نفرت کی سیاست اور ہندوستان کا مستقبل: سوشلسٹ پارٹی انڈیا کی خصوصی میٹنگ میں اہم امور پر غور

میٹنگ میں سوشلسٹ پارٹی انڈیا کے چیف جنرل سیکریٹری ڈاکٹر سندیپ پانڈے، دہلی اسٹیٹ کے صدر ابھے سنہا، ڈاکٹر ریتوجا، پروفیسر تنو، ایڈووکیٹ آکاش اور ایڈووکیٹ سوشانت نے شرکت کی


نئی دہلی:(پریس ریلیز )سوشلسٹ پارٹی انڈیا، دہلی کی ایک خصوصی میٹنگ 2 اگست کو جسولا ہائٹس میں پارٹی کے چیئرمین پارلیمانی بورڈ سید تحسین احمد کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتِ حال، بڑھتی ہوئی مذہبی کشیدگی اور ’’نفرت کی سیاست اور ہندوستان کا مستقبل‘‘ کے موضوع پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
میٹنگ میں سوشلسٹ پارٹی انڈیا کے چیف جنرل سیکریٹری ڈاکٹر سندیپ پانڈے، دہلی اسٹیٹ کے صدر ابھے سنہا، ڈاکٹر ریتوجا، پروفیسر تنو، ایڈووکیٹ آکاش اور ایڈووکیٹ سوشانت نے شرکت کی۔
اجلاس میں شرکا نے کہا کہ ہندوستان محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ مختلف مذاہب، زبانوں، تہذیبوں اور ثقافتوں کا حسین گلدستہ ہے۔ ملک کی جمہوری بنیاد مذہبی رواداری، باہمی احترام، مساوات اور آئین کی بالادستی پر قائم ہے، جبکہ آئین ہر شہری کو مذہب، ذات، زبان اور نسل کی تفریق کے بغیر مساوی حقوق فراہم کرتا ہے۔
میٹنگ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران انتخابی سیاست میں مذہبی جذبات اور پولرائزیشن کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے، جس سے خصوصاً مسلمانوں میں عدم تحفظ اور سماج میں باہمی اعتماد کے فقدان کا احساس بڑھ رہا ہے۔
پارٹی رہنماؤں کے مطابق ’’لو جہاد‘‘، ’’لینڈ جہاد‘‘، ’’یو پی ایس سی جہاد‘‘، گؤکشی، مدارس، دہشت گردی، پاکستان، بیف، بنگلہ دیشی، وقف، مساجد، حلال کاروبار اور مسلم تاجروں جیسے مختلف موضوعات کو بار بار سیاسی بحث کا حصہ بنانے سے ایک پوری برادری کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کا ماحول پیدا ہوا ہے، جس کا نقصان ملک کی مشترکہ تہذیب اور سماجی ہم آہنگی کو پہنچ رہا ہے۔
اجلاس میں بعض ریاستوں میں ہونے والی بلڈوزر کارروائیوں اور وقف املاک سے متعلق حکومتی رویے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکا نے کہا کہ ایسے اقدامات سے مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دیگر اقلیتی تعلیمی اداروں سے متعلق وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والے تنازعات کا بھی اجلاس میں ذکر کیا گیا۔
شرکا نے حالیہ جنتر منتر احتجاج کے دوران اور اس کے بعد مسلم طلبہ و طالبات کے خلاف ایف آئی آر درج کیے جانے کے معاملے پر بھی تشویش ظاہر کی اور مطالبہ کیا کہ قانون کا نفاذ بلاامتیاز اور آئینی اصولوں کے مطابق کیا جائے۔
میٹنگ میں سیاسی رہنماؤں کے متنازع اور اشتعال انگیز بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں عوامی نمائندوں کے بیانات کو آئینی اقدار، قانون اور باہمی احترام کے دائرے میں پرکھا جانا چاہیے۔ پارٹی نے مبینہ فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز بیانات کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جو سیاسی رہنما آئینی اقدار اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والی سیاست کریں، انہیں اقتدار میں رہنے کا اخلاقی جواز نہیں ہونا چاہیے۔
اجلاس میں مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوال اٹھائے جانے کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ شرکا نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کسی ایک مذہب یا برادری کی قربانیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دیگر برادریوں کی مشترکہ جدوجہد اور قربانیوں سے آزادی حاصل ہوئی۔
میٹنگ میں مولانا ابوالکلام آزاد، اشفاق اللہ خان، خان عبدالغفار خان، حکیم اجمل خان، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، حسرت موہانی اور یوسف مہر علی سمیت آزادی کے مختلف مجاہدین کی خدمات کو یاد کیا گیا۔ شرکا نے کہا کہ یوسف مہر علی سے منسوب ’’Quit India‘‘ کا نعرہ 1942 کی تحریکِ آزادی میں برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت کی ایک اہم علامت بن گیا تھا۔
سوشلسٹ پارٹی انڈیا نے کہا کہ آزادی کی جدوجہد میں مسلمانوں کی قربانیوں کو نظرانداز کرکے ان کی حب الوطنی پر سوال اٹھانا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے۔ پارٹی کے مطابق ملک کو آج نفرت، تقسیم اور مذہبی کشیدگی کے بجائے تعلیم، روزگار، صحت، انصاف، سماجی مساوات اور آئینی بالادستی کی ضرورت ہے۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ملک کی حقیقی طاقت اس میں ہے کہ ہر شہری، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب، زبان یا طبقے سے ہو، خود کو محفوظ، باعزت اور مساوی ہندوستانی محسوس کرے۔ پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ نفرت وقتی سیاسی فائدہ دے سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں یہ سماجی اتحاد اور قومی یکجہتی کو کمزور کرتی ہے، جبکہ انصاف، برابری، محبت اور آئین کی بالادستی ہندوستان کو مضبوط اور متحد بنانے کا راستہ فراہم کرتی ہے۔
اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ 14 اور 15 اگست کو امرتسر، پنجاب میں ہونے والی سوشلسٹ پارٹی انڈیا کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ میں ان تمام امور پر مزید تفصیلی بحث کی جائے گی اور موجودہ حالات سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط سیاسی اور سماجی روڈ میپ تیار کیا جائے گا۔
پارٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، آئینی اقدار، مذہبی رواداری اور سماجی انصاف کے تحفظ کے لیے جمہوری اور آئینی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

0 comments

Leave a Reply