک جارہی تھی ۔

0 comments

Leave a Reply