مسلم مجلس مشاورت دستیاب برائے فروخت

سرکردہ ملی تنظیم کی ویب سائٹ نہیں رکھی جا سکی محفوظ، مشاورت بلیٹن اور مسلم انڈیا کی فائلوں سمیت متعدد قیمتی دستاویزات ضائع

 

 

صدر مشاورت نوید حامد نے جھاڑا پلہ، کہا فنڈ کی قلت کی وجہ سے کرنا پڑا بند

سابق صدر مشاورت ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے پاس ورڈ نہ دینے کے الزام کو کیا مسترد، کہا 2015 میں ہی میرا دور ہوچکا تھا ختم

نئی دہلی : (پریس ریلیز) اسے ہماری کمیونٹی کی قسمت کا رونا کہا جائے یا سربراہان اور ملی قائدین کی نا اہلی کا نتیجہ ۔ ایک طرف ہم کچھ نئے کام بھی نہیں کر پاتے اور دوسری طرف کچھ کیا ہوا کام وراثت میں ملتا ہے تو اس کو بھی اپنی نا اہلی کے سبب ضائع کر دیتے ہیں ۔
ملی حلقوں میں یہ خبر افسوس کے ساتھ سنی جائے گی کہ ہندوستانی مسلم تنظیموں کے وفاقی ادارہ مسلم مجلس مشاورت کی ویب سائٹ اب نہیں رہی اور وہ مکمل طور پر ضائع ہو گئی ہے ۔ اسی کے ساتھ ہی ملی مسائل سے متعلق دستاویزات کا ایک ذخیرہ بھی ضائع ہوگیا۔

قابل ذکر ہے کہ اس ویب سائٹ میں مشاورت کی روز مرہ کی کارکردگی کے علاوہ ملی سرگرمیوں کا ایک معتدبہ معلومات موجود تھی ۔ اس ویب سائٹ میں "مشاورت بلیٹین " سمیت "مسلم انڈیا " کی پرانی فائلیں ،

مشاورت کی تاریخ پر مشتمل متعدد قیمتی اور نادر دستاویزات بھی دستیاب تھے ، لیکن ہمارے اپنوں کی بے بضاعتی ، کاہلی ، نا اہلی اور عدم دلچسپی کے سبب ملی سرمایہ کا ایک اچھا خاصہ ذخیرہ مٹی میں مل گیا ۔

 مذکورہ ویب سائٹ اب انٹرنیٹ کے اوپن فورم پر ڈی اے این ڈاٹ کام نامی ویب سائٹ پر برائے فروخت موجود ہے ۔ اس دور میں جب کہ پوری دنیا میں ڈیجیٹل دور میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی ہے ، ہندوستانی مسلمانوں کی ایک معتبر تنظیم آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت آف لائن ہوگئی ہے۔ اس کا ڈومین مشاورت ڈاٹ کام فروخت کے لئے دستیاب ہے۔

 مشاورت پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ویب سائٹ پر محققین اور مختلف مسلم تنظیموں سے متعلق اہم معلومات موجود تھیں جس کا ضائع ہونا واقعی افسوس ناک ہے۔

اس سلسلے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مشاورت کے صدر نوید حامد نے کہا: "جب میں نے اس تنظیم کے صدر کی حیثیت سے اس کی ذمہ داری سنبھالی تو ویب سائٹ کام نہیں کررہی تھی۔
ہمارے پاس ویب سائٹ کا پاس ورڈ نہیں تھا کیونکہ سبکدوش ہونے والے صدر نے ہمیں وہ فراہم ہی نہیں کیا تھا۔ جب ہم پرانی ویب سائٹ کا پاس ورڈ حاصل کرنے میں ناکام رہے تو ہم نے ایک نئی ویب بنانے کا منصوبہ بنایا اور مشاورت ڈاٹ کام کے نام سے ایک دیگر ڈومین لیا تاہم ، فنڈ کی قلت کی وجہ سے اسے بحال نہیں کر سکے۔

ڈاکٹر ظفر الاسلام خان ، جو نوید حامد کے آنے سے پہلے مشاورت کے صدر تھے ، نے نئے عہدے داروں کو پاس ورڈ نہ دینے کے الزام کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بطور صدر اپنے دور میں ان کے پاس کبھی بھی ویب سائٹ کا پاس ورڈ موجود نہیں تھا کیونکہ مشاورت میں کام کرنے والے افراد اسے سنبھالے ہوئے تھے جسے گذشتہ سال موجودہ صدر نے بے دخل کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ سید شہاب الدین کے دور میں سن 2000 میں پرانی ویب سائٹ میں مذکورہ تنظیم کا 16 سال کا ریکارڈ موجود تھا۔ مسلمم انڈیا کے دستاویزات کو الگ سے رکھا گیا تھا۔ مشاورت کی تاریخ پر مشتمل کافی کچھ مواد موجود تھا "۔ ڈاکٹر خان کا کہنا تھا کہ ان کا مشاورت میں صدر کے+9- عہدے کا منصب دسمبر 2015 میں ختم ہوچکا تھا۔

مشاورت پر کام کرنے والے اور اس کی تاریخ لکھنے والے نوجوان مصنف محمد علم اللہ نے بتایا کہ پرانے پورٹل میں مشہور نوکر شاہ اور قومی رہنما سید شہاب الدین اور ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کی زیر ادارت شائع ہونے والا "مشاورت بلیٹن" اور مسلم انڈیا کی پرانی فائلیں بھی اس میں دستیاب تھیں جو محققین کے لئے کسی نعمت سے کم نہ تھیں مگر افسوس اتنا قیمتی سرمایہ ضائع کر دیا گیا اور ہم اسے بچا نہیں سکے ۔

خیال رہے اس تنظیم کے زیر نگرانی مشاورت بلیٹن اور مسلم انڈیا بھی نکلا کرتا تھا جو سابق صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کے عہد تک نکلا کرتا تھا لیکن اس کا وجود بھی جماعت اسلامی ہند کے "سہ روزہ دعوت" اور "نیوز ڈائجسٹ" کی طرح ختم کر دیا گیا۔

 

 

 

0 comments

Leave a Reply