یہ عدالت کا فیصلہ ہے یامسلمانوں کے زخم ہرے کرنے کی ایک اور کوشش
حرف نیم کش
عظیم اختر
با ضابطہ اخبارات پڑھنے اور ملکی سیاست سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کو یقینا یاد ہوگا کہ بہو جن سماج پارٹی کی حرفِ آخر یعنی مایاوتی جی جب اقتدار سے باہر ہوتی ہیں اور حکومتِ وقت کی طرف ان کے اثاثوں اور بے شمار عطیات وغیرہ کے بارے میں تحقیقی و تفتیشی قدم اٹھایا جاتا ہے تو محترمہ اپنے آپ کودودھ کا دھلا ہوا ثابت کرنے کے لیے دہائی دینے لگتی ہیں کہ ان کو اور ان کی پارٹی کو نقصان پہنچانے کے لیے سازش رچی جا رہی ہے اور سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے۔
محترمہ مایا وتی جی کی بلبلاہٹ آمیز یہ بیان اخبارات کی زینت بنتا ہے اور ہوا میں اڑ جاتا ہے، لیکن ڈیڑھ دو ماہ پہلے جب ۲۹۹۱ء میں ایودھیا میں رام مندر بنانے کی ملک گیر پیمانے پر تحریک چلانے اور بابری مسجد کو شہید کرنے کا کریڈٹ لینے والے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ویر نیتاؤں نے سی بی آئی کی اسپیشل عدالت میں بلند حوصلہ نیتاؤں کی طرح اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کی بجائے اپنی آپ کو دودھ کا دھلا ہوا ثابت کرنے کے لیے مایا وتی جی کے اُگلے ہوئے لقموں کو منہ میں رکھ کر اسی نہج پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی انتقام لینے کے لیے ان کو ایک سازش کے تحت اس لوگوں کو مقدمے میں پھنسایا گیا ہے۔“ جنگِ آزادی کے دوران اس ملک کی سرزمین نے ایسے بھی انگنت ہندو مسلم رہنما دیکھے جنھوں نے عدالتوں میں انتظامیہ کی طرف سے لگائے گئے الزامات سے انکار نہیں کیا اور قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں اور اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے، لیکن آج ہماری سیاست کا یہ سب سے بڑا المیہ ہے کہ جب بھی کوئی سیاستداں قانون کے شکنجے میں پھنستا ہے تو وہ صرف سازش کی دہائی دیتا ہے اور اپنی معصومیت کے راگ الاپتا ہے۔ یہ ایک عام سیاسی چلن ہے۔ حکمراں پارٹی اور اس کے چھوٹے بڑے نیتاؤں کا مارگ درشن کرنے والے بھاری بھرکم نیتاؤں نے جو کل تک اپنی نجی محفلوں میں رام مندر کی تعمیر کا راستہ کھولنے اور مسجد کو منہدم کرنے کی منصوبہ بندی کو اپنے ذہنِ زرخیز کی دین کہتے ہوئے نہیں تھکتے تھے، عدالت میں سی بی آئی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو بے خوف و خطر قبول کر کے ہندو سماج میں نڈرتا کی ایک مثال قائم کرنے کی بجائے یہ کہہ کر کہ ان سے سیاسی انتقام لینے کے لیے ان لوگوں کو اس کیس میں پھنسایا گیا ہے، گویا رام مندر کی تعمیر کے نام پر ملک کی اکثریتی طبقے کے دھارمک جذبات کو جوالا مکھی بنانے والے ہندوتوا کے ان علمبرداروں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے دگجوں نے بابری مسجد کو شہید کرنے کی نہ کوئی سازش رچی تھی اور نہ کوئی منصوبہ بنایا تھا۔ عدالتی کارروائی کے دوران ہر ملزم کو اپنے دفاع میں بیان دینے کا حق ہوتا ہے، عام طورپر اس قسم کے دفاعی بیانات کو تا وقتیکہ کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کیا جائے،
کوئی زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی لیکن اگر منصف اس قسم کے دفاعی بیانات کو آنکھوں کا سرمہ بنا کر چارج شیٹ کھنگالنا شروع کر دے تو پھر ایسے محیر العقول فیصلے جنم لیتے ہیں کہ انصاف سر پیٹا ہی رہ جائے۔ گزشتہ دنوں ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں ایک ایسے ہی محیر العقول فیصلے کا اور اضافہ ہوا جب سی بی آئی کی اسپیشل کورٹ میں گزشتہ اٹھائیس سال سے چل رہے مقدمے کے فاضل جج نے ہندوتوا کے علمبرداروں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے دگجوں کے دفاعی بیان کی روشنی میں چارج شیٹ کو پرکھا اور ۰۰۳۲ صفحات پر مشتمل فیصلہ لکھا تو انھیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ان بتیس دگجوں میں ایک بھی مجرم نظر نہیں آیا۔ دو ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے کو صرف تین منٹ میں پڑھ کر نہ صرف سب کو باعزت بری کر دیا بلکہ مستقبل میں اس منزل تک پہنچنے والے اپنے جا نشینوں کی ذہنی رہنمائی کا ایک راستہ بھی کھول دیا کہ اس طرح کے دفاعی بیانات پر آنکھ بند کر کے فیصلے بھی کیے جا سکتے ہیں۔ ہندوتوا کے علمبرداروں اور بھاتیہ جنتا پارٹی کے ان دگجوں نے اپنے دفاع میں یہی بیان دیا تھا کہ بابری مسجد انہدام کی سازش کی تہہ تک پہنچنے اور ملزموں کو کیفرِ کردار پہنچانے کے لیے چارج شیٹ وغیرہ کو خوردبین سے دیکھا تو تو ان کو آکاش وانی ہوئی کہ مسجد کا انہدام تو ہوا مگر اس کے لیے بتیس ملزموں میں سے کسی بھی کو بھی قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ مسجد کا انہدام کسی منظم منصوبے یا سازش کا نتیجہ قطعی نہیں تھا بلکہ یہ اس وقت وہاں موجود لوگوں کے غصے اور اچانک رد عمل کے سبب ہوا تھا اور جن لوگوں نے ڈھانچے کو توڑا ان کے اور ملزمین کے درمیان کوئی براہِ راست رابطہ نہیں تھا۔ جج صاحب نے گل افشانی کرتے ہوئے مزید کہا کہ صرف جائے وقوع پر کسی کی موجودگی اسے قصوروار نہیں ٹھہرا سکتی اور تصویروں کی بنیاد پر کسی کو مجرم نہیں مانا جا سکتا۔ ٍ اسپیشل عدالت کے جج نے مفروضوں کی بنیادوں پر استغاثہ دلیلوں کو رد کرتے ہوئے بھگوا بریگیڈ کے تمام مہارتھیوں کو کلین چٹ تھما دی لیکن حیرت ہے کہ مسجد منہدم کرنے والوں کی دیدہ و دانستہ نشاندہی نہیں کی جس کے لیے اس عدالت کا قیام عمل میں آیا تھا۔
سوال یہ ہے کہ اگر بھگوا بریگیڈ کے ان دگجوں نے مسجد کو شہید کرنے کی کوئی سازش نہیں رچی تھی اور کوئی منصوبہ نہیں بنایا تھا تو پھر مسجد کیسے منہدم ہو گئی اور اس کی شہادت کا ذمہ دار کون ہے؟ بابری مسجد کی عمارت یقینا پانچ سو سال پرانی تھی لیکن اس کے باوجود خستہ حال نہیں تھی۔ اس کے بھاری اور مضبوط گنبدوں اور موٹی موٹی دیواروں کو منصوبہ بندی کے بغیر منہدم کرنا آسان کام نہیں تھا۔ بھگوا بریگیڈ کے مہارتھیوں نے لاکھوں کارسیوکوں کے ساتھ ایسے نام نہاد کارسیوک بھی جمع کیے تھے جو اس قسم کی انہدامی کارروائیوں کے ماہر تھے،ورنہ گنبدوں پر چڑھنے والے چند سو کارسیوکوں کے بوجھ سے مسجد کے مضبوط گنبدکبھی زمیں بوس نہ ہوتے اور دیوار یں آسانی سے ڈھے نہ جاتیں۔ حیرت و استعجاب کا مقام ہے کہ جج صاحب نے نامعلوم مصلحتوں کے تحت اس پہلو پر غور ہی نہیں کیا اور نا معلوم اینٹی سوشل عناصر کے سرپر چھپر توڑ کر مسلمانوں کے زخم دوبارہ ہرے کردیے۔ ہمارے یہاں جھوٹوں کو گھر تک چھوڑ کر آنے کی کہاوت بہت مشہور ہے، یہاں بھی جھوٹوں کو گھر تک چھوڑ کر آنے کے راستے کھلے ہوئے ہیں کیونکہ ابھی دس ماہ قبل سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے انہدام کو ایک مجرمانہ عمل قرار دیا تھا اور اسے قانون کی صریحاً خلاف ورزی بتایا تھا۔ حیرت و استعجاب کا مقام ہے کہ سپریم کورٹ کے واضح فیصلے کے باوجود اسپیشل کورٹ اس طرح ملزمین کو کیسے بری کر سکتی ہے؟ اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں یقینا چیلنج کیا جا سکتا ہے، لیکن مسلمانوں کا عدلیہ میں یقین ہے لیکن کل کلاں اگر وہاں بھی ایسا کوئی فیصلہ آگیا جس سے مسلمانوں کے زخم پھر ہرے ہو جائیں تو کیا یہ امتِ مسلمہ کے مفاد میں ہوگا؟
M: 9810439067

0 comments