خانقاہی فکر کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مشائخ کا اہم مشاورتی اجلاس

نئی نسل کی دینی و روحانی تربیت، خانقاہوں کے باہمی ربط، علمی سرگرمیوں اور خدمتِ خلق کے دائرے کو وسیع کرنے پر زور

 

گیا، 9 اگست 2026: خانقاہی فکر کے بینر تلے بہار کی متعدد خانقاہوں کے سجادہ نشینان، ولی عہدان، علماء، مشائخ، خانقاہی نمائندگان اور اس فکر سے وابستہ افراد کا ایک اہم آن لائن مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں خانقاہی نظام کے بنیادی مزا عصرِ حاضر میں اس کی ضرورت و افادیت، نئی نسل کی دینی و روحانی تربیت، خانقاہوں کے باہمی ربط اور خدمتِ خلق کے دائرے کو مزید مؤثر بنانے کے سلسلے میں تفصیلی مشاورت کی گئی۔
اجلاس کا آغاز سید شاہ حامد رضا مدثر قادری،امجھر شریف، کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ نظامت کے فرائض ٹی ایم ضیاء الحق نے ادا کۓ۔ 

اجلاس میں اس بات پر خصوصی زور دیا گیا کہ خانقاہ راہِ اعتدال، اصلاحِ نفس، تزکیۂ باطن، اخلاقی تربیت، دعوتِ دین اور خدمتِ انسانیت کا مرکز ہے۔ ہندوستان بالخصوص بہار میں خانقاہوں نے صدیوں سے دین کی دعوت و اشاعت، علم و عرفان کے فروغ، اخلاقی تربیت اور انسانیت کی خدمت میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ صوفیائے کرام نے اپنے حسنِ اخلاق، کردار اور خدمت کے ذریعے معاشرے میں محبت، رواداری، اخوت اور انسانی ہمدردی کو فروغ دیا اور لوگوں کے دلوں کو دین کے پیغام سے جوڑا۔
سید شاہ شمیم منعمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خانقاہوں کا بنیادی مقصد اختلافات کو ہوا دینا یا فتویٰ بازی نہیں، بلکہ انسان کی اصلاح، تربیت، کردار سازی اور خدمتِ خلق ہے۔ خانقاہیں محبت، رواداری، اخلاص اور روحانی تربیت کے مراکز رہی ہیں اور موجودہ دور میں بھی معاشرے کو ان کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کا نوجوان خانقاہوں کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔ اسے ایسی رہنمائی کی ضرورت ہے جو اسے دین سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ عملی زندگی میں ایک بہتر، ذمہ دار اور باکردار انسان بننے میں مدد دے۔ اس لیے خانقاہوں کو وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے نئی نسل کی فکری، دینی، اخلاقی اور روحانی تربیت کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔
سید شاہ صباح الدین چشتی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں مدارس کے رائج دینی نصاب کے ساتھ روحانی تربیت کے پہلو پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خانقاہوں کے زیرِ اہتمام یا ان سے وابستہ دینی مدارس میں بھی تعلیم کے ساتھ طلبہ کی روحانی و اخلاقی تربیت کے لیے باقاعدہ نظام تشکیل دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دین کی ترویج و اشاعت اور دعوتِ دین کے مؤثر ہونے کے لیے صرف ظاہری علم کافی نہیں، بلکہ انسان کا باطن بھی سنورنا ضروری ہے۔ جب داعی کے اندر اخلاص، اخلاق، تزکیہ اور روحانیت پیدا ہوتی ہے تو اس کی دعوت زیادہ مؤثر اور دل نشیں ہوتی ہے۔ اس لیے مدارس کے نصاب اور تربیتی نظام میں روحانی تربیت کو مناسب اور مؤثر مقام دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے خانقاہ کے مزاج کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ خانقاہ راہِ اعتدال کا نام ہے۔ خانقاہی فکر تشدد، انتہاپسندی یا کسی بھی قسم کے ایکسٹریمزم کو فروغ نہیں دیتی، بلکہ توازن، اعتدال، انکسار، تحمل، عفو و درگزر اور محبتِ انسانیت کا درس دیتی ہے۔ ایک داعی کے اندر یہ صفات بنیادی طور پر موجود ہونی چاہئیں اور یہی اوصاف خانقاہی تربیت کا حصہ ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ آج خانقاہی ذمہ داران کے سامنے سب سے اہم ذمہ داری یہ ہے کہ خانقاہی فکر کی ان بنیادی اقدار کو نئی نسل تک منتقل کیا جائے۔ نئی نسل کو صرف اپنے اسلاف اور خانقاہی نسبت کے تعارف تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ انہیں اعتدال، انکسار، عفو و درگزر، اخلاق، روحانیت اور خدمتِ انسانیت کی عملی تربیت بھی دی جائے، تاکہ خانقاہی روایت اپنی حقیقی روح کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل ہوتی رہے۔
سید شاہ سلمان مودودی چشتی، ولی عہد خانقاہ چشتیہ مودودیہ، نوادہ نے فرمایا کہ آج کے دور میں فکری انتشار، ذہنی پریشانیاں اور مختلف فتنے، خواہ بین المسالک ہوں یا بین المذاہب، کا مؤثر حل خانقاہی فکر میں موجود ہے۔ متصوفانہ تعلیمات انسان کو باطنی سکون، اعتدال اور فکری توازن عطا کرتی ہیں اور معاشرتی انتشار کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ خانقاہی تعلیمات کو نئی نسل تک مؤثر انداز میں پہنچانے کی ضرورت ہے، جس کے لیے جدید ذرائع ابلاغ اور موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق حکمتِ عملی اپنانا ضروری ہے، تاکہ یہ تعلیمات وسیع پیمانے پر رہنمائی کا ذریعہ بن سکیں۔

سید شاہ مجیب الحق عمادی ازہری، ولی عہد خانقاہ عمادیہ، منگل تالاب، پٹنہ نے خانقاہی تعلیمات اور نئی نسل کے درمیان تعلق کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ خانقاہوں کی بنیادی تعلیمات اور تعلیماتِ تصوف کو نئی نسل تک کس طرح مؤثر انداز میں پہنچایا جائے، اس پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں نئی نسل مختلف ذہنی، فکری اور سماجی مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں تعلیماتِ تصوف انہیں روحانی سکون، فکری توازن اور اخلاقی استحکام فراہم کر سکتی ہیں۔ اس لیے خانقاہی ذمہ داران کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ایسے مؤثر طریقۂ کار اختیار کرنے چاہئیں جن کے ذریعے نئی نسل خانقاہی تعلیمات اور روحانی روایت سے قریب ہو سکے۔

سید شاہ ابوالمحاسن قادری نے خانقاہی نظام کو مزید منظم، فعال اور مؤثر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خانقاہ کی انتظامی، دینی، علمی اور سماجی سرگرمیوں کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خانقاہی انتظامیہ کو ازسرِنو منظم کرکے باہمی مشاورت سے ایک فعال مجلسِ عاملہ تشکیل دینے کی تجویز پیش کی، تاکہ خانقاہ کے امور نظم و ضبط، ذمہ داری اور بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور نئی نسل کا دور ہے، اس لیے نوجوانوں کو خانقاہی نظام سے جوڑنا اور انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سینئر افراد کے تجربات اور رہنمائی سے استفادہ کرتے ہوئے نوجوانوں کو دینی، علمی، سماجی اور انتظامی سرگرمیوں میں ذمہ داریاں دی جانی چاہئیں۔

سید شاہ ارباب اشرف، سجادہ نشین خانقاہ درویشیہ اشرفیہ نے خانقاہی نظام کے وسیع النظر اور انسان دوست کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ خانقاہ کا دروازہ ہر ایک کے لیے کھلا رہتا ہے۔ یہاں مسلک، مذہب، نسل یا کسی
بھی امتیاز کی بنیاد پر تفریق نہیں کی جاتی۔ خانقاہیں ہمیشہ سے انسانیت کو اپنے دامن میں سمیٹنے والے مراکز رہی ہیں، جہاں ہر شخص محبت، احترام اور روحانی رہنمائی کے ساتھ آ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خانقاہی نظام کی یہی وسعتِ قلبی اور ہمہ گیری اس کی بنیادی خصوصیت ہے۔ صوفیائے کرام نے ہمیشہ انسان کو انسان کی حیثیت سے دیکھا اور بلاامتیازِ مذہب و مسلک، نسل و برادری لوگوں کی خدمت کی۔ خانقاہوں کے دروازے ہر دور میں سب کے لیے کھلے رہے ہیں اور یہی روایت آئندہ بھی برقرار رہنی چاہیے۔

شاہ نورین علی حق نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو خانقاہی تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ تمام خانقاہوں کو چاہیے کہ وہ اپنے خاندان اور خانقاہ سے وابستہ تمام نوجوانوں کی بلاامتیاز تربیت کا اہتمام کریں۔ خانقاہی خانوادوں سے تعلق رکھنے والے وہ علماء جو مختلف اداروں سے عالمیت و فضیلت کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، انہیں تصوف کے مراجع و مصادر کی حیثیت رکھنے والی بنیادی کتب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ خانقاہوں کو ان کی عملی تربیت اور فکری رہنمائی کی جانب بھی مؤثر پیش رفت کرنی چاہیے۔

انہوں نے لڑکیوں کے لیے دینی و تعلیمی اداروں کی کمی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کلیۃ البنات کے قیام کو وقت کا اہم تقاضا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ خانقاہیں ہر دور میں سمندر کی مانند بلاتفریقِ مذاہب و مسالک لوگوں کو اپنے دامن میں سمیٹتی رہی ہیں اور آئندہ بھی خانقاہوں کا یہی وسیع النظر، روادارانہ اور انسان دوست کردار برقرار رہنا چاہیے۔

سید شاہ حیات ابوالعلائی نے بھی خانقاہی نظام، روحانی تربیت اور عصرِ حاضر میں خانقاہوں کی ذمہ داریوں پر اظہارِ خیال کیا۔

نشست کی صدارت سید شاہ احمد فضیل نے کی، جبکہ سید شاہ عطا فیصل نے خانقاہی فکر کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ خانقاہی فکر دراصل راہِ اعتدال، تزکیۂ نفس، اخلاق، روحانیت، محبت، خدمتِ خلق اور دعوتِ دین کی فکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کی سرزمین خانقاہی روایت کا ایک اہم مرکز رہی ہے اور یہاں کی متعدد خانقاہوں نے صدیوں سے دین، علم، روحانیت اور انسانیت کی خدمت انجام دی ہے۔
صدارتی خطاب میں سید شاہ احمد فضیل نے خانقاہوں کی روحانی دعوت کو مؤثر بنانے کے لیے نوجوانوں کی خصوصی تربیت کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایسا روحانی و تربیتی نصاب مرتب کیا جانا چاہیے جس میں دینی علوم کے ساتھ تزکیۂ نفس، ذکر و فکر، اخلاقی تربیت، روحانی تربیت اور سلوک کے مختلف مراحل کو منظم انداز میں شامل کیا جائے۔
سید شاہ خرم حسین منوری نے شکریے کی رسم ادا کرتے ہوئے خانقاہی خانوادوں کے بچوں اور نوجوانوں کی باقاعدہ تربیت کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خانقاہی بچوں کے لیے ہر تین ماہ میں ایک تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا جانا چاہیے، تاکہ انہیں اپنے اجداد و اسلاف کی علمی، روحانی اور اخلاقی روایت سے جوڑا جا سکے اور انہیں ایک منظم راہِ عمل فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں سید شاہ مجیب الحق عمادی ازہری، شاہ مشاہد اصدق، سید شاہ کاشف سہروردی، سید شاہ طالب الحق عمادی، سید شاہ طالب منوری، سید شاہ منظر قادری، سید شاہ ارشد افضلی سمیت متعدد علماء، مشائخ، سجادہ نشینان، ولی عہدان اور خانقاہی فکر سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔

شرکائے اجلاس نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خانقاہی نظام کسی ایک خانقاہ، خاندان یا سلسلے تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک وسیع روحانی، اخلاقی، علمی اور انسانی روایت ہے، جس نے صدیوں سے معاشرے کی اصلاح اور انسانیت کی خدمت کی ہے۔ بہار کی مختلف خانقاہوں نے اپنے اپنے دائرے میں دین کی دعوت، علم کی اشاعت، روحانی تربیت، سماجی خدمت اور انسانوں کے درمیان محبت و رواداری کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ موجودہ دور کے فکری، اخلاقی اور سماجی چیلنجز کے مقابلے میں خانقاہی فکر اپنی اعتدال پسندی، روحانی تربیت، اصلاحِ نفس، اخلاق، محبتِ انسانیت، اتحاد اور خدمتِ خلق کے ذریعے ایک مؤثر اور متوازن راستہ پیش کر سکتی ہے۔

آخر میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ خانقاہی نظام کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے نئی نسل کی دینی و روحانی تربیت، خانقاہی نوجوانوں کی تنظیم و فعالیت، علمی و تحقیقی سرگرمیوں، خانقاہوں کے باہمی رابطے، عوامی تعلقات، اتحاد، رواداری اور خدمتِ خلق کے دائرے کو مزید وسیع کیا جائے گا۔
اجلاس کا اختتام خانقاہ چشتیہ منعمیہ، گیا کے سجادہ نشیں سید شاہ صباح الدین چشتی کی دعا پر ہوا۔

 

0 comments

Leave a Reply