یہ حضرت دیکھنے میں سیدھے سادھے بھولے بھالے ہیں

جمعیۃ العلماء کے اجلاس عام میں جو ہوا وہ مناسب نہیں تھا

عبدالغفار صدیقی

 اسلام کی دعوت دینے کے لیے قرآن نے سب سے پہلی جو بات کہی ہے وہ حکمت و موعظت حسنہ کی ہے۔اگر امیر الہندکی بات کو سو فیصد درست مان بھی لیا جائے تب بھی ان کا لہجہ اور ان کی ٹائمنگ کو کسی طرح درست نہیں کہا جاسکتا۔اگر حکمت و موعظت حسنہ کا خیال رکھاجاتا تو وہ نہیں ہوتا جو ہوا۔اس لیے کہ جو ہوا وہ اچھا نہیں ہوا۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جس اسٹیج سے یہ باتیں کہی گئیں وہ اسٹیج اس کام لیے نہیں سجایا گیا تھا،دوسری بات یہ کہ جن غیر مسلم مذاہب کے پیشواؤں کو مدعو کیا گیا تھا انھیں یہ بات نہیں بتائی گئی تھی کہ وہاں مذہب پر کوئی مذاکرہ ہونا ہے۔انھیں قومی یکجہتی،ملک کی سالمیت،بھارتیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کرنے اور صدیوں پرانے بھائی چارے کو بحال رکھنے کے لیے بلا یا گیا تھا۔اب رہی حضرت کی بات کہ اوم اور اللہ ایک ہی ہیں یا حضرت آدم اور منو ایک ہی انسان کے دو نام ہیں یا پہلا نبی بھارت میں پیدا ہوا تو یہ بات بجائے خود تحقیق طلب ہے۔حضرت آدم ؑ کہاں اتارے گئے اس کا کوئی ذکر قرآن میں نہیں ہے۔تو پھر حضرت نے کس بنیاد پر اس قدر وثوق کے ساتھ فرمادیا کہ وہ بھارت میں آئے تھے،اچھا جب کوئی نہیں تھا،نہ شری رام تھے،نہ برہما تھے اور نہ شیو تھے تو بھارت ہی کہاں تھا؟ اگر وہ بھارت میں نہ آئے ہوتے تو کیا ہوتا؟

کیا گھر واپسی جائز ہوجاتی؟

کیا کسی مقام پر کسی پیغمبر کے پیدا ہوجانے بھر سے اس مقام یا ملک کا تقدس بڑھ جاتا ہے؟اگر ایسا ہی ہے تو فلسطین میں سب سے زیادہ پیغمبر آئے ہیں اور بیشتر پیغمبروں کا قبلہئ عبادت بیت المقدس رہا ہے؟اگرمقام پیدائش کی کوئی اہمیت تھی تو حضور اکرم ﷺ مکہ سے کیوں ہجرت فرماگئے، اگر چلے بھی گئے تھے تو فتح مکہ کے بعد وہاں کیوں نہیں رک گئے؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی نظر میں کسی نبی کی جائے پیدائش یا مقام وفات کے بجائے اس کے پیغام اور اس کی دعوت کی اصل اہمیت ہے۔ایک ایسی بات کہنا جس کی بنیاد محض اسرائیلی روایت یا ضعیف حدیث پر ہو اور اس پر فخر کرنا اور فخر کرنے کی دعوت دینا کونسی حکمت ہے۔حضرت کا پورا خطاب اسی پر مرکوز رہا کہ حضرت آدم ہی منو ہیں اور منو اوم کی عبادت کرتے تھے اور اوم ہی اللہ ہے؟ کیا حضرت اب مسلمانوں کو اوم کہنے کی اجازت دیں گے؟کیا جوکام بسم اللہ سے شرع کیا جاسکتا ہے اسے ”اوم نمہ شوائے“کہہ کر بھی شروع کیا جاسکتا ہے؟کیا حضرت آدم ؑ کے واقعات کو منو کے واقعات کہہ کر پیش کیا جاسکتا ہے؟

کیا حضرت کے بیان نے سنگھ کے ہاتھوں نیا ہتھیار نہیں دے دیا ہے کہ وہ علی الاعلان یہ کہیں کہ دیکھو تمہارے امیر الہند فرمارہے کہ اوم اور اللہ ایک ہی ہیں تو آؤ اوم کی پوجا کرو۔ہم جانتے ہیں کہ 2024میں پارلیمانی انتخاب ہونے والے ہیں۔بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی کارکردگی کی بنیاد پر کوئی انتخاب نہیں جیتی ہے،اس نے ہمیشہ مذہبی کارڈ ہی استعمال کیا ہے۔وہ چاہتی ہے کہ بھارت کے شہری مذہبی بحثوں میں الجھے رہیں،انھیں ملک کی بگڑتی ہوئی صور حال  سے کوئی سروکار نہ ہو،اس لیے اس کی جانب سے یا اس کی سرپرست تنظیم آر ایس ایس کی جانب سے اس طرح کی بیان بازیاں کی جاتی رہی ہیں۔ان کی باتوں کا جواب دیا جانا چاہئے لیکن اس کا انداز حکیمانہ ہو،اس میں ان کی خیر خواہی مقصود ہو،حضرت نے اپنے خطاب میں برادران وطن کو ”جاہل“ تک فرمادیا۔ظاہر ہے یہ لفظ وہ کسی طرح برداشت نہیں کرسکتے تھے۔اس لیے وہ احتجاج کرکے چلے گئے۔

اس کے بعد میڈیا میں حضرت کا بیان چھایا رہا۔جمعیۃ العلماء ملک کی قدیم تنظیم ہے۔یہ 1919میں قائم ہوئی،ملک کی آزادی میں اس کا اہم رول ہے،اس کے ذمہ داران قید و بند کی صعوبتیں جھیل چکے ہیں،لیکن آزادی کے بعد اس کا کوئی نمایاں کام نظر نہیں آتا۔اس کے باوجود ان کا احساس ہے کہ سارے مسلمان ان کی جانب دیکھ رہے ہیں،ٹھیک ہے ملک کے کچھ مسلمان جو ان کے عقیدت مند ہیں ان کی طرف دیکھ رہے ہوں گے لیکن ملک کے سارے مسلمانوں کا خود کو نمایندہ سمجھنا اور ایک کمرے میں چار لوگوں کی تائید سے امیر الہند بن جانا کوئی قابل فخر بات نہیں ہے۔ جب یہ تنظیم قائم ہوئی تھی تو مسلم علماء کی نمائندہ تنظیم تھی اس میں سارے مسلک کے لوگ شامل تھے،اس کے بانیان میں دیوبند کی کوئی شخصیت شامل نہیں تھی وہ  بے چارے سب مالٹا جیل میں قید تھے، عبدالباری فرنگی محلیؒ،کفایت اللہ دہلویؒ،محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ،اور ثناء اللہ امرتسری ؒکا نام اس کے بانیان میں شامل ہے۔

اس میں محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ،اور ثناء اللہ امرتسری ؒاہل حدیثوں کے بڑے عالم تھے اور فرنگی محلی بھی غیر وہابی تھے۔اس کے بعد رفتہ رفتہ جمعیۃ پر ایک مسلک کے لوگوں کا غلبہ ہوا اور یہی غلبہ آگے چل کر ایک خاندان کا ہوگیا،آج جمعیۃ مدنی خاندان کی ملکیت ہے۔کیا کسی عوامی ادارے کو خاندانی ملکیت بنا لینا امت مسلمہ کی خیر خواہی ہے؟مجھے نہیں معلوم جمعیۃ نے کونسا اہم کام کیاہے جس کی وجہ سے انھیں سارے مسلمانوں کا نمائندہ سمجھاجائے؟

کیا کوئی یونیورسٹی قائم کی؟ کیا کوئی ہاسپٹل بنایا؟کیا مسلمانوں میں اختلافات کم ہوئے؟البتہ آزادی کے بعد سے کانگریس کی محافظت فرمائی،جب جب ضرورت ہوئی ملک و ملت بچاؤ کانفرنس کرکے اس کی مدد کی،اس کے چکر میں کبھی کسی مسلم سیاسی تنظیم کو  پنپنے نہیں دیا؟جس دینی تعلیم کے اداروں کے قیام پر وہ رشک کرتے ہیں وہ دینی تعلیم کے ادارے کم مسلک کی تعلیم کے زیادہ ہیں۔وہ بھی اس لیے بن رہے ہیں کہ دارالعلوم کے بیشتر فارغین اس کے علاوہ کچھ کر نہیں سکتے۔ دارالعلوم کے حصے بخرے کردیے،جمعیۃ پر پہلے قبضہ کیا پھر اس کو دو لخت کردیا،چچا بھتیجے عدالتوں میں اصلی اور نقلی جمعیۃ کے نام پر لڑ رہے ہیں۔مسلکی اختلافات کواس قدر ہوا دی کہ کبھی مسلمانوں کے درمیان اتحاد نہیں ہوسکتا۔کیا جمعیۃ کو اس کا احساس ہے کہ اس کے رویوں سے بھارت کے مسلمانوں کو کس قدر نقصان پہنچا ہے؟جمعیۃ کی جانب سے عصری مضامین کی مخالفت کی گئی،علم کو دو حصوں (دین و دنیا) میں تقسیم کردیا گیا جب کہ اللہ کے رسول نے نافع و غیر نافع کی تقسیم کی تھی،اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانان ہند تعلیم میں دلتوں سے بھی پیچھے چلے گئے۔فتووں کی توپوں سے اپنے مخالفین کو زیر کیا،سرسید کی مخالفت کی،مولانا مودودی اور ابوالکلام کوخارجی بتایا، بریلویوں کو مستقل اپنے مخالفین کی فہرست میں شامل کررکھا ہے۔آج بھی شیعہ ان کے نزدیک کافر ہیں،جماعت اسلامی کو دی ہوئی زکاۃ ادا نہیں ہوتی،غیر مقلد مسلمان نہیں ہیں وغیرہ وغیرہ جب سے مرکز میں مودی حکومت آئی ہے اور اس نے مسلمانوں کو تنگ کرنا شروع کیا ہے تب سے جمعیۃ میں کچھ ہل چل پیدا ہوئی ہے۔

عصری علوم کو دنیاوی علوم کہہ کر مخالفت کرنے والی تنظیم نے اپنے ادروں میں پرائمری عصری مضامین کو شامل کرنا شروع کیا ہے۔ایک دو ادارے بھی قائم کیے،ہیں اعلیٰ تعلیم کے لیے کچھ وظائف کا اعلان ہوتا رہا ہے۔یوتھ کلب قائم کرکے این سی سی کی ٹریننگ کے بھی پروگرام دیکھنے میں آئے ہیں۔مگر یہ اقدامات اس وقت کیے جارہے ہیں جب کہ پانی سر سے اوپر پہنچ چکا ہے۔اس تبدیلی کی رفتار بھی بہت سست ہے۔پھر بھی ان کاوشوں کا استقبال کیا جانا چاہئے۔موجودہ اجلاس میں پہلے دن ایک تجویز پاس کی گئی اس میں کچھ جملے اس طرح تھے۔”جو نام نہاد تنظیمیں اسلام کے نام پرجہاد کے حوالے سے انتہا پسندی اور تشدد کا پرچار کرتی ہیں اور قومی سلامتی کے زاویہ سے ایجنسیوں کی نظر میں قابل گرفت اور مشتبہ ہیں ان سے بیزاری اور دوری بنائے رکھناہمارے نوجوانوں اور طلبہ کے تحفظ اور کیریر کے لیے بے حد ضروری ہے،جانے انجانے میں ذرا سی غفلت ان کی زندگی تباہ کرسکتی ہے،“ان جملوں کا مطلب ہے کہ جمعیۃ یہ تسلیم کرتی ہے کہ مسلمانوں میں کچھ ایسی تنظیمیں ہیں جو جہاد کے نام پر نوجوانوں کو اکسا رہی ہیں،

بہتر ہوتا کہ جمعیۃ ان نام نہاد تنظیموں کا نام بھی بتادیتی،تاکہ سرکار کو بھی اور خود مسلم نوجوانوں  اور عام مسلمانوں کو بھی آسانی ہوجاتی۔کمال کی بات ہے کہ ایک طرف آپ یہ فرمائیں کہ کوئی مسلمان دہشت گرد نہیں ہے،اسلام میں معصوموں کو قتل کرنا جہاد نہیں ہے،دوسری طرف آپ یہ اقرار کریں کہ بھارت میں ایسی کچھ نام نہاد تنظیمیں موجودہیں۔حضرت آپ کی یہ تجویز حکومت اور سنگھ کو تو فائدہ پہنچا سکتی ہے مسلمانوں کے لیے تو مسائل ہی پیدا کرے گی۔میری رائے ہے کہ جمعیۃ العلماء ہند کو سب سے پہلے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا چاہیے،اس کے بعد اپنی تنظیم میں جمہوری شورائی نظام کو اختیار کرنا چاہئے تاکہ خاندانی اجارہ داری سے نکلا جاسکے،دوسرے مسلک کے علماء کی شمولیت کے دروازے بھی کھولنے چاہئے،اپنے تعلیمی نظام میں عصری مضامین کو شامل کرنا چاہئے،صدیوں پرانے درس نظامی کی جگہ موجودہ زمانے کی ضروریات اور مستقبل کی حاجات کو پیش نظر رکھ کرنیا نصاب ترتیب دیا جانا چاہئے۔ملت پوری دنیا میں بالعموم اور بھارت میں بالخصوص جن نازک حالات سے گزررہی ہے،اور جس طرح آزادی کے بعد قائدین نے قوم کو مایوس کیا ہے،انھوں نے لاکھوں کی بھیڑ تو جمع کی لیکن مسائل کسی ایک کے بھی حل نہیں کیے،ان کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے قول و عمل میں مخلص ہوجائیں۔جس اسلام پر ہمیں فخر ہے اور جس کی دعوت ہم دوسروں کو دیتے ہیں اس کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں۔اپنے عمل کا اس پہلو سے جائزہ لیا جائے کہ نیابت رسول ؐ کا جو منصب ہمارے پاس ہے اس کے تقاضہ بھی ہم پورے کررہے ہیں یا نہیں،اکرام صحابہ ؓ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عظمت صحابہ کانفرنس منعقد کرکے ان کی سیرت بیان کردی جائے بلکہ وہ اس معنیٰ میں مکرم ہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے،ان کی روش اپنائی جائے،ان کی سادگی،امانت و دیانت اور ایثار و قربانی کی عملی مثال پیش کی جائے۔

امید حور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے

واعظ کویہ حضرت دیکھنے میں سیدھے سادے بھولے بھالے ہیں 

علامہ اقبال ؒ

0 comments

Leave a Reply