سرمنڈاتے ہی اولے پڑے : چند سالوں میں ہی رام مندر کے عطیات پر خراب ہو گئی نیت

ضرغام خان

ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر اور اس کے بعد ہونے والی پران پرتشٹھا کو ابھی چند سال ہی گزرے ہیں۔ اس عظیم الشان منصوبے کی گونج دنیا بھر میں ابھی باقی تھی کہ اچانک عطیات اور فنڈوں کے انتظام و انصرام کو لے کر سنگین سوالات اور بدعنوانی کے الزامات سر اٹھانے لگے ہیں۔ دیسی زبان کی وہ مشہور کہاوت کہ ”سرمنڈاتے ہی اولے پڑے“ اس صورتحال پر بالکل صادق آتی ہے۔ یعنی ابھی مندر کی تعمیر کا عمل مکمل طور پر پٹری پر چڑھا ہی تھا کہ عقیدت مندوں کی جیبوں سے نکلے ہوئے چندے پر کچھ عناصر کی نیت خراب ہونے کی خبریں منظر عام پر آنے لگی ہیں۔

جب ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا اعلان ہوا، تو ملک اور بیرون ملک سے کروڑوں رام بھکتوں نے اپنی بساط سے بڑھ کر عطیات دئے۔ غریب سے غریب انسان نے اپنی خون پسینے کی کمائی سے سو، دو سو روپے کا ہدیہ پیش کیا تو وہیں سرمایہ داروں نے کروڑوں کے چیک کاٹے۔ شری رام جنم بھومی تیرتھ کھیتر ٹرسٹ کے بینک کھاتوں میں دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں کروڑ روپے جمع ہو گئے۔

عوام کا یہ پیسہ صرف ایک مادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے نہیں تھا، بلکہ یہ کروڑوں لوگوں کے مذہبی جذبات، عقیدت اور اندھے اعتماد کا مظہر تھا۔ لیکن حالیہ عرصے میں جس طرح سے زمینوں کی خریداری، مالیاتی بے ضابطگیوں اور فنڈوں کے مبینہ غلط استعمال کی خبریں سامنے آئی ہیں، اس نے اس پورے اعتماد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
کسی بھی مذہبی یا فلاحی تحریک میں جب اندھا پیسہ آتا ہے، تو اس کے ساتھ شفافیت کا ہونا سب سے اولین شرط ہوتی ہے۔ لیکن رام مندر ٹرسٹ پر لگنے والے حالیہ الزامات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جہاں دولت کا انبار ہوتا ہے، وہاں نیتوں کا ڈگمگا جانا کوئی نئی بات نہیں۔

 ”زمینوں کی خریداری میں گھپلے“ سب سے بڑا تنازعہ ایودھیا میں مندر کے آس پاس کی زمینوں کی خریداری کو لے کر سامنے آیا۔ الزام ہے کہ جو زمینیں چند منٹ پہلے چند لاکھ یا کروڑوں میں خریدی گئیں، انہیں ہی ٹرسٹ نے چند منٹوں بعد کئی گنا زیادہ قیمت پر خرید لیا۔

 یہ الزامات بھی عام ہیں کہ مقامی انتظامیہ، زمین کے مافیا اور ٹرسٹ کے کچھ بااثر ارکان نے مل کر ایک ایسا نیٹ ورک بنایا جس کا مقصد عقیدت مندوں کے پیسے سے ذاتی تجوریاں بھرنا تھا۔

یہاں ایک بڑا سوال ہے کہ کیا کروڑوں غریبوں اور متوسط طبقے کے لوگوں نے اپنا پیٹ کاٹ کر چندہ اس لیے دیا تھا کہ چند بااثر افراد زمینوں کی دلالی کر کے راتوں رات ارب پتی بن جائیں؟

اس پورے منظر نامے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس سے عام ہندوستانی شہری اور عقیدت مند کا دل ٹوٹا ہے۔ جو لوگ مندر کو ایک پاکیزہ اور روحانی مرکز کے طور پر دیکھ رہے تھے، اب وہ اسے جائیداد کے تنازعات اور مالیاتی گھوٹالوں کی آماجگاہ بنتا دیکھ رہے ہیں۔ جب مذہب کے نام پر اکٹھا کیا گیا پیسہ سیاست اور کرپشن کی نذر ہونے لگے، تو سماج کا اخلاقی توازن بگڑ جاتا ہے۔

 شفافیت اور کڑے احتساب کی ضرورت

”سرمنڈاتے ہی اولے پڑے“ کا یہ منظر نامہ اب اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس معاملے کو محض ایک سیاسی تنازعہ سمجھ کر دبانے کی کوشش نہ کریں۔ اگر رام مندر کے فنڈز پر واقعی کسی کی نیت خراب ہوئی ہے، تو اس کی اعلیٰ سطحی اور شفاف تحقیقات ہونی چاہیے۔

شری رام کا نام ’مریادا‘ (اصول پسندی) اور سچائی کی علامت ہے۔ ان کے نام پر بننے والے مندر کے چندے میں ایک روپے کی بھی ہیرا پھیری نہ صرف قانوناً جرم ہے بلکہ کروڑوں دلوں کی عقیدت کے ساتھ ایک بہت بڑا دھوکہ ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ٹرسٹ کے تمام کھاتوں اور زمینوں کی ڈیلز کو پبلک ڈومین میں لایا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے، ورنہ تاریخ اس نیت کی خرابی کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔
 

0 comments

Leave a Reply