"نتیش کمار ایک بار پھر جے ڈی یو کے قومی صدر منتخب، نشانت کمار پارٹی کے "مستقبل
نشانت کمار کا کردار آئندہ دنوں میں انتہائی اہم ہوگا: راجیو رنجن پرساد
پٹنہ: جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) نے اتوار کو ایک بار پھر بہار کے سابق وزیراعلیٰ نتیش کمار کو پارٹی کا قومی صدر منتخب کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار کو جے ڈی یو کا "مستقبل" قرار دیتے ہوئے ان کے بڑھتے ہوئے سیاسی کردار کے اشارے دیے ہیں۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، جے ڈی یو کے قومی ترجمان راجیو رنجن پرساد نے پارٹی کی قومی کونسل کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نشانت کمار کا کردار آئندہ دنوں میں انتہائی اہم ہوگا۔ انہوں نے کہا، "نشانت جی کے حوالے سے عوام کی توقعات مسلسل مضبوط ہو رہی ہیں۔ پارٹی کے تمام رہنماؤں کا ماننا ہے کہ آنے والے وقت میں وہ ایک اہم ذمہ داری نبھائیں گے۔" پارٹی میں نشانت کمار کی قیادت کے امکانات سے متعلق سوال پر راجیو رنجن پرساد نے کہا، "بلاشبہ پارٹی کو یقین ہے کہ وہ طویل عرصے تک قیادت فراہم کریں گے اور ان کی سربراہی میں پارٹی مزید آگے بڑھے گی۔"
ادھر جے ڈی یو کے رکن پارلیمنٹ سنجے جھا نے بھی نشانت کمار کو پارٹی کا مستقبل قرار دیتے ہوئے کہا، "آج قومی کونسل اور ریاستی کونسل کے اجلاسوں میں اس موضوع پر گفتگو ہوئی۔ نشانت جی اس وقت حکومتی امور میں مصروف ہیں، لیکن مستقبل میں وہ پارٹی کے کام کاج میں بھی فعال کردار ادا کریں گے اور وہی اس جماعت کا مستقبل ہیں۔"
اس سے قبل بہار کے نائب وزیراعلیٰ اور جے ڈی یو کے سینئر رہنما وجے کمار چودھری نے بتایا کہ پارٹی کی قومی کونسل کے اجلاس میں نتیش کمار کو متفقہ طور پر دوبارہ قومی صدر منتخب کیا گیا۔
انہوں نے کہا، "قومی کونسل کے اجلاس میں ہمارے متفقہ اور مقبول رہنما نتیش کمار کو بلا مقابلہ ایک بار پھر قومی صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔"
اتوار کے روز پٹنہ میں سب سے پہلے جے ڈی یو کی ریاستی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا، جس کے بعد قومی کونسل کا اجلاس ہوا۔ انہی اجلاسوں میں نتیش کمار کی دوبارہ تقرری اور نشانت کمار کے مستقبل کے کردار سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق جے ڈی یو کی جانب سے نشانت کمار کو پارٹی کا "مستقبل" قرار دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ پارٹی آئندہ برسوں میں قیادت کی منتقلی کے لیے زمین ہموار کر رہی ہے، جبکہ نتیش کمار بدستور پارٹی کے سب سے بااثر رہنما بنے ہوئے ہیں۔

0 comments