بھارت اور اسرائیل میں واقعی کون محفوظ ہے؟
یہ صرف سفارت کاری نہیں تھی، بلکہ نظریاتی قربت بھی تھی
تحریر : سوم دیپ سین
بھارت اور اسرائیل میں واقعی کون محفوظ ہے؟ دونوں ممالک خود کو پناہ گاہ کے طور پر پیش کرتے ہیں اسرائیل کو یہودیوں کا وطن،اور بھارت کو ہندوؤں کا لیکن ان دعوؤں کےبرخلاف ایک پیچیدہ اور بے چین کرنے والی حقیقت موجود ہے۔ آج ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ دونوں ممالک میں سلامتی، شناخت اور طاقت کس طرح کام کرتی ہیں۔ اور ایک مشکل مگر ضروری سوال اٹھاتے ہیں۔ کیا تحفظ واقعی سب کے لیے یقینی ہے، یا صرف چند کے لیے؟
مودی–نیتن یاہو قربت
جب نریندر مودی بین گوریون ایئرپورٹ پہنچے تو بینجمن نیتن یاہو نے ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ یہ منظر محض اتفاق نہیں تھا۔ اس کی علامتی اہمیت تھی۔ یہ صرف سفارت کاری نہیں تھی، بلکہ نظریاتی قربت بھی تھی۔
مودی کا 2017 کا اسرائیل دورہ جو کسی بھی بھارتی وزیرِاعظم کا اسرائیل کا پہلا دورہ تھا، دوطرفہ تعلقات میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ اسی دورے کے دوران نیتن یاہو نے کنیسٹ میں اسے دو رہنماؤں، دو قوموں اور دو قدیم تہذیبوں کی دوستی قرار دیا۔ علامتوں نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ ہندوتوا سے منسوب زعفرانی رنگ نمایاں تھا۔
مشترکہ نظریہ
اسرائیل، یہودیوں کے لیے ایک قلعہ اور بھارت ہندوؤں کے لیے ایک مضبوط حصار دونوں رہنما اپنی سیاست کو تہذیبی جدوجہد کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اسلام، اسلام ازم اور دیگر اندرونی “خطرات” کے خلاف۔ لیکن تاریخ ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے۔ جب ریاستیں شناخت کی بنیاد پر تحفظ متعین کرتی ہیں، تو وہ یہ بھی طے کرتی ہیں کہ کون اس دائرے میں شامل نہیں۔
کیا فلسطین فلسطینیوں کے لیے محفوظ ہے؟
جواب بالکل واضح ہے۔ غزہ میں جاری جنگ، اور مغربی کنارہ میں آبادکاروں کا تشدد، یہ ثابت کرتا ہے کہ فلسطینیوں کو اپنے ہی وطن میں تحفظ کی امید نہیں۔ یہاں تک کہ اسرائیل کے فلسطینی شہری، جو آبادی کا تقریباً 19 فیصد ہیں، ادارہ جاتی امتیاز کا سامنا کرتے ہیں۔ جیسا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دستاویزی طور پر دکھایا ہے، ان کے ساتھ عملی طور پر دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔
تو کیااسرائیل میں تمام یہودی محفوظ ہیں؟
عام تاثر کے برعکس، اسرائیل میں تمام یہودی یکساں تحفظ کا تجربہ نہیں کرتے۔ مشرقی وسطیٰ اور شمالی افریقی پس منظر رکھنے والے مِزراحی یہودیوں کو ریاست کے ابتدائی ادوار میں نسلی امتیاز کا سامنا رہا۔
اس سے بھی زیادہ پریشان کن وہ خفیہ دستاویزات ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ یمنی یہودی خاندانوں کے ہزاروں بچے اسپتالوں سے غائب کر دیے گئے اور کبھی واپس نہ آئے۔ آج ایتھوپیائی یہودی منظم نسل پرستی کا سامنا کرتے ہیں۔ نصف سے زائد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارتے ہیں ان کے محلّے وسائل سے محروم ہیں نوجوانوں میں قید، ڈپریشن اور خودکشی کی شرح زیادہ ہے ایک ایتھوپیائی یہودی کا بیان ہمیں یورپ میں یہودی ہونے کی وجہ سے رد کیا گیا، اور یہاں سیاہ فام ہونے کی وجہ سے۔” یہ ایک تلخ حقیقت آشکار کرتا ہےاسرائیل تمام یہودیوں کے لیے یکساں طور پر محفوظ نہیں۔
کیا بھارت تمام ہندوؤں کے لیے محفوظ ہے؟
بھارت میں بھی ایک متوازی حقیقت موجود ہے۔ مسلمانوں کو قانونی اور سماجی سطح پر امتیاز کا سامنا ہے۔ مگر خود ہندوؤں کا کیا؟ ذات پات پر مبنی جبر بدستور گہرا ہے۔ آئینی ضمانتوں کے باوجود، دلت آج بھی تعلیم، روزگار اور روزمرہ زندگی میں اخراج جھیلتے ہیں۔ 2016 میں روہت ویمولا کی خودکشی نے اعلیٰ تعلیم میں ذات پات کے امتیاز کی انسانی قیمت کو عیاں کیا۔ ان کے آخری الفاظ دل دہلا دینے والے تھے: “میری پیدائش ہی میرا جان لیوا حادثہ ہے۔
آج بھی صفائی کے بیشتر کارکن دلت برادریوں سے ہیں امتیاز کے تدارک کے لیے بنائے گئے ضابطے مخالفت کے بعد مؤخر یا معطل ہو جاتے ہیں یہ ایک پریشان کن سوال اٹھاتا ہے اگر عزت آج بھی ذات سے متعین ہوتی ہے، تو ہندو اتحاد کتنا محفوظ ہے؟
تو پھر مودی، نیتن یاہو اتحاد کیوں اہم ہے؟
کیونکہ یہ دکھاتا ہے کہ اخراج پر مبنی قوم پرستی کیسے کام کرتی ہے۔ اسرائیل میں فلسطینی بھارت میں مسلمان لیکن اس کی منطق یہیں نہیں رکتی۔ کوئی بھی گروہ۔ اکثریت سے ہونے کے باوجود۔ جو طاقت، درجہ بندی یا نظریے کو چیلنج کرے، قابلِ سزا بن سکتا ہے۔

0 comments