دودن پر مشتمل شاہین گروپ بیدر کی یہ تعلیمی سیاحت بہت کامیاب رہی

جذبہ ایثار سے پر اسٹاف ۔سلیقہ۔متانت۔سنجیدگی اور یکسوئی سے بھر پور ماحول شاہین کے ہر ذرے میں دیکھا جاسکتا ہے۔

 رپورٹ  : عبد الغفار 

الحمد للہ شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشن کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ۔قابل احترام جناب عبدالقدیر صاحب اور ان کے اہل خانہ کی محنت اور خلوص  سے شاہین آسمان کی بلندیاں چھو رہا ہے۔ ہر سال اس کی پرواز بلند تر ہوتی جارہی ہے ۔یہ سب اللہ کے اس وعدے کے مطابق ہے جس میں وہ محسنین کے اجر کوضائع نہ کرنے کا وعدہ کرتا ہے ۔ ان اللہ لایضیع اجر المحسنین ۔خوبصورت عمارات ۔ صاف ستھرے ہاسٹل۔ جذبہ ایثار سے پر اسٹاف ۔سلیقہ۔متانت۔سنجیدگی اور یکسوئی سے بھر پور ماحول شاہین کے ہر ذرے میں دیکھا جاسکتا ہے۔

شاہین کا پورا اسٹاف اپنے مقصد کی جانب گامزن ہے اسی لیے اپنے اہداف کو حاصل کررہا ہے۔ایک چپراسی سے لے کر بانی تک کی فکر یہی ہے کس طرح بچہ ملک اور قوم کے لیے مفید بنے۔آج شاہین جن بلندیوں پر ہے   ۔اس کا یہ سفر 32 برسوں پر محیط ہے ۔آج  شاہین کو دیکھ کر جس دل میں خواہش ہوتی ہے کہ ہمارے علاقے میں بھی اسی طرح کا شاہین ہو۔اس دل کو وہ درد و الم بھی محسوس کرنے چاہیے جو ان 32 برسوں میں عبدالقدیر
صاحب اور ان کی ٹیم کو برداشت کرنے پڑے ہیں ۔

کیا مسافر تھے اس راہ گزر سے گزرے

عبدالقدیر صاحب کی شخصیت متاثر کن ہے۔ان کے چہرے میں جاذبیت ہے۔ان کی گفتگو کی شیرینی اپنا بنانے میں کامیاب ہے۔ان کا اللہ پر ایمان ان کے عزم و حوصلے کے لیے غذا ہے ان کی  عاجزی اور مہمان نوازی لوگوں کو گرویدہ بناتی ہے۔
 
شاہین کی خوبی یہ ہے کہ یہاں پر طلبہ کو تعلیم کے ساتھ تربیت دی جاتی ہے ۔یہاں بچوں کو طالب علم کے بجائے علمی میدان کا گھڑ سوار بنایا جاتا ہے ۔وہ صبح ساڑے چار بجے اٹھتا ہے اور رات کے ساڑھے دس بجے تک مصروف رکھا جاتا ہے۔پانچ وقت کی نمازیں ۔ناشتہ و کھانے اور آدھا گھنٹہ کھیلنے کے علاوہ باقی وقت تعلیم کے لیے وقف رہتا ہے۔صبح سات بجے سے قبل ناشتہ۔ساڑھے بارہ بجے ظہرانہ اور بعد مغرب عشائیہ دیا جاتا ہے۔قیلولہ صرف 20 منٹ کا ہوتا ہے بچے کلاسیز میں ہی بنچوں پر لیٹے یا بیٹھے آنکھ بند کرلیتے ہیں ۔ایک اسٹاف نگرانی کرتا ہے ۔یہ شیڈول ابتدائی چند دن ذرا مشکل معلوم ہوتا ہے لیکن پھر جسم کو عادت پڑ جاتی ہے ۔ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جسم ایک سرکش گھوڑے کی طرح ہے جسے بہت مشکل سے کام کے لائق بنایا جاتا ہے۔

شاہین کے کورسز میں ایک مشہور کورس حفظ القران پلس ہے ۔اس کورس کے ذریعے حافظ قرآن بچے میڈیکل اور انجنیئرنگ کے ساتھ ساتھ آرٹس گروپ کی سروسز میں جاتےہیں۔حفظ قرآن کے بعد طلبہ کو برج کورس سے گزارا جاتا ہے ۔جہاں انھیں بنیادی مضامین کی تعلیم اس طرح دی جاتی کہ وہ چند مہینوں میں ہی درجہ 9 کے داخلے کے قابل ہوجاتا ہے ۔اس کے بعد اس کی تعلیم حسب ضوابط اس کی دل چسپی اور صلاحیت کے مطابق بارہویں درجات تک جاری رہتی ہے ۔درسی و نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ اس کی کوچنگ بھی جاری رہتی ہے ۔اب تک 8 بیچ فارغ ہوچکے ہیں ۔شاہین دفتر کے مطابق جو حفاظ ہمارے نظام تعلیم کے تحت تعلیم مکمل کرتے ہیں وہ سو فیصد کامیاب رہتے ہیں ۔کل طلبہ کا 20 تا 25 فیصد میڈیکل کی کسی بھی شاخ میں منتخب ہوجاتا ہے ۔10 فیصد انجینئرنگ میں اور باقی گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کے بعد تعلیم و تدریس۔وکالت۔اور دیگر سماجی میدانوں میں کامیاب ہوتے ہیں ۔

کیمپس کا ڈسپلن بھی معقول ہے۔ تمام مقامات پر اعلی درجے کے کیمرے ہیں ۔لڑکوں کے ہاسٹل اور بیڈروم میں بھی کیمرے ہیں ۔24 گھنٹے کنٹرول روم سے نگرانی کی جاتی ہے ۔پانچ فلور پر مشتمل چار طول طویل عمارتوں کی نگرانی کے لیے ہر فلور پر فلور انچارج ہیں۔جن کے پاس واکی ٹاکی کی سہولت ہے ۔انھیں بھی کنٹرول روم سے ہدایات ملتی رہتی ہیں۔پورا کیمپس نگرانی کے لحاظ سے درج شعر کے مطابق ہے ۔

مت بھولیے کہ ہوتے ہیں دیوار کے بھی کان
سن لیں گے آپ کتنا ہی آہستہ بولیے

مطبخ یعنی کچن جدید مشینوں سے آراستہ ہے ۔اسٹیم سے کھانا پکایا جاتا ہے ۔20 منٹ میں 4 کنٹل چاول پک جاتا ہے ۔ایک گھنٹے میں مشین کے ذریعے  ایک ہزار روٹیاں چار خواتین بنا دیتی ہیں۔ڈائننگ ہال بھی صاف ستھرے ہیں کھانے کے آداب اور دعائیں آویزاں ہیں ۔سبزی خوروں کا  ڈائننگ ہال الگ ہے۔ایک ڈائیننگ ہال NRI'Sکے لیے مخصوص ہے ۔ان کے مینو میں بھی تھوڑی تبدیلی ہے۔البتہ اسٹاف جنرل ڈائننگ ہال سے استفادہ کرتا ہے ۔میس کی  سہولت ڈے اسکالرس کو بھی دی جاتی ہے۔کھانے کے ذائقے جنوبی ہند کی ہی نمائندگی کرتے ہیں۔

بیدر کے صدر کیمپس اور دیگر دو کیمپس میں کل تدریسی اسٹاف کی تعداد 400 سے متجاوز ہے جبکہ غیر تدریسی اسٹاف کی تعداد 550 کے قریب ہے ۔4000 طلبہ گیارہویں اور بارہویں جماعت میں ہیں 1800 سے زائد Repeater بیچ میں ہیں جبکہ نویں اور دسویں جماعت میں 400 اور پرائمری سے جونئر درجات میں یہ تعداد 600 ہے اس طرح تقریبا 7200 طلبہ اس وقت زیر تعلیم و تربیت ہیں۔6 ایکڑ میں تعمیر یہ خوبصورت کیمپس اس قدر جاذبیت رکھتا ہے کہ واپس جانے کا جی ہی نہیں چاہتا۔

بیدر جو بعثت نبوی سے پہلے سے آباد ہے ۔اپنی لطافت اور قدرتی حسن کے لیے معروف ہے۔بعثت رسالت کے بعد اسلام کی کرنیں 602 ہجری میں ہی دکن میں پہنچ چکی تھیں ۔محمد شاہ تغلق کی سلطنت میں بیدر بھی اسلامی سلطنت کا حصہ بن گیا اور اسے احمد آباد کہا جانے لگا۔اس کے بعد اس کا نام محمد آباد بیدر ہوا جس کے نام کا پہلا لاحقہ حذف ہوکر تاریخ کا حصہ بن گیا ہے اور آج اپنے قدیمی نام بیدر سے جانا جاتا ہے ۔726 ہجری میں بہمنی سلطنت کا پایہ تخت بنا۔یہاں اسی زمانے کا قلعہ ہے ۔کہتے ہیں کہ قلعے کی وسعتوں  میں قدیم شہر آباد ہے۔1472 عیسوی میں خواجہ محمود گاوان کے ذریعے ایک تعلیم گاہ قائم ہوئی جس میں پورے ملک سے طلبہ تعلیم کے لیے آتے تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں باقاعدہ تعلیم کی یہ پہلی منظم یونیورسٹی تھی۔اس کے علاوہ بادشاہوں اور وزرا کے شاندار مقبرے ۔ خواجہ ابو الفیض (پیدائش 1408 عیسوی۔وفات 1474)  کی درگاہ ۔حضرت خلیل اللہ کا مقبرہ جو چوکھنڈ کے نام سے مشہور ہے۔بیدر کی قدامت۔شان و شوکت کا مظہر ہیں ۔یہاں گرونانک کے نام سے موسوم گرودوارہ بھی ہے۔جو قابل دید ہے ۔اور جنوبی ہند کے بڑے گردواروں میں شمار ہوتا ہے۔

یہاں کی آبادی میں مسلمان 40 تا 45 فیصد ہیں ۔ایم ایل اے جناب رحیم یار خان ہیں جو کانگریس سے ہیں ۔تعلیمی شرح خواندگی بھی بہتر ہے ۔معاشی اعتبار سے مسلمان اوسط درجے میں ہیں ۔یہاں کی مٹی گنا۔جوار۔بہت پیدا کرتی ہے ۔ یہ شہر ممبئی بنگلور ہائی وے اور ریلوے لائن پر ہے ۔نزدیکی ہوائی اڈہ حیدرآباد ہے جو 145 کلومیٹر دور ہے۔

بہمنی سلطنت میں راجدھانی رہا بیدر 600 سال قبل  کبھی خواجہ محمود  گاوان کے مدرسے کی وجہ سے ساری دنیا میں معروف تھا آج وہی بیدر شاہین کی وجہ سے معروف ہے۔   

دودن پر مشتمل یہ تعلیمی سیاحت بہت کامیاب رہی ۔اس کے لیے میں شاہین اکیڈمی دہلی کا شکر گزار ہوں کہ ان کے سبب ہی یہ سفر ممکن ہوا ۔میں اپنے تمام میزبانوں جن میں جناب عبدالقدیر صاحب ۔جناب عزیز صاحب۔جناب مرزا غازی علی بیگ صاحب وغیرہ کا مشکور ہوں کہ ان کی محبتوں نے گھر کا ماحول عطا کیا۔اللہ ان تمام حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔آمین

نوٹ : تاثرات پر مبنی یہ رپورٹ  عبد الغفار صاحب  نے ہمیں ارسال کی ہے 

0 comments

Leave a Reply