مدارس و مکاتب کے لیے خود کفالتی نظام لائیں ; ملت اسلامیہ سے درمندانہ اپیل
نوراللہ خان
السلام علیکم
عزیزان گرامی !
امید ہے کہ بخیر ہوں گے۔
افسوس کہ حالیہ عالمی وبا “کورونا وائرس “ نے ایک آزمائش کی شکل میں سب کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا او گوشہ نشینی نے عالم انسانیت کے سامنے نہ صرف کئی مسائل کھڑے کئے بلکہ بیماری سے زیادہ لوگ فاقہ کشی اور نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے پریشان ہوئے ۔ اس مصیبت کی گھڑی میں انسانی قربت اور اخلاقی اقدار کا اعلی ثبوت دینا ہمارا انسانی ، سماجی ، اخلاقی اور سب سے بڑھ کر دینی فریضہ ہے۔
اس وقت مکاتب ومدارس کی مدد کیلئے عملی اور زمینی سطح پر جو موثر کام ہوسکتے ہیں اور جن سے دیر پا نتائج نکلیں گے اور جو طریقے کم وقت اور کم وسائل میں مفید تر ہوسکتے ہیں اس سلسلے میں خاکسار نے کچھ باتیں اہل علم کے حضور پیش کیا ہے۔ شاید یہ تجاویز مفید ثابت ہوں۔ یہ میری ناقص آراء ہیں۔ اس سے سب کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
صرف موجودہ روایتی چندہ پر انحصار سے بچیں۔ پچاس روپئے ہی سہی لوگوں سے فیس لیں ۔ چندہ پر انحصار اور مالی بحران کی وجہ سے لاکھوں مدرس معلق و مناسب سے کہیں بد تر تنخواہ پر مجبور ہیں جو واقعی ایک مذاق ہے۔
دوکان ، گھر ، مکان ، شادی ، تفریح سب کیلئے پیسے ہیں مگر دینی تعلیم کیلئے چودھری اور اہل ثروت بھی وایا کرکے زکات کھارہا ہے۔
یہ صدقات جن کے نام پر آتے ہیں اگر ان کو پورا مل جائے تو وہ خوش حال ہوجائیں مگر ان کے نام پر سب کھارہے ہیں تاکہ ان کو پرماننٹ غریب رکھا جائے۔
ایک بات اور بھی ہے کہ مدرس کو اپنا دوست، پڑوسی اور مجبور بھی سمجھ کر اسکے مدد کریں۔ مگر اسکی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر لوگ دو چار ہزار کی تنخواہ دے کر احسان جتاتے ہیں۔
خود کفالتی نظام لائیں۔ جن اداروں کے پاس زمین ہو اس دوکان وغیرہ بنواکر کرائے وصول کئے جائیں۔
دس بیس فیصد زکات کے مستحق ، محتاج طلبہ کے نام پر مکاتب اسلامیہ میں موجودہ مفت تعلیمی سسٹم پر ازسر نو غور کریں۔ محتاجوں کی ضرور مزید مدد کریں۔
لیکن صاحب نصاب اور زکات جن پر بھی فرض ہے ان کو سمجھائیں اور ان سے فیس لی جائے تاکہ یہ نہ ہو کہ حساب و کتاب یا ایسی مصیبت کے ناطے چندہ نہ ہو سکے تو ادارے بند ہوجائیں۔
انفرادی اہل خیر اپنا تعاون جاری رکھیں لیکن سب کا تعاون لیا جائےتاکہ سب کو وابستہ کیا جائے اور کسی کی عدم حمایت اور عدم موجودگی میں ادارے کو بند ہونے یا اچانک و ہنگامی حالات سے بچایا جاسکے۔ ورنہ اگر چندہ کم یا بالکل نہیں ہوا تو کچھ لوگ اس لئے تعاون نہیں دیں گے کہ جس خاندان نےاکیلے چلایا تھا وہ ذمے دار ہیں۔ کچھ لوگ طاقت ہوتے ہوئے بھی ایک زمانے سے مفت تعلیم پانے کی وجہ سے مفت ہی کے عادی ہوگئے ہیں اس لئے اعانت نہیں دیں گے۔ اس کی وجہ سے مدرس کم ہوں گے، اچھے مدرس چلے جائیں گے۔ یا چار چھ اساتذہ کے بجائے ایک دو ہی رہیں گے اور مالی حالت کی کم کمزوری سے با صلاحیت مدرسین کا تقرر بھی یقینی بنانا دشوار ہوجائیگا۔ نتیجتا غیر معیاری تعلیم ہوگی اور جس رفتار سے لوگ مکتب سے بھاگ رہے ہیں اس میں نہ صرف بڑا اضافہ ہوگا بلکہ اس ابتر صورت حال اور کم بچوں کی وجہ سے سیکڑوں مکاتب بند ہوجائیں گے جو ایک افسوس ناک صورت اختیار کرے گی ۔
- پچاس یا سو روپئے ہی سہی لوگوں سے مثبت اندا ز میں اپیل کی جائے، جمعہ کے خطبوں میں اس گناہ کا حوالہ دیا جائے۔ زکات کون کھا سکتا ہے اس پر تفصیل سے بیان کیا جائے۔ اور کس پر اس کا استعمال گناہ ہے ، یہ بھی بتایا جائے۔ ساتھ ہی اس کے سماجی اور تعلیمی و مذہبی اعتبار سے دوررس فوائد بتائے جائیں اور لاپروائی کی صورت میں بند پڑے مدارس کی تاریخ اور منڈلاتے ہوئے خدشات سے بروقت آگاہ کیا جائے۔
شہروں کی طرح اردو و اسلامیات کی کمی کیلئے مسجد کا استعمال کیسے ہو اس پر بھی زور دیاُجائے ۔
- بلا ضرور ت یا صرف انانیت میں آکر نئے ادارے کے بجائے قدیم اور پریشان حال مکاتب و مدارس کو مفید، بہتر اور مضبوط بنایا جائے۔ مدارس تو ٹھیک ہیں لیکن مکاتب کی بہتری بہت ضروری ہے۔
مالی نظم ونسق کے ساتھ ان داروں کی بقا ان کے معیار سے وابستہ ہے۔ کمزور اور غیر موثر تعلیم اور قدیم نصاب تعلیم کی وجہ سے لوگ سیلاب نما اسکولوں کے طوفان کی جانب بڑھ رہے ہیں جہاں نوے فیصد اردو اور اسلامیات کاُنظم نہیں ہے وہ بھی قابل افسوس ہے۔
تعلیم نسواں کو بھی معیاری بنائیں تاکہ نئی نسل کی تعمیر بہتر اور آسان ہوسکے۔
- اس کیلئے معیار بڑھاکر اور بلا مداخلت مناسب اضافہ کیا جائے تاکہ مکاتب کی روح اور قیام کے مقاصد پر ضرب نہ آئے اور عصری تقاضوں کا خیال بھی رکھا جاسکے۔ ساتھ ہی کمیٹی بناکر ضروری دستاویزات ، رجسٹریشن اور حساب و کتاب کو شفافیت کے ساتھ رکھا جائے تاکہ قانونی طور پر ہم بہتر ہوں اور صدیوں سے ملک و ملت کی خدمت کا سلسلہ مزید جاری رہ سکے۔
اللہ مومنا نہ فراست عطاکرے۔ آمین
والسلام
نوراللہ خان
چیئرمین
گریٹ انڈیا ویلفیئر فاؤنڈیشن
موبائل: 9971841635

0 comments