قومی اردو کونسل کے نئے ڈائریکر کی تلاش شروع؛ ذرائع
فروغِ اردو بھون، جسولا کی راہداریوں میں ایک نئے دور کی آہٹ سنائی دینے لگی ہے
اشرف علی بستوی کی رپورٹ
نئی دہلی : (ایشیا ٹائمزنیوز بیرو) قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ،این سی پی یو ایل میں آئندہ ڈائریکٹر کے حوالے سے سرگرمیاں تیز ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزارتِ تعلیم اور متعلقہ حلقوں میں کونسل کے نئے ڈائریکٹر کی تلاش کا عمل شروع ہو چکا ہے، جس کے بعد اردو دنیا میں مختلف ناموں پر قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہو گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال، جن کی مدتِ کار کے اختتام میں ابھی تقریباً چار ماہ باقی ہیں، مقررہ مدت پوری ہونے سے قبل ہی اپنے سابق ادارے، نیشنل بک ٹرسٹ واپس جا سکتے ہیں
اگرچہ اس حوالے سے نہ تو کونسل اور نہ ہی وزارت تعلیم کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان کیا گیا ہے، تاہم اندرون خانہ ہونے والی مشاورتوں نے اردو حلقوں کی دلچسپی بڑھا دی ہے۔
ڈاکٹرشمس اقبال نے گزشتہ دنوں ایشیا ٹائمز کے یو ٹیوب چینل کو دیے ایک انٹرویو میں بطور ڈائریکٹر حاصل وسائل اوراختیارات میں جو کام کیا ہے اس پراطمینان کا اظہار کیا تھا ۔ تاہم بعض حلقے یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ موصوف قومی کونسل کوکوما کی حالت سے نکال کر متحرک کرنے کی کوشش تو کی لیکن کونسل کو درپیش بنیادی چیلنجز سے نکال پانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
اردو حلقوں کا ماننا ہے کہ نئے ڈائریکٹر کا اثر صرف کونسل کی انتظامیہ تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اردو کی تعلیمی، اشاعتی اور تکنیکی ترقی کے کئی اہم منصوبوں کی سمت بھی اسی تقرری سے متعین ہوگی ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی سے اردو حلقوں کی زبان پر اردو سے وابستہ شخصیات کے نام غیر رسمی گفتگو کا حصہ بننے لگے ہیں۔ سوشل میڈیا اور ادبی نشستوں میں یہ سوال موضوعِ بحث ہے کہ قومی اردو کونسل کی باگ ڈور اب کس کے ہاتھ میں ہوگی؟
فی الحال سرکاری سطح پر خاموشی ہے، لیکن اتنا طے ہے کہ فروغِ اردو بھون، جسولا کی راہداریوں میں ایک نئے دور کی آہٹ سنائی دینے لگی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ اردو کونسل کی اگلی اننگز کس کے نام ہوگی؟

0 comments