کربلا: دین، ایمان، عشق اور صبر کی لازوال داستان

ہمارے بچپن کی یادوں میں بھی محرّم الحرام ایک خاص مقام رکھتا ہے

 

ٹی ایم ضیاء الحق
تاریخ اس لیے پڑھائی جاتی ہے کہ انسان اپنے ماضی کو سمجھے، حال کو پہچانے اور مستقبل کو بہتر بنا سکے۔ یہ انسان میں تحقیق، تجزیے اور صحیح نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ تاریخ ہمیں قوموں کے عروج و زوال کے اسباب سے آگاہ کرتی ہے تاکہ ہم ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرائیں اور بہتر فیصلے کر سکیں۔
اسلامی تاریخ میں واقعۂ کربلا ایک ایسا روشن اور تابندہ باب ہے جو صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ حق و باطل کی دائمی کشمکش، ایمان و یقین کی طاقت، عشقِ الٰہی کی معراج اور صبر و استقامت کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ چودہ سو برس گزر جانے کے باوجود کربلا کا پیغام آج بھی زندہ ہے اور ہر دور کے انسان کو حق کے لیے کھڑے ہونے اور ظلم کے سامنے سر نہ جھکانے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ کے وصال کے بعد اسلامی دنیا میں مختلف سیاسی اور سماجی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ بعض حکمرانوں نے خلافت کو ایک دینی امانت کے بجائے موروثی اقتدار کی شکل دینے کی کوشش کی۔ جب یزید کی بیعت کا مطالبہ حضرت امام حسینؑ کے سامنے رکھا گیا تو آپؑ نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا، کیونکہ آپؑ جانتے تھے کہ یہ صرف ایک سیاسی معاملہ نہیں بلکہ دین کی روح اور اسلامی اقدار کا مسئلہ ہے۔ اگر امام حسینؑ خاموشی اختیار کر لیتے تو ظلم، جبر اور ناانصافی کو مذہب کا لبادہ مل جاتا۔ چنانچہ آپؑ نے حق کا عَلَم بلند کیا اور تاریخ کا رخ موڑ دیا۔
حضرت امام حسینؑ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور وہاں سے اہلِ کوفہ کے خطوط اور دعوت کے پیشِ نظر عراق کا سفر اختیار کیا۔ لیکن راستے میں حالات بدل چکے تھے۔ کوفہ کے لوگوں نے اپنی وفاداری کا وعدہ توڑ دیا اور یزیدی لشکر نے امام حسینؑ کے قافلے کو کربلا کے میدان میں روک لیا۔ محرم الحرام 61 ہجری میں فرات کا پانی بند کر دیا گیا اور اہلِ بیتؑ کو شدید پیاس اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا، مگر امام حسینؑ اور ان کے رفقاء نے حق کا راستہ نہیں چھوڑا۔
کربلا دین بھی ہے اور حاصلِ ایمان بھی۔ امام حسینؑ کی قربانی نے اسلام کی حقیقی روح کو زندہ رکھا۔ آپؑ نے ثابت کر دیا کہ ایمان صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ حق کی خاطر ہر قربانی دینے کا جذبہ بھی ایمان کا حصہ ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اسلام کو بقا تلوار سے نہیں بلکہ حسینؑ کی قربانی سے ملی۔
کربلا ایک رمز بھی ہے اور اس رمز کی پہچان بھی۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ حق اور باطل میں فرق کیسے کیا جائے، ظلم اور انصاف کے درمیان حدِ فاصل کو کیسے پہچانا جائے اور حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، اصولوں پر ثابت قدم کیسے رہا جائے۔ کربلا صرف ایک میدانِ جنگ نہیں بلکہ ایک مکتبِ فکر ہے، ایک درس گاہ ہے، جہاں سے انسان حریت، غیرت، خودداری اور عزتِ نفس کا سبق سیکھتا ہے۔
عشقِ الٰہی کی سب سے خوبصورت تصویر بھی کربلا میں نظر آتی ہے۔ امام حسینؑ اور ان کے جانثار ساتھیوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنی جانوں، اپنے بیٹوں، بھائیوں، بھتیجوں اور ساتھیوں کو قربان کر دیا۔ حضرت علی اکبرؑ، حضرت قاسمؑ، حضرت عباسؑ اور دیگر شہداء کی قربانیاں عشق و وفا کی لازوال مثالیں ہیں۔ یہ قربانیاں ہمیں بتاتی ہیں کہ اللہ کی محبت اور حق کی سربلندی کے لیے انسان کو ہر قسم کی آزمائش سے گزرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
کربلا صبر اور استقامت کی بھی معراج ہے۔ میدانِ کربلا میں بھوک، پیاس، تنہائی اور دشمنوں کے بے پناہ دباؤ کے باوجود امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ چھ ماہ کے معصوم حضرت علی اصغرؑ کی شہادت ہو یا جوان حضرت علی اکبرؑ کی قربانی، ہر منظر صبر اور رضا بالقضا کی ایک نئی مثال پیش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا صبر کے مضمون کا عنوان بن گئی ہے۔
واقعۂ کربلا کے بعد حضرت زینبؑ کا کردار بھی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ اگر امام حسینؑ نے میدانِ کربلا میں حق کی حفاظت کی تو حضرت زینبؑ نے اس پیغام کو دنیا تک پہنچانے کا عظیم فریضہ انجام دیا۔ قید و بند کی صعوبتوں اور بے شمار مصائب کے باوجود آپؑ نے یزید کے دربار میں حق کی آواز بلند کی اور دنیا کو بتا دیا کہ کربلا میں شکست نہیں بلکہ حق کی فتح ہوئی ہے۔ اسی لیے حضرت زینبؑ کو "پیامبرِ کربلا" بھی کہا جاتا ہے۔
برصغیر کے مسلمانوں نے بھی کربلا کے پیغام کو ہمیشہ زندہ رکھا ہے۔ ہندوستان میں محرّم الحرام صرف ایک مذہبی موقع نہیں بلکہ عقیدت، محبت اور تاریخی شعور کا مظہر ہے۔ مختلف شہروں میں مجالس، سبیلیں، جلوس اور دیگر مذہبی تقریبات منعقد ہوتی ہیں جو نئی نسل کو شہدائے کربلا کے پیغام سے روشناس کراتی ہیں۔
بہار، خصوصاً ضلع گیا، محرّم کی منفرد روایات کے لیے مشہور ہے۔ سات محرّم الحرام کو حضرت قاسمؑ کی مہندی کا جلوس نکالا جاتا ہے جو کربلا سے چھتّا مسجد تک آتا ہے۔ عاشورہ کے دن مختلف مذہبی اجتماعات منعقد ہوتے ہیں جبکہ گیا شہر میں گیارہ محرّم کو بھی بڑے پیمانے پر اکھاڑے اور جلوس نکالے جاتے ہیں جو یہاں کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کا حصہ بن چکے ہیں۔
اسی روحانی روایت کے تسلسل میں گیا کی خانقاہ چشتیہ منعمیہ میں ہر سال 10 محرّم الحرام، یومِ عاشوراء کے موقع پر ایک خصوصی مجلس منعقد ہوتی ہے۔ مجلس کا آغاز دوپہر بارہ بجے شہدائے کربلا کی نیاز سے کیا جاتا ہے، جس میں خصوصی طور پر دودھ کی نیاز تقسیم کی جاتی ہے۔ اس موقع پر عقیدت مندوں کی بڑی تعداد شریک ہوتی ہے اور اہلِ بیتِ اطہارؑ سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کرتی ہے۔
اس مجلس کو خانقاہ کے سجادہ نشین خطاب فرماتے ہیں۔ وہ واقعۂ کربلا، حضرت امام حسینؑ، اہلِ بیتِ اطہارؑ اور ان کے جانثار رفقاء کی عظیم قربانیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے حاضرین کو کربلا کے ابدی پیغامِ حق، صبر، وفا، ایثار اور استقامت سے روشناس کراتے ہیں۔
اس موقع پر خانقاہ میں محفوظ تبرکات کی زیارت بھی کرائی جاتی ہے، جسے عقیدت مند اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھتے ہیں۔ نیاز، زیارتِ تبرکات اور ذکرِ شہدائے کربلا پر مشتمل یہ روحانی و اصلاحی مجلس نمازِ ظہر سے قبل اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔
ہمارے بچپن کی یادوں میں بھی محرّم الحرام ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ جیسے ہی محرم کا چاند نظر آتا، پورا ماحول بدل جاتا۔ گلیوں میں علم نصب ہوتے، مجالس منعقد ہوتیں اور لوگ عقیدت کے ساتھ شہدائے کربلا کو یاد کرتے۔ سات محرّم کی مہندی اور گیارہ محرّم کے اکھاڑوں کا انتظار بچوں اور بڑوں سب کو رہتا تھا۔ اگرچہ اس وقت ہم کربلا کے فلسفے کو پوری طرح نہیں سمجھتے تھے، لیکن اہلِ بیتؑ سے محبت اور امام حسینؑ کی عظمت کا احساس ضرور ہمارے دلوں میں پیدا ہو جاتا تھا۔
آج جب ہم تاریخِ کربلا کا مطالعہ کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ صرف ماضی کا ایک واقعہ نہیں بلکہ حال اور مستقبل کے لیے بھی رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ دنیا کے ہر دور میں حق اور باطل کی کشمکش جاری رہتی ہے اور کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، سچائی، انصاف اور اصولوں کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ کربلا انسانیت کے لیے ایک ابدی درس گاہ ہے۔ یہ ہمیں حق، عدل، وفا، قربانی، صبر اور استقامت کا سبق دیتی ہے۔ امام حسینؑ کی قربانی صرف مسلمانوں کا سرمایہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے۔ جب تک دنیا قائم ہے، کربلا کا پیغام زندہ رہے گا اور انسانوں کو عزت، حریت اور حق پسندی کا راستہ دکھاتا رہے گا۔
کربلا دین بھی ہے، حاصلِ ایمان بھی ہے؛ کربلا رمز بھی ہے، رمز کی پہچان بھی ہے؛ کربلا عشق کی تصویر کا سامان بھی ہے اور صبر کے مضمون کا عنوان بھی۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک زندہ اور دائمی پیغام ہے جو ہر دور میں انسانیت کو روشنی فراہم کرتا رہے گا۔

T M Zeyaul Haque 
+91-9718043174 / 9971143174

0 comments

Leave a Reply