بشیر بدر کی خاموش رخصتی اور ہمارے عہد کا المیہ

 

ٹی ایم ضیاء الحق
 
ڈاکٹر بشیر بدر (15 فروری 1935ء – 28 مئی 2026ء) اردو غزل کے ان معدودے چند شاعروں میں شامل تھے جنہوں نے اپنے عہد پر گہرا اور دیرپا اثر چھوڑا۔ ان کا اصل نام سید محمد بشیر تھا۔ اتر پردیش کے فیض آباد (موجودہ ایودھیا) میں پیدا ہوئے، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ انہوں نے اردو غزل کو ایک نیا لہجہ، نئی تازگی اور نئی مقبولیت عطا کی۔ ان کے اشعار نہ صرف مشاعروں میں گونجتے رہے بلکہ عام لوگوں کی گفتگو، خطوط، ڈائریوں اور بعد ازاں سوشل میڈیا کا بھی حصہ بن گئے۔ انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، پدم شری اور دیگر متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ 1987ء کے میرٹھ فسادات میں ان کا گھر اور برسوں کا علمی سرمایہ خاکستر ہوگیا، جس کے بعد وہ بھوپال منتقل ہوگئے۔ زندگی کے آخری برسوں میں وہ ڈیمینشیا کے مرض میں مبتلا رہے اور 28 مئی 2026ء کو بھوپال میں انتقال کرگئے۔ ان کے ساتھ اردو غزل کا ایک روشن اور یادگار باب بھی اختتام پذیر ہوا۔
اردو شاعری کی دنیا میں بعض نام ایسے ہوتے ہیں جو محض شاعر نہیں رہتے بلکہ ایک تہذیب، ایک احساس اور ایک عہد کی شناخت بن جاتے ہیں۔ بشیر بدر بھی انہی ناموں میں شامل تھے۔ ان کی غزلوں میں محبت کی نرمی بھی تھی، زندگی کی تلخی بھی، سماجی شعور بھی اور انسانی رشتوں کی نزاکت بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار مشاعروں کی محفلوں سے نکل کر عام لوگوں کی زندگی کا حصہ بن گئے۔ شاید ہی کوئی اردو داں ایسا ہو جس نے ان کا یہ شہرۂ آفاق شعر نہ سنا ہو:
"کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے، ذرا فاصلے سے ملا کرو"
لیکن وقت کا سب سے بڑا ستم یہ ہے کہ جس شاعر کے اشعار کروڑوں لوگوں کی یادداشت کا حصہ بن جائیں، ایک دن وہی شاعر اجتماعی یادداشت کے حاشیے پر چلا جاتا ہے۔ بشیر بدر کی آخری رخصتی اسی تلخ حقیقت کا ایک دردناک منظر بن کر سامنے آئی۔
ان کے انتقال کے بعد میڈیا اور سوشل میڈیا میں زیرِ بحث آنے والی اطلاعات نے ادب دوست حلقوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ ایک ایسا شاعر جس کے کلام نے کئی نسلوں کو متاثر کیا، جس کے اشعار محبت کرنے والوں کی زبان پر رہے اور جسے اردو غزل کا ایک معتبر اور مقبول ترین نام سمجھا جاتا تھا، اس کی آخری رسومات کے حوالے سے اٹھنے والی بحث نے ہمارے معاشرتی رویوں پر کئی سوالیہ نشان ثبت کر دیے۔
یہ واقعہ صرف بشیر بدر کی ذات تک محدود نہیں بلکہ ہمارے سماج کی ایک بڑی کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہم اپنے ادیبوں، شاعروں، فنکاروں اور دانشوروں کو اس وقت تک یاد رکھتے ہیں جب تک وہ فعال اور متحرک رہتے ہیں۔ جب تک ان کی محفلیں آباد رہتی ہیں، ان کے گرد لوگوں کا ہجوم رہتا ہے، لیکن جیسے ہی بیماری، بڑھاپا یا بے بسی ان کا مقدر بنتی ہے، لوگ آہستہ آہستہ دور ہونے لگتے ہیں۔
بشیر بدر گزشتہ کئی برسوں سے ڈیمینشیا کے مرض میں مبتلا تھے۔ یہ بیماری انسان کی یادداشت، شناخت اور شعوری صلاحیتوں کو متاثر کرتی ہے۔ ایک ایسا شاعر جس کے حافظے میں ہزاروں اشعار محفوظ تھے، وہ اپنی ہی یادداشت کی دھند میں گم ہوتا چلا گیا۔ یہ صرف ایک بیماری نہیں بلکہ ایک تخلیق کار کے لیے ایک خاموش سانحہ ہے۔ اس دوران وہ ادبی سرگرمیوں سے دور ہوگئے، مشاعروں میں ان کی شرکت کم ہوتی گئی اور رفتہ رفتہ عوامی نگاہوں سے اوجھل ہوتے چلے گئے۔
نوجوان شاعر محمد انس فیضی نے بجا طور پر لکھا ہے کہ بشیر بدر اردو غزل کا ایک ایسا موڑ تھے جہاں روایت اور جدت ایک دوسرے سے ہم آغوش نظر آتی ہیں۔ روایت کے دلدادہ اور قدامت پسند حلقوں کے لیے انہیں مکمل طور پر قبول کرنا آسان نہیں تھا، لیکن جدید اردو غزل کا کوئی بھی منظرنامہ ان کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔
ڈاکٹر ملک زادہ منظور احمد نے ایک موقع پر لکھا تھا کہ جدید غزل کی تاریخ بشیر بدر کے بغیر ادھوری ہے، جبکہ پروفیسر محمد حسن کا یہ جملہ آج بھی ان کی شعری عظمت کا اعتراف سمجھا جاتا ہے:
"بشیر بدر کی شعری صلاحیتوں پر ایمان نہ لانا کفر ہے۔"
یہ باتیں محض تعریفی جملے نہیں بلکہ اردو ادب میں ان کے مقام کی گواہی ہیں۔ ان سے محبت کرنے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد تھی، لیکن ان کی غیر معمولی مقبولیت سے حسد کرنے والوں کی بھی کمی نہیں تھی۔ یہی تو بڑے فن کار کی پہچان ہوتی ہے کہ وہ صرف داد ہی نہیں پاتا، مخالفت بھی سمیٹتا ہے۔
اچھے اشعار بہت سے شاعروں کے حصے میں آتے ہیں، لیکن منفرد اور یاد رہ جانے والے اشعار ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتے۔ بشیر بدر کی انفرادیت کو دنیا نے تسلیم کیا۔ انہوں نے غزل کو صرف مشاعروں اور ادبی نشستوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ عام آدمی کی زندگی، اس کی زبان اور اس کے جذبات کا حصہ بنا دیا۔
ان کی مقبولیت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ انہیں صرف پڑھا نہیں گیا، یاد رکھا گیا، دہرایا گیا اور جیا گیا۔ ان کے اشعار کتابوں سے نکل کر لوگوں کی روزمرہ گفتگو میں شامل ہو گئے۔
"یہ زعفرانی پلوور اُسی کا حصہ ہے
کوئی جو دوسرا پہنے تو دوسرا ہی لگے"
یہ شعر نہ جانے کتنے دلوں کی دھڑکنوں کے ساتھ جڑا رہا۔ محبت کے دنوں میں بھی، جدائی کی راتوں میں بھی اور زندگی کے ان لمحوں میں بھی جب انسان کسی کھوئی ہوئی یاد کو سینے سے لگائے بیٹھا ہوتا ہے۔
بشیر بدر کی شاعری کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے محبت کو محض رومانوی جذبے کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ اسے انسانی تعلقات، سماجی ہم آہنگی اور باہمی احترام کی بنیاد قرار دیا۔ ان کے اشعار میں انسان دوستی کی ایک ایسی روشنی ملتی ہے جو قاری کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بشیر بدر نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ فرقہ وارانہ فسادات کے تلخ تجربات کے ساتھ گزارا۔ 1987ء کے میرٹھ فسادات نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی۔ ان کا گھر، ان کی نایاب کتابیں اور برسوں کی محنت ایک لمحے میں راکھ بن گئی۔ اس سانحے کے بعد وہ بھوپال منتقل ہوگئے اور پھر وہیں کے ہوکر رہ گئے۔
بھوپال کو ملک کے اہم ادبی اور ثقافتی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسی لیے ان کی رخصتی نے صرف ایک شاعر کی وفات کا نہیں بلکہ ادبی معاشرے کی اجتماعی بے حسی کا سوال بھی اٹھا دیا۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ہم اپنے ادبی سرمایہ کو اس کی زندگی میں وہ احترام دے پاتے ہیں جس کا وہ مستحق ہوتا ہے؟
آج سوشل میڈیا پر بشیر بدر کی یاد میں بے شمار تحریریں لکھی جا رہی ہیں۔ ان کے اشعار شیئر کیے جا رہے ہیں، ان کے ساتھ ملاقاتوں کی تصویریں پوسٹ کی جا رہی ہیں اور ان سے وابستہ یادیں بیان کی جا رہی ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ قابلِ قدر ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا ہم اپنے ادیبوں اور شاعروں کو صرف ان کے انتقال کے بعد یاد کرتے ہیں؟ کیا ان کی زندگی میں ان کی خبرگیری، عیادت اور قدر شناسی کا فریضہ ادا کیا جاتا ہے؟
بشیر بدر کی شاعری دراصل انسانی رشتوں کی شاعری تھی۔ انہوں نے محبت کو بھی موضوع بنایا اور نفرت کے خلاف بھی آواز بلند کی۔ ان کا ایک مشہور شعر آج بھی ہمارے سماج کے لیے ایک اخلاقی سبق کی حیثیت رکھتا ہے:
"دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں"
اسی طرح ان کا ایک اور شعر فسادات اور تشدد کے خلاف ایک دائمی احتجاج کی صورت اختیار کر چکا ہے:
"لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں"
یہ شعر صرف ایک ادبی تخلیق نہیں بلکہ انسانی المیے کا نوحہ ہے۔ شاید اسی لیے بشیر بدر کے اشعار وقت گزرنے کے باوجود اپنی تازگی اور معنویت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
بشیر بدر کی اصل میراث یہی ہے کہ ہر دور میں کوئی نہ کوئی دل، کوئی نہ کوئی عاشق، کوئی نہ کوئی تنہا انسان ان کے اشعار میں اپنی کہانی تلاش کرتا رہے گا۔ ان کی شاعری محض لفظوں کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی جذبات کی ایک زندہ دستاویز ہے۔
بشیر بدر کی زندگی اور شاعری ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل عظمت شہرت یا ہجوم میں نہیں بلکہ ان لفظوں میں ہوتی ہے جو انسان کے دل میں گھر کر جائیں۔ وہ شاعر جس نے محبت، رواداری، یاد اور جدائی کے احساسات کو نئی زبان دی، آج جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن اس کے اشعار کروڑوں دلوں میں زندہ ہیں۔
ان کی خاموش رخصتی یقیناً ہمارے عہد کا ایک المیہ ہے، کیونکہ اس نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ ہم اپنے اہلِ قلم اور اہلِ فن کی قدر کس حد تک کرتے ہیں۔ مگر اس المیے کے باوجود بشیر بدر کی ادبی میراث ناقابلِ فراموش ہے۔ ان کے اشعار آج بھی محبت کرنے والوں کے لبوں پر ہیں، مشاعروں میں گونجتے ہیں، کتابوں میں محفوظ ہیں اور نئی نسلوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے رہیں گے۔
وقت گزر جائے گا، محفلیں بدل جائیں گی، چہرے بدل جائیں گے، لیکن جب بھی اردو غزل کی تاریخ لکھی جائے گی، بشیر بدر کا نام ایک ایسے شاعر کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے روایت کو جدید احساس کے ساتھ جوڑا اور غزل کو عام آدمی کے دل تک پہنچا دیا۔
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر بشیر بدر کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور اردو ادب کو ان کے فیض، ان کے افکار اور ان کے لازوال اشعار سے ہمیشہ منور رکھے۔ آمین۔


T M Zeyaul Haque 
+91-9718043174 / 9971143174

0 comments

Leave a Reply