جنگ اور میڈیا کا نیریٹیو: امریکہ–اسرائیل–ایران تنازع کے تناظر میں ایک تجزیہ

اشرف علی بستوی

عصرِ حاضر میں جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی بلکہ اس کا ایک اہم محاذ میڈیا بھی ہوتا ہے۔ جدید دور میں میزائل، ڈرون اور ٹینک جتنے اہم ہیں، اتنی ہی اہمیت بیانیے (Narrative) کی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی بڑی جنگ یا تنازعہ سامنے آتا ہے تو عالمی میڈیا، ریاستی پروپیگنڈہ مشینری اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اس جنگ کا ایک متوازی محاذ بن جاتے ہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے اس حقیقت کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ جنگ کے نتائج صرف عسکری طاقت سے نہیں بلکہ عوامی رائے عامہ اور عالمی بیانیے سے بھی طے ہوتے ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کی حکمت عملی میں میڈیا بیانیہ ہمیشہ ایک مرکزی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ کسی بھی عسکری کارروائی سے پہلے عالمی رائے عامہ کو تیار کرنے کے لیے مخصوص اصطلاحات اور فریم استعمال کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر “دہشت گردی کے خلاف جنگ”، “خطرناک ریاست” یا “عالمی سلامتی کے لیے خطرہ” جیسے الفاظ ایک ایسا ذہنی ماحول پیدا کرتے ہیں جس میں فوجی کارروائی کو جائز قرار دیا جا سکے۔ ایران کے معاملے میں بھی کئی برسوں سے مغربی میڈیا میں یہی تاثر پیدا کیا جاتا رہا ہے کہ ایران خطے میں عدم استحکام کا بنیادی سبب ہے۔

اس کے برعکس ایران اور اس کے حامی میڈیا ادارے اس تنازع کو “مزاحمت” اور “خود کا دفاع” کے تناظر میں پیش کرتے ہیں۔ اس بیانیے میں امریکہ اور اسرائیل کو سامراجی طاقتوں کے طور پر دکھایا جاتا ہے جو مشرق وسطیٰ پر اپنی بالادستی قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ اس طرح دونوں فریق اپنے اپنے میڈیا نیریٹیو کے ذریعے نہ صرف اپنی عوام بلکہ عالمی برادری کو بھی قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

گزشتہ دہائی میں سوشل میڈیا نے جنگی بیانیے کی نوعیت کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ اب معلومات کی ترسیل صرف بڑے ٹی وی چینلز یا اخبارات تک محدود نہیں رہی بلکہ ایکس، یوٹیوب، ٹیلیگرام اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے ہر فرد ایک ممکنہ “میڈیا یونٹ” بن چکا ہے۔ امریکہ–اسرائیل–ایران کشیدگی کے دوران بھی مختلف ویڈیوز، دعوے اور بیانات تیزی سے وائرل ہوتے ہیں، جن میں سے بہت سی معلومات کی تصدیق مشکل ہوتی ہے۔

یہ صورتحال ایک طرف معلومات کی کثرت پیدا کرتی ہے تو دوسری طرف غلط معلومات (misinformation) اور منظم پروپیگنڈہ (disinformation) کے لیے بھی راستہ ہموار کرتی ہے۔ اس طرح عام ناظرین کے لیے یہ طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ حقیقت کیا ہے اور بیانیہ کیا ہے۔

میڈیا نیریٹیو کی ایک اہم تکنیک یہ ہے کہ عوامی جذبات کو متاثر کیا جائے۔ جنگی رپورٹنگ میں اکثر ایسے مناظر دکھائے جاتے ہیں جو خوف یا ہمدردی پیدا کریں۔ کسی ایک فریق کے شہریوں کی ہلاکتوں کو نمایاں کرنا اور دوسرے فریق کے نقصانات کو کم دکھانا بھی بیانیے کا حصہ بن سکتا ہے۔ اس طرح عوامی ذہن میں “مظلوم” اور “ظالم” کی ایک واضح تصویر بنائی جاتی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کے حامی میڈیا میں اکثر اسرائیلی شہریوں پر حملوں کو نمایاں کیا جاتا ہے، جبکہ ایران یا اس کے اتحادی میڈیا میں فلسطینیوں اور خطے کے دیگر متاثرین کو زیادہ دکھایا جاتا ہے۔ اس انتخابی رپورٹنگ سے جنگ کی ایک مخصوص تصویر تشکیل پاتی ہے۔

میڈیا نیریٹیو صرف عوامی رائے کو متاثر نہیں کرتا بلکہ سفارتی سطح پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ عالمی اداروں، اتحادی ممالک اور غیر جانبدار ریاستوں کے فیصلوں پر بھی میڈیا میں بننے والا تاثر اثر ڈال سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ کے دوران مختلف ممالک اپنے سرکاری ترجمانوں، تھنک ٹینکس اور بین الاقوامی میڈیا کے ذریعے مسلسل اپنا مؤقف پیش کرتے رہتے ہیں۔

ایسے حالات میں آزاد اور ذمہ دار صحافت کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ صحافیوں کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے کہ وہ ریاستی پروپیگنڈے اور جذباتی بیانیوں کے درمیان توازن قائم رکھتے ہوئے حقیقت کے قریب ترین تصویر پیش کریں۔ لیکن بدقسمتی سے عالمی میڈیا کے ایک بڑے حصے پر سیاسی اور کارپوریٹ مفادات کا اثر بھی دیکھا جاتا ہے، جس سے غیر جانبدار رپورٹنگ مشکل ہو جاتی ہے۔

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ جدید جنگوں میں میڈیا ایک طاقتور ہتھیار بن چکا ہے۔ بیانیہ سازی، معلومات کی ترسیل اور عوامی رائے کی تشکیل اس جنگ کے اہم پہلو ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ناظرین اور قارئین میڈیا کی خبروں کو تنقیدی نظر سے دیکھیں اور مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔

آج کے دور میں شاید یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ ذہنوں اور اسکرینوں پر بھی لڑی جا رہی ہے۔

 

 

0 comments

Leave a Reply