امریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات شروع، معاہدے کی امید
برگن اسٹاک (سوئٹزرلینڈ): امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے اب تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ اتوار کو سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک میں ہونے والی اس اہم ملاقات کے لیے امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے وفود وہاں پہنچ رہے ہیں۔ تاہم مذاکرات شروع ہونے سے قبل ہی مغربی ایشیا میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل پر مفاہمتی یادداشت (MoU) کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو بحری آمد و رفت کے لیے دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ 21 جون کو برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے، جن میں پاکستان اور قطر کے نمائندے ثالث کے طور پر شریک ہوں گے۔ اس ملاقات کا مقصد حال ہی میں طے پانے والی ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پر عمل درآمد کے لیے پیش رفت کرنا ہے۔
وفود سوئٹزرلینڈ پہنچنے لگے
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ وہ آئندہ چند دنوں میں سوئٹزرلینڈ روانہ ہونے کی توقع رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ کے سینئر نمائندے پہلے ہی وہاں پہنچ چکے ہیں اور مذاکرات کے تکنیکی پہلوؤں پر کام کر رہے ہیں۔ وینس نے دعویٰ کیا کہ اب تک بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس کا وفد سوئٹزرلینڈ پہنچ چکا ہے۔ سوئس وزارتِ خارجہ نے ایرانی وفد کی آمد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد کے عمل کا حصہ ہے۔
پاکستانی وزیراعظم اور آرمی چیف بھی شریک
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ سوئٹزرلینڈ پہنچ رہے ہیں۔ پاکستان خود کو اس امن عمل کا ایک اہم ثالث قرار دے رہا ہے، جبکہ قطر بھی مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا
مذاکرات شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ ایران کا الزام ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے حالیہ معاہدے کی پہلی شرط کی خلاف ورزی کی ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں اور ان میں امریکہ کا کردار معاہدے کے منافی ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش عالمی تیل کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، جس کے باعث مذاکرات کے نتائج پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔

0 comments