مبارکباد کے پیغامات سے آگے : ذرا نظر دوڑائیں،آپ کے آس پاس کئی علم اللہ نظر آئیں گے، ان کے خواب ادھورے نہ رہ جائیں
یونیورسٹی کی بھاری بھرکم فیس کا انتظام اسے مارے ڈالتا
نئی دہلی : (ایشیا ٹائمز/اشرف علی بستوی ) آج صبح سے میری ایک رپو ٹ پر چاروں طرف سے مبارکبادیوں کا جو سلسلسہ شروع ہوا ہے وہ اب بھی جاری ہے ۔ رپورٹ یہ ہے کہ برادرم محمد علم اللہ نے آج ہی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے برطانیہ کے لیے رخت سفر باندھا ہے ۔ اس نے یہ کامیابی جن مشکل اور نامساعد حالات سے گزرکر حاصل کی ہے اس کا ہمیں احساس ہو بھی نہیں سکتا ۔ لیکن میں اس کے اس پورے سفر کا چشم دید رہا ہوں ،اسے مسلسل ناکامیوں سے پریشان ہوتے ، اپنی کمزوریوں سے لرتے ،معاشرے کے طنز اور اپنوں کے طعنوں سے بے زار ہوتے بہت قریب سے دیکھا ہے ۔ خدا کا شکر ہے آج وہ اپنی منزل کی جانب آ گے بڑھ چکا ہے ۔
یونیورسٹی کی بھاری بھرکم فیس کا انتظام اسے مارے ڈالتا
کبھی اسے اپنے اکیڈمک پرفامنس کی چنتا ستاتی تو کبھی وہ اپنی انگریزی لرننگ کی کمزوریوں کو دور کرنے نکل پڑتا تو کبھی ، برطانیہ کی سوانسی یونیورسٹی کی بھاری بھرکم فیس کا انتظام اسے مارے ڈالتا ، اسی درمیان وہ جاب کی تلاش میں ہلکان رہتا ۔ اور جب ہم مل بیٹھتے گھوم پھر کر بات یہیں آپہونچتی کبھی افسردہ تو کبھی بہت خوش ہو جاتا۔ اسے اپنی صؒلاحیت پر پورا بھروسہ تھا لیکن کامیابی ذرا دور تھی ۔ بہر حال آج کی شام جب میں لکھ رہا ہوں وہ برطانیہ میں قدم رکھ چکا ہے ۔ اس کی کامیابی کی دعا کریں ۔
ذرا نظر دوڑائیں آپ کے آس پاس کئی علم اللہ نظر آئیں گے
ایسے ہونہار لوگوں کی کامیابی پر انہیں مبارکباد ضرور دیجیے ،لیکن ذرا اپنے آس پاس نظر رہے کوئی ایسا نوجوان جو اگے بڑھنا چاہتا ہے ،اس کی انگلی پکڑنے والے بنیں ، اگر آپ قریب سے نظر ڈالیں گے تو آپ کے ارد گرد ایسے ہونہار چہرے ضرور نظر آجائیں گے ۔
ملت کے اہل ثروت حضرات سے کچھ باتیں
بڑی گاڑیوں بے جا نام و نمود اور مہنگی شادیوں پرخرچ کرنے سے قبل ذرا ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیں کہ اگر انہوں نے ذرا سا بھی سادگی اختیار کرلی تو سماج سے ایسے کتنے علم اللہ ہیں جن کے خواب پورے ہو سکتے ہیں ۔ معاشرے میں جب انسان آگے بڑھتا ہے تو اس کی زندگی میں تین ادوار آتے ہیں پہلے وہ سیکھتا ہے ، پھر حاصل کرتا ہے اور آخر میں معاشرے کو واپس کرنے کا نمبر آتا ہے ، اب آپ اپنا جائزہ لیجیے ابھی آپ کس مرحلے میں ہیں ؟
سیکھیں ،کمائیں ، پھرسوسائٹی کو لوٹائیں
جو لوگ سماج میں حاصل کرچکے ہیں انہیں یہی مواقع ریٹرن کرنے کے ہوتے ہیں۔ محمد علم اللہ سے بھی ہم یہی توقع کرتے ہیں ۔ ابھی وہ پہلے مرحلے میں ہیں، انشا اللہ جلد ہی وہ حاصل کرنے والوں کی فہرست میں اپنا نام درج کرالیں گے اورپھرجب واپسی کی حالت میں آئیں تو معاشرے کو ریٹرن کریں گے ۔ اگر معاشرے میں یہ ماحول پروان چڑھے تو کسی کا خواب ادھورا نہ رہ جائے گا ۔

Azharuddin
ماشا اللہ... متاثر کن اور قابل تقلید تحریر .
Gulsher Ahmed
Ashraf Sahab aapne bahut sahi baat ki taraf nishandehi karke logo'n ki tawajjoh is taraf kara'i hai. Agar muashre mai ye mahaul ban jata hai to ummeed hai ki haalaat jald hi behtari ki taraf ghaamzan ho jaye'nge. .