مکہ ڈیفنس ایگریمنٹ: کیا بدل رہا ہے مغربی ایشیا کا سکیورٹی منظرنامہ؟

گفتگو : اشرف علی بستوی

نئی دہلی:  ( ایشیا تائمز نیوز) پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان حالیہ مکہ ڈیفنس ایگریمنٹ نے مغربی ایشیا کے بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ، تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ایسے وقت میں جب ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان کشیدگی جاری ہے، اس معاہدے کو خطے کی سلامتی کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی پس منظر میں ایشیا ٹائمز نے مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان سے خصوصی گفتگو کی۔ پیش ہے گفتگو کے اہم اقتباسات:

سوال: ڈاکٹر صاحب ! آپ مکہ ڈیفنس ایگریمنٹ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ 

ڈاکٹر ظفر الاسلام خان:اسے سمجھنے کے لیے ہمیں 1973 میں سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کو سمجھنا ہوگا۔ اس معاہدے کی بنیادی بات یہ تھی کہ امریکہ سعودی عرب کو سکیورٹی فراہم کرے گا اور اس کے بدلے سعودی عرب امریکی اقتصادی نظام کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

اس نظام کا ایک اہم حصہ یہ تھا کہ تیل کی فروخت ڈالر میں ہوگی۔ سعودی عرب اوپیک کا سب سے بڑا اور بااثر ملک تھا اور اب بھی ہے۔ جب دنیا کے ممالک کو تیل خریدنے کے لیے ڈالر کی ضرورت پڑی تو عالمی مارکیٹ میں ڈالر کی مانگ بہت بڑھ گئی اور ڈالر بہت طاقتور ہوگیا۔اس سے پہلے تیل مختلف کرنسیوں میں خریدا جا سکتا تھا، لیکن اس نظام کے بعد صرف  امریکی  ڈالر  میں خریدا جاسکتا ہے جو اب بھی جاری ہے۔

سوال: تیل کی فروخت سے ڈالر کو اتنی طاقت کیسے ملی؟ 

ڈاکٹر ظفر الاسلام خان:اس کا تعلق 1971-72 کے اس دور سے ہے جب امریکہ نے ڈالر کا سونے کے ساتھ براہِ راست تعلق ختم کردیا۔ اس کے بعد  سے ڈالر کی قدر کا انحصار بڑی حد تک امریکی اقتصادی اور سیاسی طاقت پر ہوگیا اور امریکہ کو اپنی کرنسی من مانے طور پر چھاپنے کا لائسنس مل گیا۔

عام ممالک اگر ضرورت سے زیادہ کرنسی چھاپیں تو افراطِ زر پیدا ہوتا ہے اور ان کی  کرنسی کی  قیمت گر جاتی  ہے۔ لیکن امریکہ  کے لیے صورتحال مختلف رہی، کیونکہ اب  پوری دنیا کو ڈالر کی ضرورت تھی۔

امریکہ نے اپنی اقتصادی طاقت کو فوجی طاقت کے ساتھ بھی جوڑ دیا۔ دنیا کے مختلف حصوں میں اس کے  ۸۵۰ فوجی اڈے قائم ہوئے اور یہی اس کی عالمی اثر و رسوخ کی ایک بڑی بنیاد بن گئی۔

سوال: اس پورے نظام میں سعودی عرب کا بنیادی کردار کیا تھا؟ 

ڈاکٹر ظفر الاسلام خان:سعودی عرب نے امریکی ڈالر کو عالمی سطح پر مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور اس کے بدلے امریکہ نے سعودی عرب اور خلیجی خطے کی سکیورٹی کی ذمہ داری قبول کی۔

اسی مقصد کے تحت خلیجی خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ ہوا۔ سعودی عرب، عمان، کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین  اور قطر سمیت کئی ممالک میں امریکی فوجی اڈے قائم ہوئے۔

اس نظام کا ایک بڑا امتحان 1991 میں ہوا، جب صدام حسین کی عراقی فوج نے کویت پر قبضہ کرلیا۔ امریکہ نے فوجی کارروائی کرکے عراقی فوج کو کویت سے نکال دیا، لیکن اس کے بدلے خلیجی ممالک سے بہت بڑی اقتصادی قیمت بھی وصول کی گئی۔

سوال: کتنی قیمت؟

ڈاکٹر ظفر الاسلام خان:میرے علم کے مطابق  اس کام کے لئے سعودی عرب سے 70 ارب ڈالر اور کویت سے بھی ً 70 ارب ڈالر لیے گئے۔ یعنی مجموعی طور پر تقریباً 140 ارب ڈالر۔

یہ معمولی رقم نہیں ہے۔ لیکن اس پہلو پر عام طور پر  بات نہیں کی جاتی۔

سوال: موجودہ صورتحال میں غزہ کی جنگ اور ایران کے درمیان آپ کیا تعلق دیکھتے ہیں؟

ڈاکٹر ظفر الاسلام خان:میرا تجزیہ یہ ہے کہ غزہ میں جاری جنگ وسیع تر علاقائی کشمکش کا حصہ ہے اور اس کے مرکز میں ایران ہے۔

گزشتہ برسوں میں عراق، شام، یمن، سوڈان، لیبیا اور فلسطینی تنظیموں سمیت کئی ا تمام مراکز تباہ کئے گئے جو اسرائیل کی مخالفت یا مزاحمت سے وابستہ تھے۔

اس کے بعد خطے میں ایران ایک بڑی طاقت کے طور پر باقی رہتا ہے جو اب بھی اسرائیل کی مزاحمت کرتا ہے۔ اسی لیے میرے خیال میں امریکہ اور اسرائیل کی حکمت عملی میں ایران کو کمزور کرنا ایک اہم مقصد ہے۔

سوال: ایران نے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی بات کیوں کی؟

ڈاکٹر ظفر الاسلام خان:ایران کا پیغام واضح رہا ہے کہ اگر اس کے خلاف امریکہ یا اسرائیل کارروائی کرے گا تو وہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنا ئے گا۔

اہم بات یہ ہے کہ ایران نے خلیجی ممالک کے شہروں یا ان کے اقتصادی مراکز کو براہِ راست نشانہ بنانے کے بجائے امریکی فوجی تنصیبات کو ہدف بنایا ہے۔یہ ایک طرح سے پیغام ہے کہ اس کا تنازعہ خلیجی ممالک کی عوام یا ان کی معیشت سے نہیں بلکہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں  سے ہے جہاں سے ایران پر حملے ہو رہے ہیں۔

سوال: کیا اس صورتحال سے سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھی ہے؟

ڈاکٹر ظفر الاسلام خان:یقیناً۔ 1973 سے جس سکیورٹی نظام پر خلیجی ممالک نے اعتماد کیا تھا، اس کی بنیاد یہی تھی کہ امریکہ ان کی حفاظت کرے گا۔

لیکن اگر ایران علاقے میں  امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بناتا ہے اور امریکہ انہیں مکمل طور پر محفوظ نہیں رکھ پاتا تو فطری طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سکیورٹی نظام کی حقیقی صلاحیت کتنی ہے۔

یہیں سے نئے سکیورٹی معاہدوں کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور مکہ ڈیفنس ایگریمنٹ کو بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

سوال: کیا اقتصادی انحصار بھی اس پورے معاملے کا حصہ ہے؟

ڈاکٹر ظفر الاسلام خان:بالکل۔ خلیجی ممالک نے طویل عرصے سے امریکہ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے اور امریکی ٹریژری سکیورٹیز میں بھی ان کی خطیر رقوم موجود ہیں۔ یہ امریکا کی اس  یقین دہانی کی بنیاد پر تھا کہ امریکا ان کو حفاظت فراہم کرے گا۔

ان ممالک کا امریکی اسلحہ اور دفاعی نظام پر بھی انحصار رہا ہے۔ اس لیے سکیورٹی اور اقتصادی نظام ایک دوسرے سے گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔

اسی بنیاد پر خلیجی ممالک کے سارے پیسے امریکہ میں انوسٹ ہیں ۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کسی بحران کے دوران کوئی  ملک  اپنے  اثاثے یا سرمایہ کاری واپس لانا چاہے تو کیا وہ کر پائے گا۔   اس سے پہلے کسی نہ کسی بہانے سے امریکہ عراق، شام اور لیبیا وغیرہ کے پیسے ہڑپ کر چکا ہے۔ یہ وہ سوال ہے جس پر اب خلیجی ممالک کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔

سوال: تو کیا مکہ ڈیفنس ایگریمنٹ اسی بدلتی ہوئی سوچ کا اظہار ہے؟

ڈاکٹر ظفر الاسلام خان:میں اسے خطے کے سکیورٹی نظام میں ایک اہم تبدیلی کے اشارے کے طور پر دیکھتا ہوں۔ یہ صرف تین ممالک کے درمیان ایک فوجی معاہدہ نہیں ہے بلکہ اس بات کا اظہار بھی ہے کہ خطے کے ممالک  اب اپنی سلامتی کے لیے متبادل اور کثیر ملکی انتظامات پر سنجیدگی سے  غور کر رہے ہیں۔

اگر یہ نظام آگے بڑھتا ہے تو مغربی ایشیا میں سکیورٹی، فوجی اتحاد اور طاقت کے توازن کی سیاست پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اور کچھ دوسرے ممالک جیسے قطر بلکہ ایران بھی اس کا حصہ بن سکتے ہیں۔

 

0 comments

Leave a Reply