اردو کے فروغ میں قاضی عدیل احمد عباسی کی خدمات پر یک روزہ قومی سمینار

قاضی صاحب کی خدمات کو فراموش کر دیا گیا : پروفیسر عمران عند لیب

 

نئی دہلی ( پیس ریلیز ) قاضی عدیل عباسی ہندوستان کی تحریک آزادی کے چشم دید گواہ ہی نہیں تھے بلکہ بے حد فعال رکن بھی تھے۔انھوں نے مہاتما گاندھی،پنڈت نہرو، مولانا محمد علی،شوکت علی اور مولانا آزاد اور دوسرے قائدین  کے ساتھ مل کر اس تحریک میں حصہ لیا۔انہوں نے اردو کے لئے جو خدمات انجام دی ہیں ان کو واقعی میں وہ درجہ نہ مل سکا جس کا انہیں حق تھا۔

وہ بیک وقت صحافت، سیاست،الیکشن کتابیں تصنیف کرنا، کا نفرنسیں، کنونشن اور مشاعرے منعقد کرنا، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی بحالی کے لئے جدوجہد کرنا، اخبارات کے لیے مضامین لکھنا لوگوں کے خطوط کا جواب دینا،مسلم پر سنل لا اور حج کمیٹی،اترپردیش اردو اکیڈمی میں اور انجمن ترقی اردو ہند وغیرہ کی سرگرمیوں میں پیش پیش رہناحیرت ہوتی ہے کہ ایک آدمی اتنے سارے کام کیسے کر سکتا ہے یہ سب کام کیا قاضی عدیل احمد عباسی مرحوم نے۔

May be an image of 6 people and people standing

گریٹ انڈیا ویلفیر فاونڈیشن کے چیئر مین نور اللہ خان خطاب کرتے ہوئے  

 مذکورہ باتیں مشہور شاعر و ادیب سرگزشت عدیل احمد عباسی کے مصنف، پروفیسر عمران احمد عندلیب نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور گریٹ انڈیا فاؤنڈیشن کی جانب

سے منعقد ایک مشترکہ یک روزہ قومی سیمینار میں کہیں جس کا  عنوان ”اردو کے  فروغ میں قاضی عدیل عباسی کے خدمات،، تھا ۔

ملی ماڈل ا سکول ابوالفضل انکلیو کے علامہ اقبال ہال میں منعقد اس سیمینار میں مشہور نقاد اور ادیب حقانی القاسمی نے بھی شرکت کی اس موقع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدیل احمد عباسی کی زندگی یہ بتاتی ہے کہ اردو کی خدمت کے لیے دوسرے علوم و فنون پر علم اور قدرت رکھنا ضروری ہے۔ وہ نہ صرف مجاہد آزادی تھے بلکہ مجا ہد اردو بھی تھے۔شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر علی احمد ادریسی  نے  اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ عدیل احمد عباسی کی زندگی مختلف الجہات ہے ان کو پڑھ کر اقبالیات کی سمجھ پیدا ہوتی ہے۔قاضی عباسی بہت ذہین آدمی تھے اور انہوں نے اقبال کو بہت باریکی سے سمجھا تھا۔ شعبہ اسلامک اسٹڈیز جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر فاروق نے عدیل احمد عباسی کو ایک عظیم اسلامی اسکالر قرار دیا اور بتایا کہ ان کی دو کتابیں سفر حج اور تحریک خلافت اس بات کا واضح ثبوت ہیں۔

 گریٹ انڈیا ویلفیئر فاؤنڈیشن کے روح رواں ڈاکٹر نور اللہ خان  نے کہا کہ کہ گریٹ انڈیا ویلفیئر فاؤنڈیشن ایک ایسا ادارہ ہے جو اپنی تعلیمی سرگرمیوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے اور جس  نے اپنے اسلاف کو نہ بھلانے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے قاضی عدیل عباسی پر منعقد یہ سیمینار اسی کا ایک حصہ ہے۔اس پروگرام میں دیگر مقالہ نگار ان میں ڈاکٹر سلمان فیصل محکمہ تعلیمات حکومت دہلی،ڈاکٹر فضل الرحمان، ڈاکٹر علام الدین، ڈاکٹر عبد الرب، محترمہ صائمہ خانم اور ڈاکٹر شاہ نواز فیاض  نے اپنے اپنے مقالے پیش کیے۔اس پروگرام میں نظامت کے فرائض محکمہ تعلیم حکومت دہلی کے استاد ڈاکٹر فیضان شاہد نے انجام دیے جب کی تلاوت کلام مجید اور اظہار تشکر بالترتیب ڈاکٹر شاہنواز فیاض اور معروف سماجی کارکن خالد سہیل نے انجام دیے۔

پروگرام کے آخر میں گریٹ انڈیا فاؤنڈیشن نے اپنے مہمانان کو مومنٹو اور سرٹیفکیٹ پیش کیے نیز مقالہ نگار ان کو تو صیفی اسناد سے نوازا۔اس پروگرام میں ڈاکٹر محمد مقیم،ڈاکٹر صابر علی، محمد سلمان، عبدالعزیز، عبداللہ،عبیداللہ کے علاوہ کثیر تعداد میں  ریسرچ اسکالرس اور سرکردہ شخصیات نے شرکت کی۔

1 comments

  • فضل الرحمان

    ماشا اللہ بہت خوب اللہ آپکی محنت شاقہ کا نرم البدل عطا کرے .

Leave a Reply