بھارتی بحریہ میں تین نئے دیسی جنگی جہاز شامل، آئی این ایس دوناگیری براہموس میزائلوں سے لیس
بھارتی بحریہ کے پاس 145 کے قریب جنگی جہاز، سمندری جوہری صلاحیت میں اضافہ
کولکاتا: بھارتی بحریہ میں اتوار کے روز تین جدید اور مکمل طور پر مقامی طور پر تیار کردہ جنگی جہاز آئی این ایس دوناگیری، آئی این ایس سنشودھک اور آئی این ایس اَگرے شامل کر لیے گئے۔ ان جنگی جہازوں کو بھارت میں ہی ڈیزائن اور تعمیر کیا گیا ہے، جسے دفاعی خود کفالت کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم نریندر مودی بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ "نئے بھارت" کی سب سے بڑی طاقت کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت اب صرف دفاعی سازوسامان خریدنے والا ملک نہیں رہنا چاہتا بلکہ دفاعی شعبے میں خود انحصاری کو اپنی شناخت بنانا چاہتا ہے۔
آئی این ایس دوناگیری: براہموس میزائلوں سے لیس اسٹیلتھ فریگیٹ
آئی این ایس دوناگیری پروجیکٹ-17A کا پانچواں اسٹیلتھ فریگیٹ (جنگی جہاز) ہے، جسے اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ دشمن کے ریڈار کے لیے اس کا سراغ لگانا انتہائی مشکل ہو۔ یہ جنگی جہاز آٹھ براہموس سپر سونک کروز میزائلوں سے لیس ہے۔ اسے بھارتی بحریہ کے وار شپ ڈیزائن بیورو نے ڈیزائن کیا جبکہ کولکاتا کی گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز لمیٹڈ (GRSE) نے تیار کیا ہے۔ جہاز کے نامزد کمانڈنگ افسر کیپٹن دیویہ آلوک کے مطابق دوناگیری کو مشرقی بحری کمان اور ایسٹرن فلیٹ میں تعینات کیا جائے گا۔
آئی این ایس سنشودھک: سمندر کی نقشہ سازی اور سروے کے لیے
آئی این ایس سنشودھک سروے ویسل (لارج) سیریز کا چوتھا جہاز ہے۔ اس کا بنیادی مقصد جنگی کارروائیاں نہیں بلکہ سمندر کا سروے اور نقشہ سازی ہے۔
یہ جہاز ساحلی اور گہرے سمندری علاقوں میں ہائیڈروگرافک سروے، سمندری معلومات جمع کرنے اور دفاعی و شہری مقاصد کے لیے ڈیٹا فراہم کرنے کا کام انجام دے گا۔ اس کے علاوہ بندرگاہوں اور بحری راستوں کی پیمائش اور نگرانی بھی اس کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ یہ ایک بار میں تقریباً 12 ہزار کلومیٹر تک مسلسل سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آئی این ایس اَگرے: دشمن کی آبدوزوں کا تعاقب اور تباہی
آئی این ایس اَگرے ارنالا کلاس کا چوتھا اینٹی سب میرین وارفیئر شالو واٹر کرافٹ ہے، جو کم گہرے پانی میں دشمن کی آبدوزوں کا سراغ لگانے اور انہیں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ جہاز ہلکے ٹارپیڈوز، مقامی ساختہ راکٹ لانچرز اور جدید سونار سسٹم سے لیس ہے، جس کی مدد سے ساحلی علاقوں میں موجود دشمن کی آبدوزوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
فی الوقت بھارتی بحریہ کے پاس تقریباً 140 سے 145 فعال جنگی جہاز موجود ہیں۔ بحریہ کا ہدف ہے کہ 2030 تک ان کی تعداد بڑھا کر 150 سے 160 تک پہنچا دی جائے۔ بھارت اپنے جنگی جہازوں کو بنیادی طور پر تین بحری کمانڈز اور ایک اسٹریٹجک جزیرہ کمانڈ میں تعینات کرتا ہے۔ مشرقی بحری کمان (وشاکھاپٹنم) کے جنگی جہاز خلیج بنگال اور آبنائے ملاکا میں سرگرم رہتے ہیں، جبکہ مغربی بحری کمان (ممبئی اور کاروار) کے جہاز بحیرہ عرب میں پاکستان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور تجارتی بحری جہازوں کو قزاقوں سے محفوظ رکھنے کا کام انجام دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کی سمندری جوہری صلاحیت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر جوہری آبدوز آئی این ایس اریہنت ملک کی "سیکنڈ اسٹرائیک کیپیسٹی" کا اہم ستون بن چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق جوہری آبدوزوں پر بیلسٹک میزائلوں کی تعیناتی بھارت کو اس قابل بناتی ہے کہ دشمن کے ممکنہ پہلے حملے کے بعد بھی مؤثر جوابی کارروائی کر سکے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں جنگی جہاز محض بحری پلیٹ فارم نہیں بلکہ سمندر میں تیرتے ہوئے فوجی اڈے بن چکے ہیں، خصوصاً اس لیے کہ دنیا کی تقریباً 90 فیصد تجارت سمندری راستوں سے ہوتی ہے۔

0 comments