دوسری جنگِ عظیم کی فائٹر ایئر اسٹرپ سے عالمی یومِ یوگا کے اسٹیج تک... کولکاتا کی ریڈ روڈ کی ان کہی داستان

کولکاتا: وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار (21 جون) کی صبح کولکاتا کی مشہور ریڈ روڈ پر ملک بھر کے عوام کے ساتھ 12واں عالمی یومِ یوگا منایا۔ آج جس مقام پر ہزاروں افراد کھلے آسمان تلے اجتماعی یوگا کر رہے تھے، وہ دراصل ایک ایسی تاریخی جگہ ہے جس کی اہمیت محض ایک سڑک سے کہیں بڑھ کر ہے۔

دینک جاگرن کی رپورٹ کے مطابق، سرکاری طور پر اندرا گاندھی سرنی کہلانے والی ریڈ روڈ ایک کشادہ شاہراہ ہے جو کولکاتا کے وسیع میدان (میدان) کے درمیان سے گزرتی ہے اور ایڈن گارڈنز کو فورٹ ولیم کے مغربی دروازے سے جوڑتی ہے۔ لیکن اس سڑک نے دوسری جنگِ عظیم کے ہنگامہ خیز دن بھی دیکھے ہیں، جب برطانوی فوج نے اسے اتحادی افواج کے جنگی طیاروں کے لیے ایک عارضی ہنگامی فضائی پٹی (ایئر اسٹرپ) میں تبدیل کر دیا تھا۔

ریڈ روڈ کی تاریخ

دی ٹیلی گراف کے مطابق، کولکاتا کی مشہور ریڈ روڈ کو ابتدا میں "سیکریٹریز واک" (Secretaries' Walk) کہا جاتا تھا۔ شہری تاریخ کے محقق دیباشیش بوس کے مطابق، غالباً یہ سڑک 1820 کے آس پاس تعمیر کی گئی تھی تاکہ گورنر جنرل کی رہائش گاہ (موجودہ راج بھون) کو شہر کے جنوبی علاقوں سے جوڑا جا سکے۔

بوس کے مطابق یہ راستہ گورنر جنرل کے سیکریٹری کے لیے ایک اہم گزرگاہ تھا۔ اس سے برطانوی حکام کو ان مصروف سڑکوں سے بچنے میں مدد ملتی تھی جو اس وقت کے بندرگاہی علاقے کڈرپور کو شہر کے تجارتی اور انتظامی مراکز سے ملاتی تھیں، جن میں اولڈ کورٹ ہاؤس اسٹریٹ، مشن روڈ اور بریبورن روڈ شامل تھیں۔

ریڈ روڈ کو یہ نام کیسے ملا؟

رپورٹ کے مطابق "ریڈ روڈ" نام کے پیچھے ایک مقامی روایت مشہور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سڑک کی تعمیر کے دوران اس کی سطح پر سرخ اینٹوں کے ٹکڑوں کی تہہ بچھائی گئی تھی، جس کے باعث مقامی لوگ اسے "ریڈ روڈ" کہنے لگے۔

کولکاتا کی تاریخ پر لکھی گئی کئی کتابوں میں اس سڑک کا ذکر "لیڈیز مائل" (Ladies' Mile) کے نام سے بھی ملتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یورپی خواتین صبح و شام کی سیر کے لیے اس راستے کا کثرت سے استعمال کرتی تھیں، اسی لیے یہ نام مشہور ہوا۔

جنگ کے دوران ریڈ روڈ کا کردار

دی ٹیلی گراف کے مطابق، دوسری جنگِ عظیم کے دوران جب کولکاتا پر جاپانی فضائی حملوں کا خطرہ منڈلا رہا تھا، تو ریڈ روڈ کو ایک عارضی ہوائی پٹی میں تبدیل کر دیا گیا۔ 1941 سے 1945 کے درمیان جنگی طیارے اسی سڑک سے پرواز کرتے اور یہیں اترتے تھے، جس سے برطانوی فوج کو ہنگامی حالات میں فوری کارروائی کا موقع ملتا تھا۔

مورخ سومیترا شریمانی کے مطابق، اس ایئر اسٹرپ کی تیاری کے لیے ٹرام لائنوں کا رخ تبدیل کیا گیا تھا۔ اگرچہ سڑک کی نسبتاً کم چوڑائی، دھند اور سنگِ مرمر کی ریلنگ کے باعث طیاروں کی آمدورفت میں مشکلات پیش آتی تھیں، اس کے باوجود جنگ کے دوران شہر کے دفاع میں اس سڑک نے اہم کردار ادا کیا۔

تاریخ کے اہم لمحات کی گواہ

جنگی سرگرمیوں کے علاوہ ریڈ روڈ کولکاتا کی اہم ترین تقریبات اور فوجی پریڈوں کا مرکز بھی رہی ہے۔ یہاں منعقد ہونے والی سب سے شاندار تقریبات میں سے ایک 1911 کی وہ پریڈ تھی جب بادشاہ جارج پنجم اور ملکہ میری کے کولکاتا دورے پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا تھا۔

آج بھی ہر سال 26 جنوری کو یومِ جمہوریہ کی ریاستی پریڈ اسی مقام پر منعقد ہوتی ہے۔ اکتوبر 1985 میں اس سڑک کا سرکاری نام تبدیل کرکے اندرا گاندھی سرنی رکھ دیا گیا، لیکن کولکاتا کے بیشتر باشندے آج بھی اسے اس کے تاریخی نام ریڈ روڈ ہی سے یاد کرتے ہیں۔

0 comments

Leave a Reply