سال 2025: سیکولر جمہوریت کے لیے آزمائش کا سال: ٹی ایم ضیاء الحق

سال 2025 بھارت کی جدید تاریخ میں ایک ایسے دور کے طور پر یاد رکھا جائے گا جب ملک کی سیکولر اور جمہوری شناخت کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ یہ سال کسی اچانک سیاسی بحران کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ ایک طویل عمل کا تسلسل تھا، جس میں ریاستی طاقت، اکثریتی سیاست اور ادارہ جاتی کمزوریوں نے مل کر آئینی اقدار کو کمزور کیا۔سیکولر جمہوریت کی بنیاد اس اصول پر قائم ہوتی ہے کہ ریاست کسی مذہب، عقیدے یا شناخت کے ساتھ جانبداری اختیار نہیں کرتی۔

مگر 2025 میں ریاستی رویّوں اور پالیسیوں سے بار بار یہ تاثر ملا کہ اقتدار کا مرکز خود کو ایک خاص نظریے کے ساتھ ہم آہنگ کر چکا ہے۔ اس ہم آہنگی کا سب سے بڑا نقصان سماجی ہم آہنگی اور شہری مساوات کو پہنچا۔سیاسی سطح پر سب سے تشویشناک پہلو آئینی اداروں کی کمزور ہوتی ہوئی خود مختاری رہی۔ عدلیہ اور الیکشن کمیشن جیسے ادارے، جو جمہوریت کے محافظ سمجھے جاتے ہیں، اس سال عوامی اعتماد کے شدید بحران سے دوچار نظر آئے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف سرِعام بدزبانی اور پارلیمنٹ کے اندر عدلیہ پر سنگین الزامات، اس بات کی علامت تھے کہ ادارہ جاتی احترام کو شعوری طور پر مجروح کیا جا رہا ہے۔ سیکولر ریاست میں اداروں کا احترام محض رسمی نہیں بلکہ جمہوری بقا کی شرط ہوتا ہے۔پارلیمنٹ، جو عوامی آواز کا سب سے بڑا فورم ہے، 2025 میں بھی اکثر بحث کے بجائے اکثریتی طاقت کے مظاہرے کا مرکز بنی رہی۔

اختلافِ رائے کو حب الوطنی کے پیمانے پر پرکھا گیا اور تنقید کو وفاداری کے بحران کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہ رویہ نہ صرف جمہوری روایت کے منافی ہے بلکہ سیکولر ریاست کے بنیادی تصور سے بھی متصادم ہے، جہاں شہری اختلاف کو جرم نہیں بلکہ حق سمجھا جاتا ہے۔سماجی سطح پر 2025 نے اس حقیقت کو مزید واضح کیا کہ فرقہ وارانہ سیاست کا سب سے بڑا نقصان عام شہری کو اٹھانا پڑتا ہے۔ نفرت پر مبنی بیانیے، سماجی قطبیت اور شناخت کی سیاست نے سماج کو مزید منقسم کر دیا۔

اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس گہرا ہوا، جبکہ اکثریتی سماج میں بھی بے چینی اور عدم استحکام بڑھا۔ سیکولرزم کا تقاضا یہ ہے کہ ریاست سب شہریوں کو یکساں تحفظ اور اعتماد فراہم کرے، مگر عملی صورت حال اس کے برعکس دکھائی دی۔سال کا آغاز کمبھ میلے جیسے بڑے مذہبی اجتماع سے ہوا، جسے ریاستی سرپرستی اور تشہیر حاصل رہی۔ تاہم، اس دوران ہونے والے حادثات اور اموات نے یہ سوال کھڑا کیا کہ کیا ریاست کا کردار مذہبی شناخت کو ابھارنے تک محدود رہ گیا ہے، جبکہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ میں وہ ناکام ہو رہی ہے؟ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کی بھگدڑ اور بعد ازاں دیگر عوامی سانحات نے یہ واضح کر دیا کہ انتظامی ترجیحات میں انسانی جان کی قدر ثانوی ہوتی جا رہی ہے۔جون میں پیش آنے والے سانحات—فضائی حادثہ، قدرتی آفت اور عوامی جشن میں بھگدڑ—نے ریاستی نظم و نسق کی ساختی کمزوریوں کو بے نقاب کیا۔ یہ محض حادثات نہیں تھے بلکہ ایک ایسے نظام کا عکس تھے جہاں جواب دہی کا فقدان معمول بن چکا ہے۔ سیکولر اور جمہوری ریاست میں شفافیت اور احتساب بنیادی اصول ہوتے ہیں، مگر 2025 میں یہ اصول اکثر نعروں تک محدود دکھائی دیے۔قومی سلامتی کے حوالے سے بھی یہ سال سوالات سے بھرا رہا۔ پہلگام میں دہشت گرد حملے نے سیکورٹی کے سرکاری دعووں کو چیلنج کیا۔ اس کے بعد فوجی کارروائی نے وقتی طور پر طاقت کا تاثر ضرور دیا، مگر سفارتی محاذ پر بھارت وہ اخلاقی برتری حاصل نہ کر سکا جو ایک سیکولر اور ذمہ دار ریاست سے متوقع ہوتی ہے۔ عالمی سیاست میں اخلاقی وزن محض عسکری طاقت سے نہیں بلکہ آئینی وقار اور انسانی حقوق کے احترام سے آتا ہے۔معاشی محاذ پر 2025 نے سماجی نابرابری کو مزید گہرا کیا۔ ایک طرف کروڑوں شہری مفت راشن پر انحصار کرنے پر مجبور رہے، تو دوسری طرف ترقی اور خوشحالی کے دعوے کیے جاتے رہے۔ سیکولر ریاست کی روح سماجی انصاف میں مضمر ہوتی ہے، مگر بڑھتی ہوئی معاشی خلیج نے اس روح کو مجروح کیا۔ تعلیم، صحت اور روزگار جیسے بنیادی شعبوں میں کٹوتیاں اس بات کا ثبوت تھیں کہ فلاحی ریاست کا تصور پس منظر میں چلا گیا ہے۔عالمی سطح پر بھارت کی گرتی ہوئی درجہ بندیاں—چاہے وہ جمہوریت، اظہارِ رائے کی آزادی یا میڈیا کی خود مختاری سے متعلق ہوں—محض بیرونی تنقید نہیں بلکہ داخلی حقیقتوں کا عکس ہیں۔ ایک سیکولر جمہوریت کی طاقت اس کی تنقید برداشت کرنے کی صلاحیت میں ہوتی ہے، مگر 2025 میں تنقید کو اکثر سازش یا دشمنی کے طور پر پیش کیا گیا۔سیاسی کامیابیوں کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم رہی کہ اگر اقتدار کا حصول ادارہ جاتی توازن اور آئینی اخلاقیات کی قیمت پر ہو، تو وہ کامیابی جمہوری نہیں کہلا سکتی۔ سیکولر بیانیہ یہ تقاضا کرتا ہے کہ ریاست مذہب، شناخت اور اکثریت سے بالا ہو کر شہری حقوق کو مرکز میں رکھے—اور یہی وہ امتحان ہے جس میں 2025 بار بار ناکام ہوتا نظر آیا۔مجموعی طور پر سال 2025 بھارت کی سیکولر جمہوریت کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہوا۔

یہ سال ایک تنبیہ ہے کہ آئین، ادارے اور سماجی ہم آہنگی محض الفاظ یا تقریبات سے محفوظ نہیں رہتے۔ اگر ریاست نے خود کو تمام شہریوں کی مساوی نمائندہ اور محافظ کے طور پر دوبارہ قائم نہ کیا، تو آنے والے برس جمہوری کمزوریوں کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔ سیکولرزم کوئی نظریاتی نعرہ نہیں بلکہ شہری بقا کی ضمانت ہے—اور 2025 نے اسی سچائی کو پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے رکھ دیا۔

0 comments

Leave a Reply